سالانہ امرناتھ یاترا 2026 کی تیاریوں کے آخری مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی مرکزی وزارتِ داخلہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد 20 اور 21 جون کو جموں و کشمیر کا دو روزہ دورہ کرے گا۔ وفد کی قیادت مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن کریں گے جبکہ اس میں مرکزی نیم فوجی دستوں، انٹیلی جنس بیورو اور وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وفد یاترا کے لیے کیے گئے سیکورٹی اور انتظامی انتظامات کا زمینی سطح پر جائزہ لے گا۔واضح رہے 57 روزہ امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو شراون پورنیما اور رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ جموں ڈویژن میں جائزہ اجلاس 20 جون کو جبکہ کشمیر ڈویژن میں 21 جون کو منعقد ہوگا۔ ان اجلاسوں میں جموں و کشمیر پولیس، سول انتظامیہ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مرکزی نیم فوجی دستوں کے اعلیٰ افسران شرکت کریں گے۔ یاترا کے دوران سیکورٹی انتظامات میں جموں و کشمیر پولیس کلیدی کردار ادا کرے گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب 12 جون کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے یاترا کی تیاریوں کا ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا تھا۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کےلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن، آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی، چیف سیکریٹری جموں وکشمیر اٹل ڈلو، ڈی جی پی جموں وکشمیر نالین پربھات اور مختلف سیکورٹی و انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شریک ہوئے تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یاترا کی سیکورٹی کے لیے درکار نفری کی تقریباً 90 فیصد تعیناتی مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی 10 فیصد اہلکاروں کو 20 جون سے قبل ان کی مقررہ جگہوں پر تعینات کر دیا جائے گا۔ وزارتِ داخلہ نے اس سال یاترا کے لیے 670 کمپنیوں پر مشتمل نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے، جن میں سے زیادہ تر اہلکار وادی کشمیر میں تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یاترا کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔ حساس مقامات پرچیکنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے جبکہ یاترا راستوں، بیس کیمپوں اور اہم تنصیبات پر سیکورٹی اہلکاروں کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سےموک ڈرلز کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ممکنہ سیکورٹی چیلنج سے فوری اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو تیز کرنے اور دیگر احتیاطی و پیشگی حفاظتی اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
اعلیٰ سطحی وفد صرف سیکورٹی انتظامات ہی نہیں بلکہ رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، لنگر انتظامات، مواصلاتی نظام اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا بھی جائزہ لے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سال یاترا کے لیے رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جبکہ جموں و کشمیر میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کے پیش نظر عقیدت مندوں کی بڑی تعداد کے پہنچنے کی توقع ہے۔
جموں خطے میں سیکورٹی انتظامات کا آغاز لکھن پور سے ہوگا جو جموں و کشمیر کا داخلی دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پٹھانکوٹ-جموں اور جموں-سرینگر قومی شاہراہ، ریلوے اسٹیشن، ہوائی اڈے، بس اڈے اور بھگوتی نگر یاتری نواس کو بھی سخت سیکورٹی حصار میں رکھا جائے گا، جہاں سے یاتری روزانہ سخت حفاظتی نگرانی میں قافلوں کی صورت میں روانہ ہوتے ہیں۔
کشمیر میں بال تل اور ننون (پہلگام) بیس کیمپوں، دونوں روایتی یاترا راستوں، مقدس غار اور یاتریوں کی آمد و رفت سے منسلک تمام قیام گاہوں پر کثیر سطحی سیکورٹی نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یاترا کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مجموعی سیکورٹی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئندہ جائزہ اجلاسوں میں یاترا راستوں پر نگرانی، انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی، یاتری قافلوں کا تحفظ، طبی امداد، مواصلاتی سہولیات، مختلف ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس رابطہ کاری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ شری امرناتھ یاترا کو پُرامن، محفوظ اور کامیاب بنایا جا سکے۔






