امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 16 فروری: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے کشمیر سے متعلق 25 کتابوں کی ضبطی کے خلاف دائر عرضیوں کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے ایک ماہ سے زائد کی مزید مہلت دے دی ہے۔
11 فروری کے حکم نامے میں عدالت نے نوٹ کیا کہ ایک فریق کی جانب سے اعتراضات تاحال داخل نہیں کیے گئے۔ چیف جسٹس ارون پلی، جسٹس راجیش اوسوال اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل بنچ نے مشاہدہ کیا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے اپنا جواب داخل کر دیا ہے اور عرضی گزاروں نے اس پر جواب الجواب بھی پیش کیا ہے، تاہم مدعا علیہ نمبر تین یعنی حکومت ہند نے مہلت ملنے کے باوجود اپنا جواب داخل نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ مزید التوا کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی، تاہم سینئر وکیل کی یقین دہانی پر کہ آئندہ سماعت سے قبل اعتراضات داخل کر دیے جائیں گے اور اس کی نقل عرضی گزاروں کو فراہم کی جائے گی، عدالت نے معاملہ 25 مارچ 2026 کو آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں بھی عدالت نے اس بنیاد پر سماعت ملتوی کی تھی کہ جموں و کشمیر حکومت اور مرکز نے بروقت اعتراضات داخل نہیں کیے تھے۔
یہ عرضیاں محکمہ داخلہ جموں و کشمیر کی جانب سے 5 اگست 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتی ہیں، جس کے تحت 25 کتابوں کو اس بنیاد پر ضبط قرار دیا گیا کہ ان میں شامل مواد “ریاست کی سلامتی اور امن عامہ کے لیے مضر” ہے۔
یہ عرضیاں ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل کپل کاک، وجاہت حبیب اللہ، ڈاکٹر سمنترہ بوس، ڈیوڈ دیوداس، شاکر شبیر اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ عرضی گزاروں کا مؤقف ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن قانونی تقاضوں اور آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔





