آج کے دور میں غریب آدمی کی زندگی پہلے ہی ہزاروں مشکلوں میں گھری ہوئی ہے کوئی مزدوری کرتا ہے کوئی رکشہ چلاتا ہے کوئی اینٹیں اٹھاتا ہے اور کوئی دن بھر دھوپ میں جل کر صرف اتنا کماتا ہے کہ شام کو بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی لا سکے مگر جب اسی غریب انسان کے گھر بیماری داخل ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے پورا گھر اندھیروں میں ڈوب گیا ہو. بیماری صرف جسم کو کمزور نہیں کرتی بلکہ انسان کی ہمت امید اور عزت نفس تک توڑ دیتی ہے۔ خاص طور پر جب علاج مہنگا ہو اور اسپتال انسانیت کے بجائے کاروبار کے اڈے بن جائیں.
آج بہت سے پرائیویٹ کلینک اور نجی اسپتال ایسے ہیں جہاں غریب مریض کو مریض نہیں بلکہ چلتی پھرتی رقم سمجھا جاتا ہے دروازے پر داخل ہوتے ہی فیس کی پرچی ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے ایک غریب مزدور جو پورا دن محنت کر کے پانچ سو یا سات سو روپے کماتا ہے اس سے ایک ہزار روپے فیس مانگی جاتی ہے وہ کانپتے ہاتھوں سے جیب ٹٹولتا ہے کبھی قرض لیتا ہے کبھی دوستوں سے مانگتا ہے اور کبھی گھر جا کر بچوں کے خرچ کے پیسے اٹھا لاتا ہے صرف اس امید پر کہ شاید ڈاکٹر اس کی تکلیف کم کر دے.
مگر افسوس ہر سفید کوٹ والا مسیحا نہیں ہوتا کچھ جاہل اور ظالم ڈاکٹر ایسے بھی ہیں جنہیں مریض کے درد سے زیادہ اپنی کمائی عزیز ہوتی ہے وہ مریض کو غور سے نہیں دیکھتے چند سیکنڈ بات کرتے ہیں اور فوراً دوائیوں کی لمبی فہرست لکھ دیتے ہیں مہنگی دوائیاں مہنگے انجکشن اور بے شمار ٹیسٹ جیسے انسان نہیں کوئی مشین خراب ہو گئی ہو غریب آدمی ڈاکٹر کے سامنے خاموش کھڑا رہتا ہے کیونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتا اسے سمجھ نہیں آتی کون سی دوا ضروری ہے اور کون سا ٹیسٹ صرف پیسہ کمانے کے لیے لکھا گیا ہے.
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ دوا شفا کے بجائے زہر بن جاتی ہے غلط دوائیں غلط انجکشن اور لاپرواہی غریب انسان کی جان لے لیتی ہے مگر کسی کو فرق نہیں پڑتا ڈاکٹر اگلے مریض کو بلا لیتا ہے کلینک کے باہر پھر نئی قطار لگ جاتی ہے کسی کی ماں بیمار ہوتی ہے کسی کا بچہ بخار میں جل رہا ہوتا ہے اور کسی بوڑھے باپ کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہوتی ہے مگر اس نظام میں انسانیت کہیں کھو چکی ہے.
ایک غریب ماں جب اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھا کر کلینک جاتی ہے تو اس کی آنکھوں میں صرف ایک امید ہوتی ہے کہ شاید اس کا بچہ ٹھیک ہو جائے گا مگر جب ڈاکٹر کی فیس سن کر وہ خاموش ہو جاتی ہے تو اس کے دل کے اندر ایک طوفان اٹھتا ہے وہ اپنے دوپٹے کے کونے میں بندھے چند نوٹ کھولتی ہے اور گنتی کرتی ہے کبھی پیسے کم پڑ جاتے ہیں تو وہ لوگوں کی طرف حسرت سے دیکھتی ہے اس لمحے اس ماں کی بے بسی دنیا کا سب سے بڑا دکھ لگتی ہے.
بعض ظالم ڈاکٹر مریض کو جان بوجھ کر ڈراتے ہیں تاکہ وہ زیادہ پیسے خرچ کرے معمولی بیماری کو خطرناک بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہا جاتا ہے فوری ٹیسٹ کرواؤ ورنہ جان خطرے میں ہے غریب انسان خوفزدہ ہو جاتا ہے وہ قرض لیتا ہے سود پر پیسے اٹھاتا ہے مگر اپنے پیاروں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے کئی خاندان صرف علاج کے خرچ کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے قرضوں میں ڈوب جاتے ہیں.
نجی اسپتالوں کے کمروں میں ٹھنڈی ہوا چلتی ہے مگر غریب انسان کے دل میں آگ لگی ہوتی ہے ایک طرف ڈاکٹر کی فیس دوسری طرف دوائیوں کا خرچ اور پھر ٹیسٹوں کی لمبی لسٹ خون کے ٹیسٹ ایکسرے الٹراساؤنڈ سکین ہر چیز ہزاروں روپے میں ہوتی ہے غریب آدمی سوچتا رہ جاتا ہے کہ آخر بیماری کا علاج کروائے یا بچوں کے لیے کھانا خریدے.
آج کے دور میں علاج اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ غریب آدمی بیماری چھپانے لگا ہے کئی لوگ صرف اس لیے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے کیونکہ ان کے پاس فیس نہیں ہوتی وہ خاموشی سے درد برداشت کرتے رہتے ہیں کئی بوڑھے والدین اپنے بچوں پر بوجھ نہ بننے کے لیے بیماری چھپا لیتے ہیں کئی مائیں رات بھر بخار میں جلتی رہتی ہیں مگر صبح بچوں کے لیے روٹی پکاتی ہیں کیونکہ ان کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے.
سرکاری اسپتال بھی غریب عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکے وہاں لمبی قطاریں بے عزتی اور لاپرواہی ملتی ہے مریض گھنٹوں انتظار کرتے ہیں کبھی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا کبھی دوائی ختم ہوتی ہے اور کبھی کہا جاتا ہے باہر سے خرید لو غریب انسان آخر کہاں جائے نجی اسپتالوں میں رحم نہیں اور سرکاری اسپتالوں میں سہولت نہیں.
سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی غریب باپ اپنے بچے کے علاج کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتا ہے. وہ جو ساری زندگی عزت سے محنت کرتا رہا آج اپنی اولاد کی جان بچانے کے لیے دوسروں سے مدد مانگ رہا ہوتا ہے کتنی شرمندگی کتنی بے بسی اور کتنا درد ہوتا ہے اس لمحے میں مگر یہ درد صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے غربت دیکھی ہو.
بعض ڈاکٹر دوائی کمپنیوں سے مل کر صرف اپنی کمائی بڑھاتے ہیں مریض کو وہ دوائیں دی جاتی ہیں جن سے ڈاکٹر کو فائدہ ہو چاہے مریض پر کتنا ہی بوجھ کیوں نہ پڑے ایک طرف ڈاکٹر کی بڑی گاڑیاں اور عالی شان گھر ہوتے ہیں اور دوسری طرف غریب مریض کے گھر میں چولہا تک نہیں جلتا یہ فرق صرف پیسے کا نہیں بلکہ انسانیت کے مرنے کا ثبوت ہے.
کتنے ہی لوگ صرف غلط علاج کی وجہ سے اپنی جان کھو دیتے ہیں کچھ جاہل ڈاکٹر بغیر تجربے کے مریضوں پر تجربے کرتے ہیں غلط انجکشن غلط دوائیں اور لاپرواہی انسان کی زندگی ختم کر دیتی ہے مگر غریب کی موت پر شور نہیں مچتا کوئی آواز نہیں اٹھتی چند دن بعد سب بھول جاتے ہیں صرف ایک ماں ساری زندگی اپنے بچے کو یاد کر کے روتی رہتی ہے یا ایک بچہ اپنے باپ کے بغیر زندگی گزارتا ہے.
آج علاج عبادت نہیں کاروبار بن چکا ہے سفید کوٹ جو کبھی عزت اور خدمت کی علامت تھا اب کئی جگہوں پر لالچ کی نشانی بنتا جا رہا ہے مریض کی نبض سے زیادہ اس کی جیب دیکھی جاتی ہے انسانیت خاموش ہو چکی ہے رحم ختم ہوتا جا رہا ہے.






