امت نیوز ڈیسک //
بیروت/یروشلم، 19 جون: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جھڑپوں کے دوران اس کے چار فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کی صبح سے جاری شدید فضائی حملوں نے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کو متاثر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
مقامی رہائشیوں اور لبنانی میڈیا کے مطابق رات بھر اور جمعہ کی صبح جنوبی لبنان کے ضلع النبطیہ کے متعدد علاقوں میں شدید بمباری اور گولہ باری کی گئی۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اسے حالیہ ہفتوں کی شدید ترین بمباری قرار دیا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں علی الطاہر پہاڑی کے قریب پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی فورس پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں تین مرکاوا ٹینک تباہ کیے گئے اور اسرائیلی فوجیوں کو راکٹوں اور توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔ حزب اللہ کے مطابق علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ایک روز قبل جنوبی لبنان میں اپنے فوجی کنٹرول کے توسیع شدہ علاقے کا نقشہ جاری کیا تھا اور مزید کارروائیوں کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا تھا۔ اس پیش رفت نے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے حالیہ ایران-اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنے اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ تاہم اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنی فوجی واپسی کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں، جبکہ حزب اللہ بھی اسرائیلی پوزیشنوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے معاملے پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔






