• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جون ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
جے کے پی سی سی میں اختلافات عروج پر، کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر لی

جے کے پی سی سی میں اختلافات عروج پر، کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر لی

ڈیسک رپورٹ/شاہد لطیف

by امت ڈیسک
26/06/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ؕرپورٹ جلد ہائی کمان کو پیش ہوگی، تادیبی کارروائی کا امکان؛

جموں و کشمیر کانگریس تنظیمی بحران کے نازک مرحلے میں داخل

جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) میں کئی ماہ سے جاری گروہ بندی اور قیادت کے خلاف کھلی بغاوت کے معاملے میں کانگریس ہائی کمان نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تشکیل دی گئی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کمیٹی آئندہ چند روز میں اپنی مفصل رپورٹ مرکزی قیادت کے سپرد کرے گی، جس کے بعد ان رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کا امکان ہے جنہیں پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی یا جماعت مخالف سرگرمیوں کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں پارٹی کے مختلف دھڑوں سے وابستہ رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، ان کے بیانات قلم بند کیے اور ایک دوسرے کے خلاف پیش کیے گئے دستاویزی شواہد، شکایات اور اعتراضات کا جائزہ لیا۔ اطلاعات کے مطابق کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بعض سینئر رہنماؤں نے میڈیا کے ذریعے پارٹی قیادت اور ہائی کمان کے خلاف بیانات دے کر تنظیمی نظم و ضبط کو نقصان پہنچایا، تاہم حتمی فیصلہ کانگریس صدر ملک ارجن کھرگے اور مرکزی قیادت کرے گی۔

اختلافات کی بنیاد کیا ہے؟

جموں و کشمیر کانگریس میں اختلافات اس وقت نمایاں ہوئے جب سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند اور سابق جے کے پی سی سی صدر وقار رسول وانی کی قیادت میں ایک گروپ نے موجودہ صدر طاریق حمید قرہ کے خلاف محاذ کھول دیا۔ باغی دھڑے نے الزام لگایا کہ پارٹی کے اہم فیصلے مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں، سینئر رہنماؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور تنظیمی ڈھانچہ چند افراد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

دوسری جانب طاریق حمید کرہ کے حامیوں کا موقف ہے کہ بعض ناراض رہنما اپنی سیاسی اہمیت کم ہونے کے باعث پارٹی کے اندر غیر ضروری تنازع کھڑا کر رہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ہائی کمان کی مداخلت کیوں ضروری ہوئی؟

پارٹی کے اندر اختلافات اس وقت سنگین صورت اختیار کر گئے جب رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف عوامی بیانات دینا شروع کیے۔ میڈیا میں الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا، جس سے نہ صرف پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ کارکنوں میں بھی بے چینی پیدا ہوئی۔

اسی پس منظر میں کانگریس صدرملک ارجن کھرگے نے 11 جون کو تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری سی کے وینگوپال کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کو جموں و کشمیر میں مبینہ پارٹی مخالف سرگرمیوں اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی تحقیقات سونپی گئی۔

کمیٹی کی سربراہی شکتی سنہاگوہل نے کی جبکہ امرسنگھ اوررفیق خان اس کے دیگر ارکان تھے۔

دونوں دھڑوں نے ایک دوسرے کے خلاف ڈوزیئر پیش کیے

پارٹی ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کے خلاف مبینہ بے ضابطگیوں، میڈیا بیانات، تنظیمی فیصلوں اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر مشتمل تفصیلی ڈوزیئر کمیٹی کے حوالے کیے۔ کمیٹی نے تمام دستاویزات اور متعلقہ رہنماؤں کے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کر لی ہے۔

جے کے پی سی سی ترجمان رویندر شرما نےاس بارے میںمیڈیا نمائندوں کے سوالات کے جواب میں تصدیق کی ہے کہ کمیٹی کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور اب فیصلہ مرکزی قیادت کرے گی۔ ان کے مطابق بعض رہنماؤں نے پارٹی کی مقررہ حدود سے تجاوز کیا، جس کے باعث ذمہ داری کا تعین ضروری ہو گیا۔

آزاد کی علیحدگی کے بعد کانگریس کیوں کمزور ہوئی؟

جموں و کشمیر کانگریس گزشتہ چار برس سے مسلسل تنظیمی بحران سے دوچار ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجہ 2022 میں سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد کی پارٹی سے علیحدگی تھی۔ آزاد نے قیادت سے اختلافات کے بعد نئی سیاسی جماعت قائم کی، جس کے نتیجے میں کانگریس کے متعدد سینئر رہنما، سابق وزراء، ضلع صدور اور کارکن پارٹی چھوڑ کر ان کے ساتھ چلے گئے۔

اگرچہ بعد میں آزاد کی جماعت ریاستی سیاست میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی اور اس کے کئی رہنما دوبارہ کانگریس میں واپس آ گئے، لیکن اس دوران کانگریس کی تنظیمی بنیاد، خصوصاً جموں خطے میں، بری طرح متاثر ہوئی۔ پارٹی آج بھی اپنی سابقہ عوامی بنیاد اور تنظیمی قوت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی دوران گزشتہ اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس نے ریاستی سیاست میں نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے دیگر جماعتوں کے ساتھ تعاون کی راہ اختیار کی، تاہم داخلی اختلافات ختم نہ ہو سکے۔ پارٹی کے اندر پرانے اور نئے رہنماؤں کے درمیان قیادت، تنظیمی اختیارات اور سیاسی حکمت عملی پر اختلافات مسلسل بڑھتے رہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ صرف چند رہنماؤں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی بنیاد پر جموں و کشمیر کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اگر مرکزی قیادت سخت فیصلے کرتی ہے تو اس سے پارٹی میں نظم و ضبط بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اگر اختلافات برقرار رہے تو آئندہ بلدیاتی اور دیگر انتخابات میں کانگریس کو مزید سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

جموں و کشمیر کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں کانگریس کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی داخلی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا، کارکنوں کا اعتماد بحال کرنا اور ایک مضبوط متبادل سیاسی قوت کے طور پر اپنی شناخت دوبارہ قائم کرنا ہے۔ اسی لیے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو پارٹی کے مستقبل کے لیے ایک اہم دستاویز قرار دیا جا رہا ہے، جس پر ہونے والا فیصلہ آنے والے دنوں میں جموں و کشمیر کانگریس کی سیاست کی سمت متعین کر سکتا ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

سات برس کی اسیری، عوامی مینڈیٹ اور ایک مشکل فیصلہ:کیا انجینئر رشید بارہمولہ کی پارلیمانی نشست چھوڑ دیں گے؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

انجینئر رشید فتح کے قریب، محمد عمر ہار تسلیم کر لی

سات برس کی اسیری، عوامی مینڈیٹ اور ایک مشکل فیصلہ:کیا انجینئر رشید بارہمولہ کی پارلیمانی نشست چھوڑ دیں گے؟

26/06/2026
لداخ میں عوامی بے چینی کا لاوا پھٹ پڑا! مکمل بند سے مرکز کو سخت پیغام، ’’لداخ کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے‘‘؛

لداخ میں عوامی بے چینی کا لاوا پھٹ پڑا! مکمل بند سے مرکز کو سخت پیغام، ’’لداخ کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے‘‘؛

26/06/2026
کشمیر میں ‘نارملسی’ کے بیان پر کانگریس لیڈر ششی تھرور کو اپنی ہی پارٹی کی تنقید کا سامنا

ششی تھرور کے کشمیر سے متعلق بیان پر کانگریس میں ہلچل، پارٹی قیادت سے اختلافات نمایاں

26/06/2026
پنجاب میں مبینہ ہراسانی کے خلاف کشمیر کو لائیو اسٹاک کی سپلائی معطل، مٹن اکانومی بحران کے دہانے پر

پنجاب میں مبینہ ہراسانی کے خلاف کشمیر کو لائیو اسٹاک کی سپلائی معطل، مٹن اکانومی بحران کے دہانے پر

26/06/2026
جی ایم سی اننت ناگ کے شعبۂ امراضِ قلب سے متعلق الزامات، ڈاکٹر معطل، تحقیقات جاری

جی ایم سی اننت ناگ کے شعبۂ امراضِ قلب سے متعلق الزامات، ڈاکٹر معطل، تحقیقات جاری

20/06/2026
امرناتھ یاترا: امسال یاتریوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچنے کا امکان

سالانہ امرناتھ یاترا: مرکزی وزارتِ داخلہ کا اعلیٰ سطحی وفد 20 اور 21 جون کو جموں و کشمیر کا دورہ کرے گا

19/06/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »