امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 12 جنوری: متحدہ مجلسِ علماء (ایم ایم یو)، جو جموں و کشمیر میں اسلامی مذہبی تنظیموں کا سب سے بڑا اتحاد ہے، نے وادی کشمیر میں پولیس کی جانب سے مساجد، ان کی انتظامی کمیٹیوں، ائمہ، خطباء اور مذہبی اداروں سے وابستہ افراد حتیٰ کہ ان کے اہلِ خانہ سے متعلق تفصیلی اور حساس معلومات جمع کرنے کی جاری کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
ایم ایم یو کے مطابق پولیس کی جانب سے کئی صفحات پر مشتمل فارم تقسیم کیے جا رہے ہیں، جن میں نہایت ذاتی اور حساس نوعیت کی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔ ان میں شناختی دستاویزات کی تفصیلات، خاندانی معلومات، مالی امور، فون نمبرز، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پروفائلز، پاسپورٹ تفصیلات، سفری ریکارڈ، موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبرز اور دیگر ذاتی ڈیٹا شامل ہے۔ اس کے علاوہ مساجد کی مسلکی شناخت — بریلوی، حنفی، دیوبندی یا اہلِ حدیث — بھی طلب کی جا رہی ہے۔
ایم ایم یو نے کہا کہ اس غیر معمولی اور جارحانہ ڈیٹا کلیکشن کی کارروائی نے مذہبی اداروں، ائمہ و خطباء اور عام عوام میں شدید بے چینی اور خوف پیدا کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام آئینِ ہند میں دیے گئے بنیادی حقوق، بالخصوص حقِ رازداری اور ذاتی معلومات کے تحفظ، کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مساجد عبادت، رہنمائی اور سماجی خدمت کے مقدس مراکز ہیں اور ان کے اندرونی مذہبی معاملات کو کسی بھی صورت میں من مانی نگرانی اور مداخلت کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔
ایم ایم یو نے واضح کیا کہ جس نوعیت اور حد تک معلومات طلب کی جا رہی ہیں وہ کسی بھی معمول کی انتظامی ضرورت سے کہیں آگے ہیں، جس سے نیت پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں اور یہ تاثر ملتا ہے کہ مذہبی اداروں کو دباؤ اور نگرانی کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی کہ یہ کارروائی صرف جموں و کشمیر کی مسلم برادری تک محدود ہے، جو اس کے مقاصد کو مزید مشکوک بناتی ہے۔
ایم ایم یو کا کہنا ہے کہ منتخب حکومت کو فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے اور اس کارروائی کو فی الفور روکا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے اعتماد مجروح ہو رہا ہے، مذہبی ذمہ داران میں خوف پیدا ہو رہا ہے اور ریاست کی مسلم برادری کو ایک تشویشناک پیغام جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح مساجد اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر ضروری بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
متحدہ مجلسِ علماء نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کارروائی کو بلا تاخیر واپس لے، مذہبی اداروں کی خود مختاری کا احترام کرے اور آئین کے تحت فراہم کردہ مذہبی آزادی، رازداری اور شہریوں کے وقار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
ایم ایم یو نے مزید کہا کہ اگر یہ کارروائی جاری رہی تو تنظیم جلد ہی اپنی رکن جماعتوں اور سینئر مذہبی قیادت کا اجلاس طلب کرے گی، جس میں معاملے پر غور و خوض کے بعد آئندہ لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔
—











