کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوتا۔ انسان ہنس تو رہا ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک خاموش طوفان بپا ہوتا ہے۔ زندگی میں بعض لوگ ہمارے دل کے اس قدر قریب ہو جاتے ہیں کہ ان کی اداسی ہماری اپنی اداسی بن جاتی ہے، ان کی بےچینی ہماری روح کو بےسکون کر دیتی ہے۔ میں اپنی محرومیاں تو شاید قبول کر لوں، اگر میری قسمت میں خوشیاں کم بھی ہوں تو صبر کر سکتی ہوں، مگر جن لوگوں سے میرا دل جڑا ہوا ہے، ان کے نصیب کی ادھوری خوشیاں، ان کی خاموش اذیتیں اور ان کی آنکھوں میں چھپی ہوئی تھکن مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ ان کے دل کی تڑپ کو میں محسوس کرتی ہوں، ان کے ہر چھپے ہوئے آنسو کی چبھن میرے دل تک پہنچتی ہے، اور یہی احساس کئی بار مجھے بےاختیار رُلا دیتا ہے۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی محبت سے پہلے ذات دیکھی جاتی ہے، خاندان دیکھا جاتا ہے، روزگار اور حیثیت دیکھی جاتی ہے۔ انسان کے کردار، اس کے خلوص اور اس کی محبت کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کس خاندان سے ہے، کیا کرتا ہے، کتنی دولت رکھتا ہے… مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیا وہ دل سے سچا ہے؟ کیا وہ کسی کو خوش رکھ سکتا ہے؟ کیا وہ محبت کی قدر جانتا ہے؟ آخر کیا صرف بڑے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہی سکون سے جیتے ہیں؟ کیا وہ لوگ جو بڑے افسر نہیں ہوتے، وہ دو وقت کی روٹی نہیں کھاتے؟ کیا محبت صرف امیروں اور اونچی ذات والوں کا حق ہے؟ کیوں ہمارے معاشرے میں آج بھی انسان کی سچی خوشیوں کو رسموں، ذاتوں اور جھوٹی شان کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے؟
کبھی کبھی دل یہ سوچ کر ٹوٹ جاتا ہے کہ آخر والدین اپنی اولاد کی خاموش تکلیف کیوں نہیں سمجھ پاتے؟ کیوں ان کی آنکھوں میں چھپے ہوئے آنسو نظر نہیں آتے؟ کیوں ان کے دل کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ اولاد صرف آسائش نہیں مانگتی، وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ اسے اپنی مرضی سے جینے کا حق ملے، اسے وہ محبت ملے جس میں سکون ہو، عزت ہو اور اپنائیت ہو۔ مگر افسوس، ہمارے سماج میں اکثر خوشیوں سے زیادہ لوگوں کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔
میں اللہ پاک سے دل کی گہرائیوں سے دعا کرتی ہوں کہ ہر اس دل کو سکون عطا فرمائے جو خاموشی سے ٹوٹ رہا ہے، ہر اس انسان کی قسمت میں وہ خوشیاں لکھ دے جن کے لیے وہ برسوں سے ترس رہا ہے، اور ہمارے والدین کے دلوں میں وہ نرمی پیدا فرمائے کہ وہ اپنی اولاد کے چہروں کے پیچھے چھپے ہوئے درد کو سمجھ سکیں۔ آمین۔







