ڈیسک رپورٹ/کاشف قمر
سپریم کورٹ آف انڈیا نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج مقدمات میں انتہائی کم شرحِ سزا پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں ایسے مقدمات میں سزا کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ریمارکس ایک مبینہ نارکو ٹیرر کیس میں گرفتار کشمیری شہری سید افتخار اندرابی کو ضمانت دیتے ہوئے دیے۔
جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل بنچ نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2019 سے 2023 کے دوران یو اے پی اے مقدمات میں سزا کی شرح صرف دو سے چھ فیصد رہی، جس کا مطلب ہے کہ ان مقدمات میں 94 سے 98 فیصد تک بری ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے جہاں سالانہ شرحِ سزا ہمیشہ ایک فیصد سے کم رہی ہے، یعنی ایسے مقدمات میں 99 فیصد تک بری ہونے کا امکان موجود ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب اعداد و شمار اس قدر واضح ہیں تو کیا صرف الزامات کی سنگینی کی بنیاد پر کسی شخص کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ بنچ نے اپنے سابقہ فیصلے یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا‘‘حتیٰ کہ یو اے پی اے مقدمات میں بھی، اور قانون کی دفعہ43D(5) کو مشینی انداز میں لاگو کر کے طویل حراست کو جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سید افتخار اندرابی کے قبضے، رہائش گاہ یا دفتر سے نہ تو کوئی نقد رقم اور نہ ہی کوئی ممنوعہ مواد برآمد ہوا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم کے خلاف پولیس کے سامنے دیے گئے بیانات اور مبینہ اعترافی بیانات بادی النظر میں قانونِ شہادت کی دفعہ 25 کی زد میں آتے ہیں، جس کے تحت پولیس کے سامنے اعترافِ جرم قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ اندرابی کا ماضی کسی بھی نارکوٹکس تجارت یا دہشت گردانہ سرگرمیوں سے وابستہ نہیں رہا۔ بنچ نے یہ بھی ریکارڈ پر لایا کہ وہ ہندوستان کے آئینی، وفاقی اور جمہوری نظام کے حامی ہیں اور جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے ایک سرگرم حامی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اندرابی کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے خصوصی این آئی اے عدالت کو ضمانت کی شرائط طے کرنے کی ہدایت دی، جن میں پاسپورٹ جمع کرانا اور ہر پندرہ دن بعد ہندواڑہ پولیس اسٹیشن میں حاضری دینا شامل ہے۔
واضح رہےیہ معاملہ 11 جون 2020 کا ہے جب پولیس نے ہندواڑہ کے کیرو برج پر ایک گاڑی کو روک کر مبینہ طور پر 20 لاکھ ایک ہزار روپے نقد اور دو کلو ہیروئن مبینہ ملزم عبدل مومن پیر سےبرآمد کی تھی۔ این آئی اے کے مطابق بعد ازاں تحقیقات کے دوران سید افتخار اندرابی اور اسلام الحق پیر کو گرفتار کیا گیا۔ ایجنسی نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزمان پاکستان میں موجود رابطوں کے ذریعے ہیروئن اسمگلنگ میں ملوث تھے اور منشیات سے حاصل رقم کالعدم تنظیموں لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے اگست 2025 میں اندرابی کی ضمانت درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریکارڈ پر موجود مواد بادی النظر میں ان کے نارکو ٹیرر سرگرمیوں سے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے مقدمے کی سست رفتار سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں 320 سے زائد گواہوں کی فہرست موجود ہے جبکہ اب تک صرف چند گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔
بتاتے چلیں کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں دہلی فسادات سازش کیس سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کے گل فشاں فاطمہ بنام ریاست فیصلے پر بھی ’’سنگین تحفظات‘‘کا اظہار کیا، جس میں عمر خالد اور شرجیل امام سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت مسترد کی گئی تھی۔






