امت نیوز ڈیسک //
جموں، 30 اپریل:بھارت کے وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے جمعرات کے روز جموں سے کٹرہ تک توسیع شدہ وندے بھارت ایکسپریس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، جس سے جموں اور سرینگر کے درمیان ریل رابطے کو مزید مضبوطی ملی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ویشنو نے کہا کہ حفاظتی اقدامات کے لیے مؤثر مینٹیننس نہایت ضروری ہے، جبکہ اگلا بڑا ہدف جموں–سرینگر ریلوے لائن کی گنجائش بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قاضی گنڈ سے اریناگر تک ٹریک کو ڈبل کرنے سے مزید ٹرینیں چلانا ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس ریلوے لائن سے مال برداری میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں کشمیر سے دہلی تک تقریباً دو کروڑ کلوگرام سیب منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ چیری کی ترسیل کے لیے 32 بوگیاں بک کی گئی ہیں۔
وزیر ریلوے نے وندے بھارت ایکسپریس کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرین مکمل طور پر بھری رہتی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے شدید سرد موسم میں بھی باآسانی چل سکتی ہے۔ نئی 20 بوگیوں والی ٹرین میں اعلیٰ معیار کی الیکٹرانکس اور تقریباً 3000 مائیکرو چپس نصب کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ 8 بوگیوں سے بڑھا کر 20 بوگیاں کرنے سے مسافروں کی گنجائش تقریباً 1400 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریل سروس سے سیمنٹ، گاڑیاں اور پھلوں کی ترسیل میں آسانی ہوئی ہے، اور جموں و کشمیر میں ڈرائی پورٹ اور کسٹم کلیئرنس کی سہولت قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ریلوے وزارت کو کشمیر وادی تک طویل عرصے سے زیر التوا ریلوے رابطہ مکمل کرنے کا سہرا دیا۔
یہ ٹرین جو پہلے سرینگر سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرہ تک چلتی تھی، اب جموں توی تک چلائی جائے گی، جس سے خطے کے سب سے بڑے ریلوے مرکز کو وادی کشمیر سے براہ راست جوڑ دیا گیا ہے۔ جون 2025 میں 8 بوگیوں کے ساتھ شروع ہونے والی اس سروس میں مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اب 20 بوگیاں شامل کی گئی ہیں۔
اس توسیع سے خصوصاً سیاحتی اور یاتری سیزن میں ٹکٹوں کی دستیابی بہتر ہوگی اور جموں و کشمیر میں معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔










