امت نیوز ڈیسک //
راجوری، 17 جنوری : جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کی تھنہ منڈی اسمبلی نشست سے آزاد رکنِ اسمبلی مظفر اقبال خان نے ہفتہ کے روز کہا کہ چناب ویلی اور پیر پنجال خطے کے عوام جموں کے لیے علیحدہ ریاست کے مطالبے کی حمایت نہیں کرتے، جو ان کے مطابق چند حاشیے پر موجود عناصر کی جانب سے اٹھایا جا رہا ہے۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مظفر اقبال خان نے کہا کہ اگر جموں علیحدہ ریاست کے مطالبے پر اصرار کرتا ہے تو پھر چناب ویلی، جس میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع شامل ہیں، اور پیر پنجال خطہ، جس میں راجوری اور پونچھ اضلاع آتے ہیں، کو بھی علیحدہ ریاستی درجہ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے طویل عرصے سے ترقی اور ادارہ جاتی تقسیم کے معاملے میں امتیاز اور نظراندازی کا شکار رہے ہیں۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق، خان نے الزام لگایا کہ بڑے ادارے اور اہم ترقیاتی منصوبے مسلسل جموں کو دیے جاتے ہیں، جبکہ راجوری اور پونچھ جیسے علاقوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمس، آئی آئی ایم اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبے جموں میں قائم کیے گئے، جبکہ پیر پنجال اور چناب ویلی کو اس کے مقابلے میں بہت کم یا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا، “اگر جموں کو علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے کا حق ہے تو پیر پنجال کے عوام کو بھی اپنی الگ ریاست کا مطالبہ کرنے کا پورا حق ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ مسلسل عدم توازن نے علاقائی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
ایم ایل اے نے مزید کہا کہ چناب ویلی اور پیر پنجال کے عوام کو جغرافیائی، سماجی اور ترقیاتی لحاظ سے الگ نوعیت کے مسائل درپیش ہیں، جن کے پیش نظر ان علاقوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے الگ انتظامی توجہ دی جانی چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مظفر اقبال خان ایک سابق جج ہیں، جنہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور 2024 کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کو شکست دے کر آزاد امیدوار کی حیثیت سے تھنہ منڈی اسمبلی نشست جیتی۔ وہ 2024 سے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں۔ [کے این ٹی]










