امت نیوز ڈیسک //
بنگلورو، 5 جون: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی بھارت کی جانب سے کی گئی سب سے بڑی پالیسی غلطی تھی۔ انہوں نے یہ بات "دی ہندو ہڈل 2026” کے ایک سیشن کے دوران کہی، جہاں وہ کشمیر کے سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کی ترقی میں رکاوٹ نہیں تھا، بلکہ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تشدد اور عدم استحکام نے خطے کی ترقی کو متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کو غیر محفوظ خطہ تصور کیے جانے کی وجہ سے سرمایہ کاری اور ترقیاتی عمل متاثر ہوا۔
وزیر اعلیٰ نے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ کب اور کن شرائط کے تحت دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی اور انتخابات کے بعد ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی واضح ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا، "اگر ریاستی درجے کی بحالی ایک وعدہ ہے تو حکومت کو عوام کو بتانا چاہیے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔”
عمر عبداللہ نے "ایک ملک، ایک انتخاب” کے تصور پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت جیسے متنوع ملک میں اس نظام کا نفاذ عملی طور پر مشکل ہے۔ ان کے مطابق مختلف ریاستوں کے سیاسی حالات اور حکومتوں کی غیر یقینی مدتِ اقتدار اس منصوبے کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی جماعتوں میں اس تجویز کے مقاصد کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور جب تک حکومتوں کے قبل از وقت گرنے کی صورت حال کا مؤثر حل نہیں نکالا جاتا، اس منصوبے پر عملدرآمد آسان نہیں ہوگا۔






