امت.نیوز ڈیسک:/
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا قدم اٹھایا۔ امریکہ نے ایسے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ان ممالک کو نشانہ بنایا جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے ایسے مملاک پر امریکہ کے ساتھ تمام کاروباری لین دین پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور یہ حکم حتمی اور فیصلہ کن ہے۔ "ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکہ کے ساتھ کیے گئے تمام کاروبار پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ یہ حکم حتمی ہے۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!”
امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کے 25 فیصد محصولات عائد کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای کی حکومت کو معاشی طور پر تنہا کرنے کا امریکی صدر کا فیصلہ بہت متاثر کن ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے گراہم نے لکھا کہ ”ان اقدامات کے ذریعے اس (ایران) حکومت کو معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے میں آپ کی فیصلہ کن قیادت بہت متاثر کن ہے۔”
اسرائیل نواز سینیٹر لڈسے گرام نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف اکساتے ہوئے کہا کہ ”مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہونے اور حکومت کو متنبہ کرنے کے آپ کے وعدے کی وجہ سے اس بنیاد پرست حکومت کے خلاف اپنے قیام کے بعد سے پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر اترے۔ مجھے یقین ہے کہ ایرانی حکومت نے سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔ وہ بڑی تعداد میں اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں اور آپ کی قیادت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اب فیصلہ کن فوجی کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔ زمین پر فوجی نہیں جائیں گے- بس ان لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔”
مغربی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 544 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 10,681 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔ اس سے قبل اتوار کو (مقامی وقت کے مطابق)، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ملک گیر احتجاج کے درمیان واشنگٹن کو ایران کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے مذاکرات کے لیے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے۔ ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی رہنماؤں نے سفارتی بات چیت کے لیے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران ان کے ساتھ سفارتی بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ٹرمپ نے اثبات میں جواب دیا۔ "وہ چاہتے ہیں،” ٹرمپ نے کہا کہ نے کل بات چیت کے لیے فون کیا۔ ایرانی رہنماؤں نے کال کیا۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ امریکہ کے ہاتھوں مار کھانے سے تھک گئے ہیں۔ ایران بات کرنا چاہتا ہے۔’
امریکی صدر نے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ ایک ملاقات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے اندر زمینی صورت حال واشنگٹن کو مذاکرات سے قبل کارروائی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے.










