میوہ صنعت کو وادی کشمیر کی معیشت کی ریڈ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے لیکن پچھلی ایک دہائی میں میوہ صنعت کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ سال 2014ء کا تباہ کن سیلاب ہو اسکے 2016ء کے کشیدہ حالات اور پھر 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی کا فیصلہ اور پھرکرونا وائرس اسکے بعد ہر سال کئی اضلاع میں سیلاب اور مسلسل ژالہ باری نے اس میوہ صنعت کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ جبکہ اب رواں سال بھی شمال سے لے کر جنوب تک ژالہ باری نے زراعت اور باغبانی کے شعبے کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں میوے کو کچھ علاقوں میں 30 فیصد اور کچھ علاقوں پچاس فیصد تک بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ امسال سب سے زیادہ تباہی جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور کولگام جبکہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور کپواڑہ اضلاع میں دیکھی گئی، جہاں سیب، چیری، اخروٹ اور دیگر پھلوں کے باغات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔جس سے اس سال کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
باغبانی کا شعبہ جموں و کشمیر کے مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار میں تقریباً آٹھ فیصد حصہ ڈالتا ہے اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تقریباً 7.5 لاکھ خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ یہ شعبہ دیہی علاقوں میں نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب چند منٹوں میں تقریباً ایک تہائی فصل تباہ ہو جائے تو اس کے اثرات صرف موجودہ سیزن تک محدود نہیں رہتے بلکہ کسانوں کی مالی حالت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دوسری جانب سے متاثرہ کسانوں اور باغبان تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کی باغبانی کے لیے خصوصی اور سبسڈی یافتہ فصل بیمہ اسکیم متعارف کرائی جائے، نقصان کا شفاف اور بروقت تخمینہ لگایا جائے، اور متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے قرضوں خصوصاً کسان کریڈٹ کارڈ قرضوں کی تنظیمِ نو یا جزوی معافی پر غور کیا جائے۔سوپور کی ایشیا کی دوسری سب سے بڑی فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد ملک نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سال 2026 کو باغبانی اور زراعت کے شعبوں کے لیے ’’آفت زدہ سال‘‘ قرار دیا جائے۔ سوپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض احمد ملک نے کہا کہ تباہی کی شدت نے ہزاروں کسان اور باغبان خاندانوں کو مالی بحران کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور فوری سرکاری مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔
ادھر کشمیر ویلی فروٹ گروورز کم ڈیلرز یونین نے باغ مالکان کے لیے جامع امدادی پیکیج، فصل بیمہ اسکیم کے فوری نفاذ اور مارکیٹ انٹروینشن اسکیم کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وادی کی نازک دیہی معیشت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یونین نے کہا کہ اس سیزن میں بار بار موسم کی خرابی ایک معمول بن چکی ہے، جہاں شام کے اوقات میں اچانک ژالہ باری اور تیز ہوائیں وادی بھر کے باغات میں تباہی مچا رہی ہیں۔
یونین کے مطابق جامع معاوضہ پیکیج، فصل بیمہ اسکیم کے نفاذ اور مارکیٹ انٹروینشن اسکیم کی بحالی کے مطالبات بارہا حکام کے سامنے اٹھائے گئے، لیکن اب تک ان پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
شمالی کشمیر کے رفیع آباد علاقے میں ژالہ باری کے بعد اگر چہ علاقے کا خود وزیر زراعت جاوید ڈار نے دورہ کیا لیکن وہاں دئے گئے وعدے کہ کسانوں کو ہر ممکن معاوضہ فراہم کیا جائے گا تاہم اس میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ سوپور منڈی کے صدر فیاض ملک نے راقم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم پچھلے تیس برس سے سنتے آرہے ہیں کہ لیکن باغ مالکان کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے اور صرف تخمینہ ہی لگایا جا رہا ہے اور بعد میں معاوضہ نہیں دیا جاتا “۔
وہیں دوسری طرف سے وادی کشمیر میں کسانوں کی شکایت یہ بھی رہی ہے کہ ہارٹیکلچر سیکٹر اگر چہ ریڈ کی ہڈی تصور کی جا تی ہے لیکن اس کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ شعبہ سیاحت کو ایسے پیش کیا جا تا ہے جیسے کشمیر سیاحت کے شعبے سے ہی چلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرکار کو چاہیے کہ 7 لاکھ کنبوں کے روزگار کو بچانے کے لیے سرکار کو فوری طور پر کراپ انشورنس سکیم لاگو کرنی چاہیے اور اسکے ساتھ ساتھ ہر سال ژالہ باری سے ہو رہے نقصان کا معاوضہ بھی فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ اس شعبے کو بچانے کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید لوگ اس شعبے کیساتھ جڑیں۔





