کشمیر کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں سوال صرف اقتدار، انتخابات یا حکومت سازی کا نہیں بلکہ سیاسی سمت کے تعین کا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر نے آئینی، انتظامی اور سیاسی سطح پر ایسی تبدیلیاں دیکھی ہیں جنہوں نے پورے خطے کے سیاسی مزاج کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی نمائندوں کو ارسال کردہ خطوط نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
محبوبہ مفتی نے اپنی اپیل میں لداخ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح لیہ اور کارگل کے نمائندہ پلیٹ فارم اختلافات کے باوجود ایک مشترکہ ایجنڈے پر متحد ہوئے اور مرکزی حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا راستہ نکالا، اسی طرح جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کو بھی متحد ہو کر دہلی کے ساتھ ایک سنجیدہ اور مسلسل سیاسی مکالمے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔
بظاہر یہ ایک سیاسی بیان معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی تہہ میں اُتر کر دیکھا جائے تو یہ دراصل موجودہ سیاسی جمود کے خلاف ایک فکری اور سیاسی چیلنج بھی ہے۔
کشمیر کی سیاست کا سب سے بڑا بحران
جموں و کشمیر کی موجودہ سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ نہیں کہ مختلف جماعتوں کے نظریات مختلف ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک مشترکہ سیاسی ایجنڈے کا فقدان ہے۔
2019 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں تقریباً تمام علاقائی جماعتوں نے کسی نہ کسی شکل میں عوامی حقوق، ریاستی درجہ کی بحالی، اختیارات کی واپسی اور سیاسی شناخت کے تحفظ کی بات کی، مگر یہ تمام آوازیں منتشر رہیں۔ ہر جماعت اپنی سیاسی حکمت عملی کے مطابق الگ راستہ اختیار کرتی رہی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ عوامی سطح پر بے چینی تو موجود رہی لیکن وہ ایک مؤثر سیاسی قوت میں تبدیل نہ ہو سکی۔
اسی پس منظر میں محبوبہ مفتی کی یہ اپیل اہم ہو جاتی ہے۔ وہ دراصل یہ سوال اُٹھا رہی ہیں کہ جب مقصد مشترک ہے تو جدوجہد مشترکہ کیوں نہیں؟
لداخ: اختلافات سے اتفاقِ رائے تک
لداخ کی مثال محض ایک جغرافیائی حوالہ نہیں بلکہ ایک سیاسی تجربہ ہے۔
لیہ اور کارگل کی سیاست طویل عرصے تک مذہبی، سماجی اور علاقائی تقسیم کا شکار رہی۔ ایک طرف بدھ اکثریتی لیہ تھا اور دوسری طرف مسلم اکثریتی کارگل۔ دونوں خطوں کے سیاسی مطالبات اور ترجیحات بھی مختلف تھیں۔
لیکن 2019 کے بعد جب خطے کے مستقبل سے متعلق نئے سوالات سامنے آئے تو دونوں علاقوں نے محسوس کیا کہ اگر وہ الگ الگ آواز بلند کریں گے تو ان کی سیاسی قوت کمزور رہے گی۔ چنانچہ اختلافات کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر انہوں نے کم از کم نکات پر اتفاق پیدا کیا۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے محبوبہ مفتی کشمیر کے لیے قابلِ تقلید قرار دے رہی ہیں۔
کیا کشمیر لداخ سے سبق سیکھ سکتا ہے؟
یہ سوال بظاہر سادہ مگر حقیقت میں انتہائی پیچیدہ ہے۔
لداخ کی سیاست نسبتاً محدود جغرافیائی اور آبادیاتی دائرے میں حرکت کرتی ہے، جبکہ جموں و کشمیر ایک متنوع خطہ ہے جہاں علاقائی، مذہبی، لسانی اور سیاسی ترجیحات نہایت مختلف ہیں۔
جموں کے سیاسی مسائل الگ ہیں، وادی کشمیر کی ترجیحات الگ ہیں اور سرحدی علاقوں کے اپنے مخصوص خدشات ہیں۔
اس کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جس سے شاید ہی کوئی جماعت اختلاف کرے کہ سیاسی عمل میں جمود کسی کے مفاد میں نہیں۔
اگر مختلف سیاسی قوتیں کم از کم نکات پر اتفاق کر لیں تو ایک ایسی مشترکہ سیاسی دستاویز وجود میں آ سکتی ہے جو نہ صرف عوامی خواہشات کی نمائندگی کرے بلکہ دہلی کے سامنے ایک سنجیدہ سیاسی مؤقف بھی پیش کر سکے۔
عمر عبداللہ کے لیے ایک سیاسی آزمائش
محبوبہ مفتی نے اپنی اپیل میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے آل پارٹی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ محض رسمی نوعیت کا نہیں۔
