امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 4 اپریل :اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے ہفتہ کے روز گاندربل ضلع میں حالیہ انکاؤنٹر پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے ذمہ داروں کو پھانسی دی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ انکاؤنٹر فرضی تھا۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاندربل کے علاقے ارہامہ میں پیش آنے والا انکاؤنٹر حقیقی نہیں تھا اور اس طرح کے کئی فرضی انکاؤنٹرز وہ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ ایسے واقعات کا سلسلہ جلد ختم ہو اور ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب لیفٹیننٹ گورنر نے اس واقعے کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے، جبکہ مہلوک شخص کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک بے گناہ شہری تھا۔
الطاف بخاری نے وادی میں رہائشی حالات پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نکاسیٔ آب کا نظام انتہائی خراب ہے اور کئی خاندان ایک ہی کمرے میں رہنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے ریزرویشن پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ڈاؤن ٹاؤن سرینگر کے لوگوں کو بھی ریزرویشن کا حق ملنا چاہیے۔
اپنی پارٹی کے صدر نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ وہ براہ راست عوام سے بات کریں اور ان کے مسائل کو سنیں۔
قید نوجوانوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر ان پر الزامات ہیں تو ان کے مقدمات جلد چلائے جائیں، کیونکہ کئی افراد برسوں سے جیل میں ہیں جبکہ ان کی ممکنہ سزا اس مدت سے کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو لوگ سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں انہیں عام معافی دی جائے اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔






