امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 14 جولائی: سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے متنازع بھوج شالہ-کمال مولا مسجد معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ تنازع کا جلد از جلد حل نکالا جا سکے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مدھیہ پردیش حکومت، ہندو فریقین اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کیس کو دو سے تین ہفتوں بعد دوبارہ سماعت کے لیے درج کرنے کی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے عبوری راحت دیتے ہوئے ہدایت دی کہ متنازع مقام سے متصل مسلمانوں کو ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک علیحدہ کھلی جگہ فراہم کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ انتظام عارضی ہوگا اور مقدمے کے حتمی فیصلے سے مشروط رہے گا۔
عدالت نے مزید کہا کہ متنازع کمپلیکس میں کسی بھی قسم کی ساختی تبدیلی یا تعمیراتی کام آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا بھی سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتا۔
یہ مقدمہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر مشتمل ہے، جس میں دھار ضلع کے بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس کو دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندر قرار دیا گیا تھا۔ اسی فیصلے میں اے ایس آئی کے اس پرانے حکم کو بھی منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اس مقام پر نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ یہ معاملہ نہایت حساس نوعیت کا ہے، اس لیے عدالت میں کیے جانے والے ہر تبصرے میں احتیاط برتنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کا غیر ضروری تنازع یا غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
قبل ازیں مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی اور وکیل نظام پاشا نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ معاملے کی فوری سماعت کی جائے، جس پر سپریم کورٹ نے جلد سماعت کی یقین دہانی کراتے ہوئے فریقین کو مطلوبہ قانونی نقائص دور کرنے کی ہدایت دی۔






