• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جون ۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

ڈیسک رپورٹ/عاصم فاروق

by امت ڈیسک
05/06/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ مون سون اجلاس کے پہلے دن اس کی پوری قیادت اور اراکین اسمبلی نئی دہلی میں احتجاج کریں گے اور ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو قومی سطح پر اُجاگر کریں گے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وادی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں، اتحادی سیاست میں دراڑوں کی چہ مگوئیاں ہیں اور عوامی سطح پر یہ سوال شدت سے اُٹھ رہا ہے کہ آخر 2019 کے بعد جموں و کشمیر کی سیاسی شناخت کی بحالی کب اور کیسے ممکن ہوگی؟

داچی گام کے پُرفضا مگر سخت حفاظتی حصار میں منعقدہ نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس محض ایک تنظیمی نشست نہیں تھا بلکہ اسے آئندہ سیاسی حکمت عملی کے تعین کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خود اس اجلاس کو گزشتہ انیس ماہ کی حکومتی کارکردگی کا جائزہ قرار دیا، لیکن اندرونی ذرائع کے مطابق گفتگو کا بڑا حصہ ریاستی درجے، اختیارات کی تقسیم، انتظامی رکاوٹوں اور عوامی ناراضگی کے گرد گھومتا رہا۔

’’دہلی کو پیغام دینا ضروری ہے‘‘

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے چیف ترجمان تنویر صادق نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت دہلی جا کر براہ راست اپنی بات رکھے۔انہوں نے کہا کہ ’’ریاستی درجے کی بحالی اور آئینی ضمانتوں کا مطالبہ محض نیشنل کانفرنس کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کا مطالبہ ہے۔ ہم پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے دن دہلی میں اپنی آواز بلند کریں گے۔‘‘

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں عوام نے اسے ایک مضبوط مینڈیٹ دیا تھا، مگر عوام کی بڑی توقعات ریاستی درجے کی بحالی اور اختیارات کی واپسی سے وابستہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت اور پارٹی دونوں اس مطالبے کو دوبارہ سیاسی مرکزیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوال یہ بھی ہے: انیس ماہ میں کیا بدلا؟

اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی اعتراض یہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی درجے کی بحالی نیشنل کانفرنس کی اولین ترجیح تھی تو اقتدار سنبھالنے کے بعد اس معاملے میں کیا پیش رفت ہوئی؟

سیاسی حلقوں میں یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا دہلی میں احتجاج ایک نئی حکمت عملی ہے یا عوامی دباؤ کا نتیجہ؟
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کو انتظامی سطح پر درپیش مشکلات، بیوروکریسی پر محدود اختیار اور لیفٹیننٹ گورنر کے وسیع اختیارات نے نیشنل کانفرنس کو سیاسی طور پر دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں ریاستی درجے کا مسئلہ ایک بار پھر جماعت کے لیے سیاسی محور بن رہا ہے۔

کانگریس کی خاموش بے چینی

اگرچہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس اتحادی ہیں، لیکن دونوں جماعتوں کے تعلقات گزشتہ چند ماہ سے مثالی نہیں رہے۔ کانگریس نے حکومت میں شامل ہونے کے بجائے باہر سے حمایت کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس کی بنیادی دلیل بھی یہی تھی کہ ریاستی درجے کی بحالی کے بغیر سیاسی عمل ادھورا ہے۔

داچی گام اجلاس میں دونوں جماعتوں کے تعلقات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اراکین نے کانگریس کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ریاستی درجے کے مطالبے پر مشترکہ سیاسی دباؤ پیدا کیا جا سکے۔

اپوزیشن کا ردعمل: ’’صرف احتجاج کافی نہیں‘‘

اگرچہ بیشتر علاقائی جماعتیں ریاستی درجے کی بحالی کی حامی ہیں، تاہم اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف احتجاجی سیاست سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کا مؤقف یہ ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس واقعی اس مسئلے پر سنجیدہ ہے تو اسے دہلی کے ساتھ بامعنی سیاسی مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرنی ہوگی۔

بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر مشترکہ آل پارٹی پلیٹ فارم کیوں تشکیل نہیں دیا جا رہا، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی حال ہی میں تمام سیاسی جماعتوں کے متحدہ موقف کی ضرورت پر زور دے چکی ہیں۔

احتجاج کہاں ہوگا؟ مقام پر خاموشی اور قیاس آرائیاں

سیاسی حلقوں میں اس وقت سب سے زیادہ بحث اس سوال پر ہو رہی ہے کہ نیشنل کانفرنس دہلی میں احتجاج کہاں کرے گی؟

پارٹی قیادت نے ابھی تک مقام کا اعلان نہیں کیا۔ یہی خاموشی مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہے۔ بعض ذرائع پارلیمنٹ کے قریب احتجاج کی بات کرتے ہیں جبکہ کچھ کے مطابق انتظامی پابندیوں کے باعث متبادل مقام اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق احتجاج کا مقام صرف انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہوگا۔ اگر احتجاج پارلیمنٹ کے قریب ہوتا ہے تو اسے براہ راست قومی سیاسی قیادت کو مخاطب کرنے کی کوشش سمجھا جائے گا، جبکہ کسی متبادل مقام کا انتخاب احتجاج کی سیاسی شدت پر سوالات بھی کھڑے کر سکتا ہے۔

آغا روح اللہ اور میاں الطاف کی غیر موجودگی

داچی گام اجلاس کی ایک اور قابلِ ذکر بات دو اہم اراکین پارلیمان، آغا روح اللہ مہدی اور میاں الطاف احمد کی عدم موجودگی رہی۔

اگرچہ پارٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی، لیکن سیاسی حلقوں میں اس پر تبصرے جاری ہیں۔ بعض مبصرین اسے محض مصروفیات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے پارٹی کے اندر مختلف سیاسی آراء کی علامت سمجھ رہے ہیں۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟

سیاسی جماعتوں کے بیانات سے قطع نظر، عام شہریوں کی بڑی تعداد کے لیے اصل سوال روزگار، ترقی، سرمایہ کاری اور انتظامی جوابدہی کا ہے۔ عوامی حلقوں کا ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی ان مسائل کے حل کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرا طبقہ عملی نتائج دیکھنے کا خواہاں ہے۔

آگے کیا؟

دہلی میں مجوزہ احتجاج یقیناً نیشنل کانفرنس کے لیے ایک سیاسی آزمائش ہوگا۔ اگر یہ احتجاج قومی سطح پر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو ریاستی درجے کی بحث ایک بار پھر پارلیمنٹ اور قومی سیاست کے مرکز میں آ سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ محض علامتی سرگرمی ثابت ہوئی تو حکومت اور جماعت دونوں کو عوامی توقعات کے حوالے سے مزید سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فی الحال ایک بات واضح ہےکہ جموں و کشمیر میں ریاستی درجے کا مسئلہ ایک بار پھر سیاسی ایجنڈے کے مرکز میں آ چکا ہے، اور آنے والے ہفتے اس بحث کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

 لداخ کا سبق اور کشمیر کی سیاست: کیا متحدہ سیاسی آواز جموں و کشمیر کے تعطل کو توڑ سکے گی؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

33سال بعد حسین علیہ السلام کے نعروں سے سرینگر کی سڑکیں پھر گونج اُٹھیں

 لداخ کا سبق اور کشمیر کی سیاست: کیا متحدہ سیاسی آواز جموں و کشمیر کے تعطل کو توڑ سکے گی؟

05/06/2026
سوشل میڈیا کی دوستی، سرحد پار محبت اور ایل او سی کی سخت حقیقت

سوشل میڈیا کی دوستی، سرحد پار محبت اور ایل او سی کی سخت حقیقت

05/06/2026
ژالہ باری کی توڑی میوہ صنعت کی کمر!

ژالہ باری کی توڑی میوہ صنعت کی کمر!

05/06/2026
* جے اینڈ کے نظربندوں کو UT جیلوں سے باہر منتقل کرنے کے خلاف سپریم کورٹ نے درخواست ہائی کورٹ میں منتقل کردی*

 یو اے پی اے مقدمات میں جموں و کشمیر کی شرحِ سزا ایک فیصد سے بھی کم: سپریم کورٹ

22/05/2026
شمالی کشمیر میں مبینہ تبدیلیٔ مذہب معاملہ، پولیس تحقیقات جاری؛گزشتہ برس حضرتبل میں پیش آئے واقعہ کی بازگشت

شمالی کشمیر میں مبینہ تبدیلیٔ مذہب معاملہ، پولیس تحقیقات جاری؛گزشتہ برس حضرتبل میں پیش آئے واقعہ کی بازگشت

22/05/2026
دہلی میں وزیر داخلہ سے  عمر عبداللہ کی ملاقات، ریاستی درجے سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال

‘موزوں وقت’ کے پنجے میں پھنسا جموں کشمیر کا ریاستی درجہ !

22/05/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »