کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کی جانب سے جموں و کشمیر میں ’’معمول کی صورتحال کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت‘‘ سے متعلق بیان پر پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان کے بیان کو اپنی پالیسیوں کی تائید قرار دیتے ہوئے خیرمقدم کیا ہے۔
پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین ششی تھرور نے دورۂ جموں و کشمیر کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں معمول کی زندگی کی بحالی کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ متعدد چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
تھرور کے اس بیان پر کانگریس کی جموں و کشمیر یونٹ نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی کے چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ اگر ششی تھرور وادی کے عوام، مقامی سیاسی جماعتوں اور اپنی ہی پارٹی کے کارکنوں سے ملاقات کرتے تو انہیں زمینی صورتحال کا بہتر اندازہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی اور سیاسی عمل کی مکمل بحالی آج بھی عوام کے بنیادی مطالبات میں شامل ہیں۔
ادھر کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا نے بھی بالواسطہ طور پر تھرور کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مختلف طبقات سے ملاقات اور ان کی آراء سننے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب ہوگا۔
دوسری جانب بی جے پی نے ششی تھرور کے بیان کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جموں و کشمیر میں امن و استحکام کے حوالے سے مرکزی حکومت کے مؤقف کی تائید کرتا ہے۔ پارٹی ترجمانوں نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، پتھراؤ کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور عسکریت پسند تنظیموں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی بھی کم ہوئی ہے۔
بعد ازاں ششی تھرور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے طے شدہ ایجنڈے کے تحت تھا، جس میں بھارت۔پاکستان اور بھارت۔چین تعلقات کے علاوہ پاسپورٹ دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ لینا شامل تھا۔ ان کے مطابق یہ دورہ جموں و کشمیر کی داخلی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نہیں تھا اور انہیں مختلف حلقوں سے تفصیلی ملاقاتوں کا موقع نہیں ملا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ششی تھرور گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جو کئی مواقع پر کانگریس پارٹی کے مؤقف سے مختلف سمجھے گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بعض سفارتی سرگرمیوں کی تعریف اور حالیہ کشمیر سے متعلق بیان کے بعد پارٹی کے اندر ان کے کردار پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے الگ الگ مؤقف ہیں۔ جہاں بی جے پی اسے معمول کی زندگی کی بحالی کی علامت قرار دیتی ہے، وہیں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ریاستی درجہ کی بحالی، سیاسی سرگرمیوں اور عوامی نمائندگی کے مسائل کو اب بھی اہم قرار دیتی ہیں۔ ششی تھرور کا حالیہ بیان اسی وسیع سیاسی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔






