امت نیوز ڈیسک //
جموں، 5 فروری: جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید کَرّا نے جمعرات کے روز مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے واضح ٹائم لائن کا اعلان کرے۔ انہوں نے یہ مطالبہ قانون ساز اسمبلی میں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر تحریکِ تشکر میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔
طارق حمید کَرّا نے کہا کہ عوام کی بنیادی اور سب سے بڑی مانگ اسٹیٹ ہُڈ کی بحالی ہے، لیکن اس اہم مسئلے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کہتی ہے کہ مناسب وقت پر اسٹیٹ ہُڈ دیا جائے گا تو یہ مناسب وقت کب آئے گا اور اس کا معیار کیا ہے؟
کانگریس رہنما نے کشمیری پنڈتوں کی وادی میں واپسی اور بازآبادکاری کے لیے تمام جماعتوں پر مشتمل ایم ایل ایز کی ایک مستقل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی محض علامتی یا مالی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک جامع، مستقل اور باوقار منصوبہ درکار ہے جو ان کی سلامتی، معاشی استحکام اور سماجی حقوق کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جمہوری عمل سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی بحال ہوا، ورنہ یہ اسمبلی وجود میں ہی نہ آتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب میں کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری اور 1947، 1965 اور 1971 کے مہاجرین کے مسائل جیسے اہم انسانی امور کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔
بالواسطہ طور پر بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کَرّا نے کہا کہ جہاں اکثریت اسٹیٹ ہُڈ کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے، وہیں کچھ حلقے جموں کو الگ ریاست بنانے کی بات کر رہے ہیں، جو علاقائی عدم اعتماد کو جنم دے سکتی ہے اور جموں و کشمیر کی اجتماعی طاقت کو کمزور کر دے گی۔
انہوں نے مغربی پاکستان کے مہاجرین کے حوالے سے کہا کہ سابق یو پی اے حکومت کی جانب سے منظور کردہ 30 لاکھ روپے فی خاندان کے یک وقتی پیکیج کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے اور ان کے دیگر مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر ویلفیئر بورڈ قائم کیا جانا چاہیے۔
—





