دنیا کی دو بڑی مخالف قوتوں، امریکا اور ایران، کے درمیان جاری مجوزہ مفاہمتی عمل نے بین الاقوامی سفارت کاری کی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ تقریباً نصف صدی سے جاری بداعتمادی، اقتصادی پابندیوں، عسکری کشیدگی اور سیاسی اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کا مذاکرات کی جانب پیش رفت کرنا عالمی سیاست میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
مؤقربرطانوی اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ سفارتی عمل نہایت پیچیدہ، غیر یقینی اور کئی رکاوٹوں سے بھرپور رہا۔ اس سفارتی عمل میں قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی رابطہ کاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ مذاکرات کے دوران متعدد مواقع ایسے آئے جب یہ تاثر پیدا ہوا کہ تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی، لیکن ثالث ممالک کی مسلسل سفارتی سرگرمیوں نے رابطوں کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیا۔
نصف صدی پر محیط کشیدگی
1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ تہران میں امریکی سفارت خانے کے بحران کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط تقریباً ختم ہو گئے۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک اقتصادی پابندیاں، جوہری
پروگرام پر اختلافات اور مشرق وسطیٰ میں متضاد مفادات کشیدگی کا باعث بنتے رہے۔
2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا تھا، تاہم بعد میں امریکا کی جانب سے اس سے علیحدگی اختیار کیے جانے کے بعد تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئے۔ حالیہ مذاکرات کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
خفیہ سفارت کاری کا راستہ
فنانشل ٹائمز کے مطابق حالیہ مہینوں میں جب خلیج فارس میں کشیدگی بڑھنے لگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے تو بعض علاقائی ممالک نے پس پردہ رابطوں کا آغاز کیا۔ قطر، جو ماضی میں بھی متعدد تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل کی ذمہ داری سنبھالی۔
قطر کے سفارت کاروں نے ہفتوں تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ عمل انتہائی رازداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تاکہ سیاسی دباؤ اور میڈیا کی قیاس آرائیوں سے مذاکرات متاثر نہ ہوں۔
رپورٹ کے مطابق کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی، لیکن ثالثوں نے بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے دیے۔ بعض ملاقاتیں انتہائی خفیہ رکھی گئیں تاکہ مذاکراتی عمل میڈیا کے دباؤ اور سیاسی مخالفت سے محفوظ رہے۔
فوجی کشیدگی کے سائے میں مذاکرات
مذاکراتی عمل ایسے وقت میں جاری رہا جب خطہ مسلسل کشیدگی کا شکار تھا۔ امریکی کارروائیوں، ایرانی ردعمل اور اسرائیل سے متعلق سکیورٹی خدشات نے سفارت کاری کے عمل کو کئی بار خطرے میں ڈال دیا۔
رپورٹس کے مطابق قطری وفد کو ایک موقع پر تہران میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات کس قدر حساس ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود سفارتی رابطے جاری رکھے گئے۔
ٹرمپ کی حکمت عملی اور ایرانی احتیاط
رپورٹ کے مطابق امریکی قیادت کی خواہش تھی کہ جلد از جلد کوئی ایسا فریم ورک سامنے آئے جو کشیدگی میں کمی کا باعث بنے۔ دوسری جانب ایران نے نسبتاً محتاط طرزِ عمل اختیار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو داخلی سطح پر قابلِ قبول ہونا چاہیے۔
یہی وجہ تھی کہ مذاکرات کی رفتار اکثر سست پڑتی رہی اور متعدد نکات پر طویل مشاورت کی ضرورت پیش آئی۔
مجوزہ معاہدے کے اہم نکات
ذرائع کے مطابق زیر غور مفاہمتی دستاویز میں درج ذیل امور شامل رہے:
- جنگ بندی میں توسیع؛
- آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی؛
- ایران کے جوہری پروگرام پر مستقبل کے مذاکرات؛
- افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات پر بات چیت؛
- بعض اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی؛
- کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطہ کاری کا نظام۔
تاہم ان تمام نکات پر حتمی اتفاق رائے کے لیے مزید پیش رفت درکار ہے۔
عالمی سفارت کاری کے لیے ایک اہم سبق
امریکا اور ایران کے درمیان جاری مفاہمتی عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید ترین اختلافات رکھنے والے ممالک بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس عمل سے یہ سبق ملتا ہے کہ عسکری دباؤ اور سیاسی بیانات کے ساتھ ساتھ مکالمے کے دروازے کھلے رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق طویل المدتی تنازعات میں اعتماد سازی، غیر رسمی رابطے اور ثالثی کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا۔ایران مذاکرات کی مثال یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں بھی سفارت کاری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ہر تنازع کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، تاہم بات چیت، اعتماد سازی اور سیاسی عمل کو جاری رکھنا تنازعات کے پائیدار حل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
دیگر عالمی تنازعات کے تناظر میں
ہند -پاک چپقلش،روس۔یوکرین جنگ، غزہ کی صورتحال، شام اور افریقہ کے مختلف بحرانوں نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ جنگ کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ انسانی جانوں کے ضیاع، معاشی نقصان اور سیاسی عدم استحکام کے باعث بالآخر سفارت کاری ہی وہ راستہ بنتی ہے جس کے ذریعے پائیدار امن کی امید پیدا کی جا سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری مفاہمتی عمل ابھی اپنے حتمی مرحلے تک نہیں پہنچا، لیکن اس نے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ عالمی سیاست میں مذاکرات کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔
آج کے غیر یقینی عالمی ماحول میں یہ احساس پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے کہ اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، ان کا مستقل حل جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ سفارت کاری، مکالمے اور سیاسی بصیرت کے ذریعے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہی راستہ عالمی امن، علاقائی استحکام اور بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔








