امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 10 جولائی: میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ 13 جولائی 1931 کے شہداء کی قربانیاں کشمیری عوام کی اجتماعی یادداشت کا ہمیشہ حصہ رہیں گی اور ان کی جدوجہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
جامع مسجد سری نگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ 13 جولائی 1931 کو بنیادی حقوق کے مطالبے پر 21 بے گناہ کشمیریوں کو گولی مار کر شہید کیا گیا، جن کی قربانی نے جموں و کشمیر میں حقوق اور وقار کی جدوجہد کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے اجازت دی تو روایت کے مطابق 13 جولائی کو نمازِ ظہر کے بعد مزارِ شہداء نقشبند صاحب جا کر فاتحہ خوانی کی جائے گی۔
میرواعظ نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے متعلق کہا کہ انہیں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے دعوت موصول ہوئی ہے، تاہم یہ تحریک صرف ریاستی درجہ کی بحالی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی، برسوں سے جیلوں میں بند نوجوانوں کے حقوق اور جموں و کشمیر کے مسئلے کے پُرامن حل جیسے مطالبات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے نیشنل کانفرنس کو 2019 سے پہلے کی آئینی حیثیت بحال کرنے کے وعدے پر مینڈیٹ دیا تھا، اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔




