پیدائش سے بصارت سے محروم ہونے کے باوجود کشمیر کے عرفان احمد لون نے حوصلہ اور محنت کے بل پر UPSC میں شاندار کامیابی حاصل کر کے وادی کشمیر کا نام روشن کر دیا
شمالی کشمیر کے لیے فخر کے ایک عظیم لمحے میں، بانڈی پورہ ضلع کے سوناواری علاقے کے نائید کھائی گاؤں سے تعلق رکھنے والے 100 فیصد نابینا امیدوار عرفان احمد لون، ولد بشیر احمد لون نے یونین پبلک سروس کمیشن ( یو پی ایس سی ) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے باوقار سول سروسز امتحان میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ گزشتہ ہفتے نتائج کے اعلان کے بعد ان کے گھر ، رشتہ داروں اور پورے سوناواری علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عرفان احمد لون نے آل انڈیا رینک 951 حاصل کی۔ یہ شاندار کامیابی انہوں نے کئی برسوں کی محنت لگن اور مضبوط عزم کے ذریعہ حاصل کی۔ ان کا حوصلہ افزا سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ جسمانی معذوری مضبوط ارادے، محنت اور واضح مقصد کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی مکمل طور پر نابینا ہونے کے باوجود عرفان نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور سول سروسز میں جانے کے اپنے خواب پر مسلسل توجہ مرکوز رکھی۔ ان کی کامیابی نے نہ صرف ان کے آبائی گاؤں نائید کھائی بلکہ پورے شمالی کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ نائید کھائی اور سوناواری کے دیگر علاقوں کے لوگوں نے ان کی اس کامیابی پر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ کئی افراد نے اسے پورے خطے کے لیے فخر کالمحہ اور نوجوان نسل کے لیے ایک بڑی تحریک قرار دیا۔ لوگوں نے عرفان احمد لون کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ اپنے فرائض دیانتداری لگن اور ایمانداری کے ساتھ انجام دے کر ملک کی خدمت کریں گے۔ عرفان احمد لون نے ثابت کر دیا کہ اگر انسان کے ارادے مضبوط ہوں تو کوئی بھی رکاوٹ اس کے راستے کو نہیں روک سکتی۔ بچپن سے ہی بصارت سے محروم ہونے کے باوجود انہوں نے ملک کے سب سے مشکل سمجھے جانے والے امتحان، یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) سول سروسز امتحان 2025 میں کامیابی حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے کشمیر کا نام روشن کر دیا۔ جموں و کشمیر بانڈی پورہ کے نائد کھائی علاقے کے منز پورہ گاؤں کے رہنے والے عرفان احمد لون نے اپنی زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا۔ بچپن سے بینائی نہ ہونے کے باعث تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے عام طلبہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تھا۔ تاہم انہوں نے کبھی بھی اپنی کمزوری کو اپنی منزل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہم نے عرفان احمد لون سے ان کی اس کامیابی کے حوالے سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا زندگی میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا، بس اس کے لیے سچی لگن اور جی جان سے محنت کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا، لیکن اس کے لیے دل و جان سے محنت کرنا پڑتی ہے۔ میرے لیے یہ امتحان یقیناً زیادہ مشکل تھا کیونکہ میں بچپن سے ہی دیکھ نہیں سکتا، مگر میں نے ایمانداری کے ساتھ محنت جاری رکھی اور اللہ کی مدد سے آخرکار اس امتحان میں کامیاب ہو گیا۔” عرفان احمد لون نے کہا کہ انسان کو اپنی کمزوریوں سے گھبرانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اگر انسان کے دل میں کچھ کرنے کا عزم ہو تو اللہ بھی اس کی مدد کرتا ہے اور راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔ عرفان احمد لون کی کامیابی آج ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام بن گئی ہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو کسی نہ کسی مشکل یا معذوری کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے لیے عرفان کی یہ کامیابی ایک روشن مثال ہے کہ مشکلات انسان کو روک نہیں سکتیں بلکہ اگر ہمت ہو تو یہی مشکلات کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہیں۔
وہیں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سماجی کارکنوں نے عرفان احمد لون کی اس کامیابی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عرفان احمد لون کی یہ کامیابی صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک پیغام ہے کہ معذور افراد بھی اپنی صلاحیتوں کے بل پر قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ یقیناً عرفان احمد لون کی یہ داستانِ کامیابی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بنے گی اور نوجوانوں کو یہ سبق دے گی کہ محنت، صبر اور اللہ پر بھروسہ کے ساتھ ہر خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ ہفتے اعلان کیے گئے نتائج میں عرفان احمد لون نے کامیاب امیدواروں کی حتمی فہرست میں اپنی جگہ بنائی۔ عرفان احمد لون پیدائش سے ہی بصارت سے محروم ہیں، تاہم اس جسمانی معذوری نے کبھی بھی ان کے حوصلوں کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کئی سالوں تک مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ تیاری جاری رکھی اور بالآخر اس مشکل امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ عرفان کی کامیابی نہ صرف ضلع بانڈی پورہ بلکہ پورے کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑی تحریک ہے۔ عرفان احمد لون کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ عرفان احمد لون کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر انسان کے اندر عزم اور محنت کا جذبہ ہو تو کوئی بھی رکاوٹ اس کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی خصوصی طور پر معذور افراد کے لیے ایک امید اور حوصلے کی علامت ہے، جو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ بھی قومی سطح پر کسی سے کم نہیں۔ انہوں نے مزید کہا عرفان احمد لون کی یہ کامیابی یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنے گی اور بہت سے نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے کی ترغیب دے گی۔ عرفان احمد لون کے ایک قریبی دوست کا کہنا ہے کہ عرفان احمد لون نے اپنی بصارت کی کمی کے باوجود تعلیم کے میدان میں ہمیشہ بہترین کارکردگی دکھائی۔ سول سروسز جیسے مشکل امتحان کی تیاری کے دوران بھی انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے مقصد کی طرف بڑھتے رہے۔ بصارت سے محروم ہونے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے محنت پر توجہ مرکوز کی ہے۔ وہیں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے یونین پبلک سروس کمیشن (یوپی ایس سی) سول سروسز امتحان 2025 میں کامیابی حاصل کرنے والے جموں و کشمیر کے عرفان احمد لون کے ساتھ ساتھ کشمیر کے تمام امید واروں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ عمر عبد اللہ نے ان تمام امید واروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کامیابی محنت ، عزم اور ثابت قدمی کی عکاس ہے اور یہ پورے خطے میں بے شمار نوجوان امید واروں کو اپنے خوابوں کی تحمیل کے لئے پختہ ارادے اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دے گی۔ وزیر اعلیٰ کے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا گیا وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کے ان امید واروں کو مبارکباد دی جنہوں نے یوپی ایس سی سول سروسز امتحان 2025 میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ یو پی ایس سی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری فہرست کے مطابق جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے جن 17 امیدواروں نے حتمی میرٹ لسٹ میں جگہ بنائی ہے۔ ان میں سوان شرما رینک (148)، سگندھا گپتا (207)، توصیف گنائی (254)، رتیکا (456)، سویش شیوم( 572)، منیب پراہ (581)، غلام دین (683)، دوار کا گادھی (721)، آکاش (747)، کوہ صفا (763)، یاسر ابھیشیک (820) پنج (856)، محمد اعجاز (869)، اظہر (886)، سرفراز (936) اور عرفان (957) شامل ہیں۔ یہ نتائج( اگست 2025 میں منعقدہ تحریری امتحان اور اس کے بعد دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان لیے گئے شخصیتی امتحانات (انٹرویوز ) کے بعد جاری کیے گئے۔ یوپی ایس سی کی جانب سے جاری کردہ نتیجے کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس امتحانی مرحلے کے لیے حکومت کی جانب سے رپورٹ کی گئی 1087 اسامیوں کے مقابلے میں 1958 امیدواروں کو تقرری کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان اسامیوں میں IS کی 180 ، IFS کی 55 IPS کی 150 ، سنٹرل سروسز گروپ کی 507 اور گروپ B کی 195 نشستیں شامل ہیں۔ منتخب کیے گئے امید واروں میں سے 317 جنرل زمرہ، 104 اقتصادی طور پر کمزور طبقات، 306 دیگر پسماندہ طبقات (OBC)، 158 درج فہرست ذاتوں (SC) اور 73 درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قواعد کے مطابق 258 امیدواروں پر مشتمل ایک ریزرویشن فہرست بھی جاری کی گئی ہے۔ منتخب امید واروں کی جانب سے پیش کردہ ریزرویشن زمرے سے متعلق دعووں کی تصدیق متعلقہ حکام کی جانب سے کی جائے گی۔ یوپی ایس سی کے مطابق 348 منتخب امید واروں کی امیدواری عارضی طور پر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ دو امید واروں کے نتائج کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ اس امتحان کے لیے 19,37,876 امیدواروں نے درخواست دی تھی، جن میں سے 15,76,793 امیدواروں نے حقیقتا امتحان میں شرکت کی۔ ان میں سے 161, 14 امیدوار اگست 2025 میں منعقد ہونے والے تحریری (مین) امتحان کے لیے کامیاب قرار پائے۔ بعد ازاں 2736 امیدوار امتحان کے انٹرویو مر حلے کے لیے منتخب ہوئے۔ یو پی ایس سی کے چیئر مین اجے کمار نے نتائج کے اعلان کا باضابطہ اعلان کیا اور کامیاب امید واروں کو مبارکباد پیش کی۔