اس وقت عمر عبداللہ ایک منتخب حکومت کے سربراہ ہیں اور نیشنل کانفرنس خطے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے۔ اگر وہ واقعی تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کی سیاسی قیادت کا ایک اہم امتحان بھی ہوگا۔
دوسری طرف اگر سیاسی جماعتیں باہمی بداعتمادی اور ماضی کے تنازعات سے باہر نہیں نکل پاتیں تو یہ کوشش آغاز ہی میں ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہے۔
دہلی اور کشمیر کے درمیان مکالمے کا سوال
جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جب بھی سیاسی مسائل نے شدت اختیار کی، بالآخر مکالمہ ہی ایک ناگزیر راستے کے طور پر سامنے آیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، انتظامی اقدامات اور سیاسی دباؤ وقتی نتائج تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن پائیدار سیاسی حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی شمولیت ضروری سمجھی جاتی رہی ہے۔
محبوبہ مفتی کی اپیل بھی اسی تصور کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لداخ میں مذاکرات کے ذریعے پیش رفت ممکن ہوئی ہے تو جموں و کشمیر میں بھی سیاسی مکالمے کا دروازہ کھلنا چاہیے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ریاستی درجہ کی بحالی، روزگار، زمین کے حقوق، انتظامی اختیارات اور سیاسی نمائندگی جیسے موضوعات دوبارہ زیر بحث ہیں۔
عوامی نفسیات اور سیاسی خلا
سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں اس وقت جو بحث جاری ہے، وہ دراصل عوامی نفسیات کی عکاس بھی ہے۔
ایک طبقہ محسوس کرتا ہے کہ مسلسل سیاسی کشمکش نے عوامی مسائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ دوسرا طبقہ سمجھتا ہے کہ مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد محض ایک سیاسی خواب ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
تاہم دونوں آراء کے درمیان ایک مشترک نکتہ موجود ہے کہ موجودہ صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھنے سے مسائل حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔
یہی وجہ ہے کہ ’’لداخ ماڈل‘‘ محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ممکنہ راستے کے طور پر زیر بحث آ رہا ہے۔
اصل سوال کیا ہے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ محبوبہ مفتی کی تجویز کس جماعت کو فائدہ پہنچائے گی اور کس کو نقصان۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت اتنی بالغ نظری کا مظاہرہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کے باوجود عوامی مفاد کے چند بنیادی نکات پر متفق ہو جائے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ خطہ ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔
اور اگر جواب نفی میں ہے تو پھر سیاسی تقسیم کا موجودہ سلسلہ جاری رہے گا اور عوامی توقعات ایک مرتبہ پھر سیاسی رقابتوں کی نذر ہو جائیں گی۔
محبوبہ مفتی کی تازہ اپیل نے کشمیر کی سیاست میں ایک اہم فکری بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث محض ایک آل پارٹی اجلاس یا چند سیاسی خطوط تک محدود نہیں بلکہ اس بنیادی سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ جموں و کشمیر کا سیاسی مستقبل کس سمت میں آگے بڑھے گا۔
لداخ نے اختلافات کے باوجود مشترکہ مفاد کی سیاست کا ایک نمونہ پیش کیا ہے۔ اب نظریں کشمیر کی سیاسی قیادت پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس مثال سے سبق سیکھ کر ایک مشترکہ سیاسی آواز تشکیل دے پاتی ہے یا نہیں۔
فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سرینگر کے سیاسی ایوانوں، دانشور حلقوں اور عوامی مجالس میں ’’لداخ‘‘ محض ایک خطے کا نام نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی استعارہ بن چکا ہے، اور یہی اس پوری بحث کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔






