وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں رواں برس اپریل میں ایک مبینہ انکاؤنٹر میں جاں بحق ہونے والے 30 سالہ راشد احمد مغل کی میت تقریباً ڈھائی ماہ بعد اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی، جس کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں چونٹ ولیوار، لارگاندربل کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق راشد احمد مغل کی باقیات گزشتہ ہفتے شمالی کشمیر کے اُس قبرستان سے نکالی گئیں جہاں ان کی تدفین انکاؤنٹر کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ بعد ازاں میت اہلِ خانہ کے سپرد کی گئی اور محدود پیمانے پر رات کے وقت تدفین انجام دی گئی۔ تدفین کے موقع پر خاندان کے چند افراد کے علاوہ پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔
واضح رہےیہ معاملہ یکم اپریل2026 کو اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب آرمی نے گاندربل کے ارہامہ جنگلات میں ایک کارروائی کے دوران ایک’’مشتبہ عسکریت پسند‘‘ کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم ہلاک شدہ شخص کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی تھی۔
بعد ازاں جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے برآمد کیے گئے ایک اے ٹی ایم کارڈ کی مدد سے مقتول کی شناخت راشد احمد مغل ساکن چونٹ ولیوار گاندربل کے طور پر ہوئی۔ شناخت سامنے آنے کے بعد اہلِ خانہ نے فوج کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ راشد کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ ایک عام شہری تھے۔
خاندان کے مطابق راشد احمد مغل مقامی لوگوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، جاب کارڈ، ضعیف العمری پنشن اور بینک قرضوں سے متعلق کاغذی کارروائی مکمل کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے اور اسی ذریعے سے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔
راشد کے بھائی اعجاز احمد کے مطابق، 31 مارچ کی صبح راشد گھر سے نکلے تھے لیکن شام تک واپس نہیں آئے۔ اہلِ خانہ نے شام تقریباً چھ بجے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ان کا موبائل فون بند تھا۔ خاندان نے ابتدا میں یہ سمجھا کہ چونکہ راشد ایک پرانا موبائل فون استعمال کرتے تھے، اس لیے ممکنہ طور پر فون خراب ہو گیا ہوگا۔
اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ اگلی صبح مقامی پولیس تھانے کے ایک افسر نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کے بھائی کا ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ انہیں سرینگر میں واقع پولیس کنٹرول روم لے جایا گیا جہاں انہیں ایک لاش کی شناخت کرنے کے لیے کہا گیا۔ اعجاز کے مطابق وہ یہ دیکھ کر سکتے میں آ گئے کہ وہ لاش ان کے بھائی راشد کی تھی۔
خاندان کا الزام ہے کہ بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ راشد ایک انکاؤنٹر میں مارے گئے ’’عسکریت پسند‘‘ تھے، تاہم انہوں نے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے راشد کی بے گناہی پر زور دیا۔ اہلِ خانہ کا مزید کہنا ہے کہ بارہا درخواستوں کے باوجود انہیں فوری طور پر میت حوالے نہیں کی گئی بلکہ اسے شمالی کشمیر منتقل کر کے وہاں تدفین عمل میں لائی گئی۔
اس واقعے نے سیاسی حلقوں میں بھی ردعمل پیدا کیا تھا۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے معاملے کی شفاف اور مقررہ مدت کے اندر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تحقیقات میں تاخیر یا حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی تو اس سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچے گا۔
اسی طرح پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مقتول ایک سماجی کارکن تھا اور اس کا عسکری سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
بعد ازاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی انتظامیہ کے تحت کام کرنے والے محکمہ داخلہ نے واقعے کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ تحقیقات غیر جانبدارانہ اور جامع ہوں گی اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم، واقعے کو تقریباً ڈھائی ماہ گزر جانے کے باوجود مجسٹریل تحقیقات کی رپورٹ اب تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہے، جس کے باعث راشد احمد مغل کی ہلاکت سے متعلق کئی سوالات بدستور تشنہ جواب ہیں۔
فی الوقت اس معاملے میں دو متضاد دعوے سامنے ہیں۔ ایک طرف فوج کا مؤقف ہے کہ راشد ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا مشتبہ عسکریت پسندتھا، جبکہ دوسری جانب اہلِ خانہ اور بعض سیاسی رہنما اسے ایک بے گناہ شہری قرار دیتے ہوئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مجسٹریل انکوائری کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ہی اس معاملے کی اصل حقیقت واضح ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔






