امت نیوز ڈیسک //
پی ڈی پی کی قیادت میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے آج شوپیان میں کتھ باتھ کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کیا، جس میں مقامی لوگوں اور پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر محبوبہ مفتی نے مختلف سیاسی، سماجی اور نوجوانوں سے متعلق امور پر اظہارِ خیال کیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان باصلاحیت اور تعلیم یافتہ ہیں، اور آنے والے برسوں میں وہ خطے کے بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں کیونکہ ان میں اپنی بات مؤثر انداز میں رکھنے اور مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی نمائندگی کم ہوتی جا رہی ہے اور بعض مسلم افسران کو اہم عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ تاہم، ان دعوؤں پر اب تک کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
راہل گاندھی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ماضی میں مختلف افراد اور گروہوں کو اکثر “غدار” کہا جاتا رہا، لیکن اس پر اس نوعیت کا ردِعمل سامنے نہیں آتا تھا۔ ان کے مطابق اب شدید اعتراضات اس لیے کیے جا رہے ہیں کیونکہ یہی زبان راہل گاندھی نے استعمال کی ہے۔
پروگرام کے دوران محبوبہ مفتی نے دیگر کئی سیاسی اور عوامی مسائل پر بھی گفتگو کی۔ ان کے بیانات پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ردِعمل آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔





