• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مارچ ۱۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ایران پر اسرائیل کا جوابی حملہ، اصفہان کے نیوکلیر مراکز میں دھماکے

ایران پر مسلط جنگ، کیا ٹرمپ کے لیے گلے کی ہڈی؟

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
13/03/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط جنگ کو دو ہفتے مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران ایران کے دس ہزار سے زائد رہائشی مقامات پر حملے کیے گئے اور تیرہ سو سے زیادہ ایرانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی لبنان پر بمباری میں اب تک چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیل نے لبنان کے رہائشی علاقوں میں سفید فاسفورس کا بھی استعمال کیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل میں بھی تقریباً ایک درجن افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم وہاں ہونے والے مالی نقصان کو چھپایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی چند ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

اس تمام صورتحال کے بیچ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے کنٹرول میں ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی قلت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ کئی ممالک نے تیل کی کمی کے باعث اسکول بند کرنے سمیت دیگر اقدامات کیے ہیں تاکہ ضروری خدمات کے لیے ایندھن محفوظ رکھا جا سکے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ صرف انہی ممالک کو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی جو اپنے ملک سے امریکی اور اسرائیلی سفیروں کو ملک بدر کریں گے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں۔ سی این این کی ایک تشویشناک رپورٹ کے مطابق ایران نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ میں بڑی تعداد میں مائنز نصب کرنا شروع کر دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی فورسز، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب، کے پاس چھوٹی کشتیوں اور جدید مائن لیئرز کی صلاحیت موجود ہے، جو مختصر وقت میں سمندر کے اندر سینکڑوں خطرناک مائنز بچھا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس نہ صرف مائنز بچھانے کی ٹیکنالوجی موجود ہے بلکہ وہ دھماکہ خیز کشتیوں اور ساحلی میزائل بیٹریوں کے ذریعے بھی دشمن کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جو حملہ کیا تھا اس کا مقصد رجیم چینج بتایا جا رہا تھا، تاہم اب یہ مقصد پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس حوالے سے امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی انہیں جنگ ختم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے معاونین نے انہیں تجویز دی کہ وہ عوام کے سامنے یہ مؤقف پیش کریں کہ امریکی فوج اپنے زیادہ تر مقاصد حاصل کر چکی ہے اور امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ بمباری مہم کے لیے ایک واضح ایگزٹ پلان کا اعلان کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے خلاف عوامی مخالفت بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات صدر کے چار سالہ دور کے درمیان ہوتے ہیں، جن میں کانگریس اور دیگر عہدوں کے نمائندے منتخب کیے جاتے ہیں۔

اس سارے دباو کے بیچ ٹرمپ نے تازہ بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اب ایران میں نشانہ بنانے کے لیے تقریباً کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”جنگ بہت اچھی جا رہی ہے اور ہم اپنے طے شدہ شیڈول سے بہت آگے ہیں۔ ایران میں اب نشانہ بنانے کے لیے تقریباً کچھ باقی نہیں رہا.“

دوسری جانب ایران آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود جھکنے کے بجائے دونوں جارحین کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور کسی بھی قسم کی بات چیت کو مسترد کرتا نظر آ رہا ہے۔ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ شرائط بھی پیش کی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملے بند کیے جائیں اور خطے میں امن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق جنگ ختم کرنے کے لیے چند بنیادی شرائط ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، جنگ میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی مضبوط بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، لیکن جب تک یہ شرائط پوری نہیں کی جاتیں جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں۔

امریکہ کی جانب سے اس دوران مشرقی وسطیٰ کے ممالک پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل ہوں، تاہم ان ممالک کی جانب سے منفی ردعمل ہی سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ہفتے روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان—کہ امریکہ اور اسرائیل مسلم دنیا کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں—اس وقت درست ثابت ہوتا نظر آیا جب امریکی سینیٹر اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو جنگ میں شامل ہونے کا دباؤ ڈالا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان مسلم ممالک کے لیے ایران کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان کے فوجی مارے جا رہے ہیں، اس لیے سعودی عرب صرف بیانات تک محدود نہیں رہ سکتا۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مشرقی وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے واضح انکار کے بعد یہ جنگ ٹرمپ کے لیے گلے کی ہڈی بنتی جا رہی ہے اور اب وہ کسی نہ کسی طرح اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

اسی وجہ سے ٹرمپ نے روسی صدر کے ساتھ فون پر بات کی اور مشرقی وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق روس اور چین اس وقت ایسے دو ممالک ہیں جو سفارتی سطح پر ایران کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، اور ایران ان ممالک کی بات مان بھی سکتا ہے۔

ایران نے گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے، جو اس کے لیے مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال ایران نے صرف اسرائیل کو نشانہ بنایا تھا، لیکن اس مرتبہ اس نے مشرقی وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا اور پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

عالمی رہنما بھی ٹرمپ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں کیونکہ اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، مہنگائی بڑھے گی اور مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ کی پسپائی کے آثار واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ ایران جنگ سے خود کو نکالنے کے لیے کتنا وقت لیتے ہیں…

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

مکمل نابینا ہونے کے باوجود عزم کی مثال وادی کشمیر بانڈی پورہ کے عرفان احمد لون نے UPSC امتحان میں کامیابی حاصل کر لی:

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

مکمل نابینا ہونے کے باوجود عزم کی مثال وادی کشمیر بانڈی پورہ کے عرفان احمد لون نے UPSC امتحان میں کامیابی حاصل کر لی:

مکمل نابینا ہونے کے باوجود عزم کی مثال وادی کشمیر بانڈی پورہ کے عرفان احمد لون نے UPSC امتحان میں کامیابی حاصل کر لی:

13/03/2026
خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے فوری بند کیے جائیں: مجتبیٰ خامنہ ای

خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے فوری بند کیے جائیں: مجتبیٰ خامنہ ای

12/03/2026
جموں عدالت نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر فائرنگ کرنے والے شخص کو پانچ روزہ پولیس حراست میں دے دیا

جموں عدالت نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر فائرنگ کرنے والے شخص کو پانچ روزہ پولیس حراست میں دے دیا

12/03/2026
جے کے سی اے گھوٹالہ کیس: سرینگر عدالت نے فاروق عبداللہ کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا

جے کے سی اے گھوٹالہ کیس: سرینگر عدالت نے فاروق عبداللہ کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا

12/03/2026
جموں فائرنگ واقعہ سکیورٹی میں کوتاہی تھی، امیت شاہ نے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی: فاروق عبداللہ

جموں فائرنگ واقعہ سکیورٹی میں کوتاہی تھی، امیت شاہ نے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی: فاروق عبداللہ

12/03/2026
راجستھان میں کشمیری طلبہ کی حراست پر سرینگر میں والدین کا احتجاج

راجستھان میں کشمیری طلبہ کی حراست پر سرینگر میں والدین کا احتجاج

12/03/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »