امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 5 فروری : پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے جموں و کشمیر اسمبلی میں سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں اور نمائندگی سے متعلق موجودہ پالیسیاں کشمیری نوجوانوں کے لیے ایک ’’وجودی خطرہ‘‘ بن چکی ہیں اور اس کے نتائج 1987 سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر کے خطبے پر بحث کے دوران سجاد لون نے سرکاری دستاویز کو ’’غیر جذباتی اور افسر شاہی اسکرپٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عوامی مشکلات، آرٹیکل 370 کی منسوخی، اسٹیٹ ہُڈ اور ہزاروں نظر بند افراد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’کیا ہم کسی خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں؟‘‘
سجاد لون نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی آبادی تقریباً 60 فیصد ہے، لیکن سرکاری ملازمتوں میں حصہ صرف 25 سے 30 فیصد تک محدود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ ریزرویشن پالیسی اس عدم توازن کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کر کے، پولیس ویریفکیشن سے محروم رکھ کر اور روزگار کے مواقع بند کر کے معاشرے کو خطرناک سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔
نیشنل کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ وہ دہائیوں تک مرکز کے ساتھ اقتدار میں رہی ہے، اس لیے اب مظلومیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے پی ایس اے اور پوٹا جیسے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا زیادہ تر استعمال کشمیر میں ہوا۔
سجاد لون نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جہاں پڈوچیری میں متعدد بار اسٹیٹ ہُڈ کی قراردادیں منظور ہوئیں، وہیں جموں و کشمیر اسمبلی نے آج تک اس حوالے سے ایک بھی قرارداد منظور نہیں کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ریزرویشن کا مسئلہ جموں و کشمیر کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے سیاسی قیادت سے دہری زبان ترک کرنے اور دہلی و سرینگر میں ایک ہی سچ بولنے کی اپیل کی۔





