امت نیوز ڈیسک //
27 فروری 2026: افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ افغان طالبان کی وزارتِ دفاع اور حکومتی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ڈرونز کے ذریعے پاکستان میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب پاکستان نے کابل اور دو دیگر افغان صوبوں میں فضائی کارروائیاں کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع نے دونوں ممالک کے درمیان صورتحال کو “کھلی جنگ” قرار دیا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سرحد پار جھڑپیں ہوئیں۔
زبیح اللہُ مجاد نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے کابل، قندھار اور پکتیا کے علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ ادھر پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ افغان جانب سے ڈرون استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انسدادِ ڈرون نظام کے ذریعے انہیں مار گرایا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستان نے اپنی جوابی کارروائی کو “آپریشن غضب لِلحق” کا نام دیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق اس کارروائی میں درجنوں جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور اکتوبر میں ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے، جن میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عالمی ردِعمل
روس، چین، ایران اور ترکی نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے مسلح تصادم میں تیزی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے بھی فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں۔
برطانیہ کی وزارت خارجہ نے دونوں فریقین سے تحمل برتنے کی اپیل کی۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ نے پاکستان، افغانستان، قطر اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے علیحدہ علیحدہ رابطے کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
علاقائی اور عالمی طاقتوں کی جانب سے ثالثی کی پیشکشوں کے باوجود زمینی صورتحال تاحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔






