امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: سجاد غنی لون نے اتوار کو وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کو ریزرویشن معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پورے عمل، تاخیر اور انتظامی خامیوں پر سوالات اٹھائے۔
سجاد لون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعلیٰ کی مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے ساتھ ملاقات کی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کی “آپٹکس” عوامی سطح پر غور و فکر کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے ریزرویشن فائل کی منظوری میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا، تاہم انہیں بتایا گیا کہ مرکز تین ہفتے قبل ہی فائل آگے بھیج چکا تھا۔ سجاد لون کے مطابق اس سے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر میں رابطے اور معلومات کی ترسیل میں خلل ظاہر ہوتا ہے۔
پیپلز کانفرنس صدر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ سب کمیٹی نے ریزرویشن سے متعلق اپنی سفارشات کس بنیاد اور طریقۂ کار کے تحت تیار کیں۔ ان کے مطابق اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سفارشات کی تیاری میں کون سا ڈیٹا، تحقیق یا سروے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ وہ اس سے قبل اسمبلی میں بھی یہی سوال اٹھا چکے ہیں کہ سفارشات کے حق میں کوئی ٹھوس تحقیقی شواہد سامنے نہیں لائے گئے۔ سجاد لون کا کہنا تھا کہ ایسے حساس فیصلے مستند اعداد و شمار اور مضبوط تحقیق کی بنیاد پر ہونے چاہئیں تاکہ وہ ہر قسم کی جانچ پڑتال پر پورا اتر سکیں۔
انہوں نے ریزرویشن جیسے عوامی اہمیت کے معاملے پر حکومت کے رویے کو “غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پورے معاملے کو زیادہ ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ نمٹانے کی ضرورت ہے۔





