امت نیوز ڈیسک //
جموں، 28 اپریل 2026:عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی مہراج ملک کو منگل کے روز کٹھوعہ جیل سے رہا کر دیا گیا، جب جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ان کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا۔
یہ نظر بندی ستمبر 2025 میں ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ کی جانب سے عائد کی گئی تھی، جسے جسٹس محمد یوسف وانی نے غیر قانونی اور “عدم اطلاقِ ذہن” پر مبنی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ عدالت نے فوری رہائی کا حکم دیا۔
رہائی کے بعد مہراج ملک، جو عآپ کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر بھی ہیں، کا استقبال کارکنوں نے نعروں، ڈھول اور پھولوں کے ہاروں کے ساتھ کیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے عدلیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا:
“میں جیل سے رہا ہو چکا ہوں۔ میں عدلیہ کا شکر گزار ہوں کہ مجھے انصاف ملا۔ میں عوام کے مسائل اٹھاتا رہوں گا۔”
عدالت نے اپنے 87 صفحات پر مشتمل فیصلے میں “لاء اینڈ آرڈر” اور “پبلک آرڈر” کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مہراج ملک کے خلاف مقدمات زیادہ تر عام نوعیت کے تھے، جو PSA کے تحت نظر بندی کو جائز قرار نہیں دیتے۔
واضح رہے کہ مہراج ملک کو عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، جس کے خلاف انہوں نے 24 ستمبر 2025 کو ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ عدالت نے آخرکار ان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔





