امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے ایران میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے وہاں زیرِ تعلیم بھارتی طلبہ، بالخصوص وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے فوری اور مؤثر مداخلت کی اپیل کی ہے۔
جے کے ایس اے نے خط میں ایران کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بدامنی، وسیع پیمانے پر احتجاجات، پرتشدد کریک ڈاؤن اور ہلاکتوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ایران میں بڑی تعداد میں بھارتی طلبہ، جن میں اکثریت کشمیری طلبہ کی ہے، ایم بی بی ایس اور دیگر طبی و پیشہ ورانہ کورسز میں زیرِ تعلیم ہیں، جو کم لاگت تعلیم اور بھارت-ایران کے دیرینہ تعلیمی تعلقات کے باعث وہاں گئے ہیں۔
جے کے ایس اے کے قومی کنوینر ناصر خُوہامی نے کہا کہ اس وقت ایران کے مختلف صوبوں میں تقریباً دو ہزار کشمیری طلبہ میڈیکل یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ مقامی ہاسٹلز، جامعات، پبلک ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اندرونی خلفشار اور سیاسی بے چینی کے دوران وہ نہایت غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔
ناصر خُوہامی کے مطابق موجودہ حالات نے طلبہ میں خوف، بے یقینی اور بے بسی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ “ہمیں طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے مسلسل تشویشناک فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں نقل و حرکت پر پابندیوں، انٹرنیٹ کی جزوی یا مکمل بندش، بروقت حفاظتی ہدایات کے فقدان اور زمینی سطح پر ہنگامی اقدامات کی عدم موجودگی پر سنگین خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ بروقت معلومات اور مؤثر رابطے کے فقدان نے بھارت میں موجود والدین اور اہلِ خانہ کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر زمینی صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگا پا رہے، جس کے باعث شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔
جے کے ایس اے نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزارتِ خارجہ کو ہدایت دیں کہ تہران میں بھارتی سفارت خانے اور ایران میں مقیم بھارتی طلبہ کے درمیان چوبیس گھنٹے فعال، مؤثر اور مخصوص رابطہ نظام قائم کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے سفارت خانے کی جانب سے باقاعدہ رسائی، ہنگامی ہیلپ لائنز کی فعالی، واضح اور بروقت ایڈوائزریز کے اجرا اور بلا تعطل مواصلاتی ذرائع کی فراہمی کی بھی اپیل کی، تاکہ طلبہ کو ہر وقت معلومات اور اعتماد میسر رہے۔
صورتحال کی سنگینی اور غیر یقینی کو اجاگر کرتے ہوئے جے کے ایس اے نے ایک جامع انخلا (ایویکوایشن) منصوبے کی فوری تیاری کا بھی مطالبہ کیا۔ ناصر خُوہامی نے کہا، “اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں یا اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں تو بروقت انخلا جان بچانے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومتِ ہند کو ہر حال میں طلبہ کی محفوظ واپسی کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”
ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ بیرونِ ملک زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کی سلامتی، وقار اور بہبود ایک اجتماعی قومی ذمہ داری ہے اور اسے ہر صورت ترجیح دی جانی چاہیے۔ جے کے ایس اے کے مطابق حکومت کی بروقت اور مضبوط کارروائی نہ صرف قیمتی جانوں کا تحفظ کرے گی بلکہ طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو اطمینان بھی فراہم کرے گی اور بیرونِ ملک اپنے شہریوں کے تئیں بھارت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری کی توثیق ہوگی۔
وزیر اعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جے کے ایس اے نے کہا کہ بھارت نے ماضی میں بھی عالمی سطح پر بحران کے اوقات میں اپنے شہریوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے، اور امید ظاہر کی کہ موجودہ صورتحال میں بھی حکومت اسی عزم، حساسیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ وہ طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حکومت و متعلقہ اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون، رابطہ کاری اور معلومات کی فراہمی کے لیے دستیاب رہے گی۔








