شراب پالیسی، زمین، بجلی اور آئینی حقوق پر عوام سڑکوں پر، لیہ و کرگل میں تاریخی احتجاج
برف پوش پہاڑوں کی خاموش وادی لداخ 23جون منگل کے روز عوامی احتجاج کی گونج سے لرز اُٹھی، جب پورے خطے میں مکمل بند کے ذریعے عوام نے مرکزی حکومت اور یو ٹی انتظامیہ کو یہ واضح پیغام دیا کہ لداخ کے سیاسی مستقبل، قدرتی وسائل، زمین، ثقافتی شناخت اور آئینی حقوق پر اب مزید خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ لیہ اور کرگل کی سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر نظر آنے والی غیر معمولی خاموشی دراصل اس بڑھتے ہوئے اضطراب کی آئینہ دار تھی، جو گزشتہ چند برسوں سے لداخ کے عوام کے دلوں میں مسلسل جنم لے رہا ہے۔
لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن (LBA) اور لداخ گونپا ایسوسی ایشن (LGA) کی اپیل پر ہونے والے اس بند کو لیہ ایپکس باڈی (LAB)، کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA)، مذہبی اداروں، تجارتی انجمنوں، ٹرانسپورٹ تنظیموں اور مختلف سماجی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ لیہ اور کرگل میں بیشتر بازار، کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے مکمل طور پر بند رہے، جبکہ ہزاروں افراد نے لیہ کے تاریخی پولو گراؤنڈ میں جمع ہو کر اپنے حقوق کے حق میں متحد آواز بلند کی۔
احتجاجی اجتماع میں مقررین نے ایک زبان ہو کر الزام عائد کیا کہ لداخ میں ایسے فیصلے مسلسل نافذ کیے جا رہے ہیں جن کا براہِ راست تعلق عوام کے مستقبل سے ہے، لیکن ان فیصلوں میں نہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، نہ منتخب قیادت سے مشاورت کی جاتی ہے اور نہ ہی عوامی احساسات کا احترام ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عوام کو محض فیصلوں سے آگاہ کیا جاتا ہے، ان کی رائے لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔
سب سے زیادہ تنقید حالیہ ایکسائز (شراب) پالیسی پر کی گئی۔ مقررین نے دعویٰ کیا کہ اس پالیسی کے ذریعے لداخ کے مختلف علاقوں میں شراب کی فروخت کو وسعت دینے اور نئے بار و شراب خانے قائم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جو اس خطے کی تہذیبی روایات، سماجی اقدار اور مذہبی حساسیت سے متصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی کے نام پر اگر معاشرتی اقدار کو کمزور کیا جائے تو ایسی ترقی عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہوگی۔
اسی طرح اراضی کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر بھی سخت اعتراضات سامنے آئے۔ مقررین نے کہا کہ زمین صرف ایک معاشی وسیلہ نہیں بلکہ لداخ کے عوام کی شناخت، بقا اور آنے والی نسلوں کا سرمایہ ہے۔ ان کے مطابق اگر زمین سے متعلق فیصلے عوام کی مرضی اور اعتماد کے بغیر کیے گئے تو اس کے نتائج دور رس ہوں گے۔ محکمہ بجلی کی مبینہ نجکاری کے خدشات کو بھی عوامی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ بنیادی عوامی خدمات کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
احتجاج کا ایک اہم محور وزارت داخلہ کے ساتھ امسال 22 مئی کو ہونے والے مذاکرات بھی رہے۔ لیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے قائدین نے الزام لگایا کہ مذاکرات میں جن نکات پر اصولی اتفاق ہوا تھا، انہیں سرکاری کارروائی (منٹس) میں صحیح طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ مقررین کے مطابق اگر مذاکرات کے نتائج ہی تبدیل کر دیے جائیں تو اعتماد کی فضا کیسے قائم رہ سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ لداخ کے عوام وعدوں کے بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
لیہ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے صدرچرنگ دورجے لکروک نے کہا کہ لداخ کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کا ذکر ہر قومی فورم پر کیا جاتا ہے، مگر جب یہاں کے عوام آئینی تحفظات، جمہوری نمائندگی اور اپنے وسائل کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی آواز کو سنجیدگی سے نہیں سنا جاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ موجودہ تحریک صرف چند انتظامی فیصلوں کے خلاف ردِعمل نہیں بلکہ لداخ کے عوام کے جمہوری وقار، آئینی تحفظ، زمین، روزگار، وسائل اور فیصلہ سازی میں مؤثر شراکت کی ایک ہمہ گیر جدوجہد ہے۔ ان کے مطابق لداخ کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔
اجتماع سے انجمن امامیہ، انجمن معین الاسلام، کرسچن ایسوسی ایشن، لداخ ٹریول ٹریڈ الائنس اور دیگر مذہبی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ لداخ کی مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی شناخت اور قدرتی وسائل کا تحفظ کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
عوامی اضطراب کا نیا موڑ
لداخ میں ہونے والا یہ بند صرف ایک روزہ احتجاج نہیں بلکہ اس بڑھتے ہوئے احساسِ محرومی کی علامت ہے جو خطے کے مختلف طبقات میں مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مرکز اور یو ٹی انتظامیہ نے لداخ کے عوام کے ساتھ اعتماد، شفافیت اور بامعنی مذاکرات کی راہ اختیار نہ کی تو بے چینی مزید گہری ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب احتجاجی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ آئینی تحفظات، جمہوری نمائندگی، زمین اور وسائل کے تحفظ کے مطالبات سے کسی صورت دستبردار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔






