امت نیوز ڈیسک //
جموں، 11 فروری: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی میں اپنے مبینہ ریمارکس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی کو بھی دل آزاری پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، تاہم بی جے پی اراکین کی جانب سے ایوان میں احتجاج جاری رہا۔
کارروائی کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو انہیں اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے ریمارکس مخصوص اراکین کے لیے تھے، نہ کہ ان کے اہلِ خانہ کے بارے میں۔ قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے “فیلڈ کمانڈر” نے ایوان سے باہر جاتے ہوئے ان کے مرحوم دادا کو معاملے میں گھسیٹا۔
اس سے قبل بی جے پی اراکین اسمبلی نے مبینہ بیان کو نامناسب اور ایوان کے وقار کے منافی قرار دیا۔ پارٹی اراکین نے ایوان میں نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ اپنے الفاظ واپس لیں اور باضابطہ معذرت کریں، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے واک آؤٹ بھی کیا گیا۔
بعد ازاں اراکین اپنی نشستوں پر واپس آگئے اور معافی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ بیان زبان کی لغزش تھا، اس پر افسوس کا اظہار کریں اور ایوان سے معذرت کریں۔
اپوزیشن بنچوں کی جانب سے شور شرابے اور احتجاج کے باوجود اسمبلی کی کارروائی شیڈول کے مطابق جاری رہی۔ (کے این ٹی)






