اُمت ڈیسک رپورٹ
جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف جاری وسیع پیمانے کی مہم نے اپنے پہلے سو دن مکمل کر لیے ہیں، اور حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران منشیات فروشوں اور نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلان کیا ہے کہ انتظامیہ اس مہم کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے اور نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگانے والوں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔
سرینگر میں’’ڈرگ فری جموں و کشمیر‘‘ مہم کے سو روز مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران2581 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا،1431 کلوگرام سے زائد مختلف اقسام کی منشیات برآمد کی گئیں، جن میں23.29 کلوگرام ہیروئن بھی شامل ہے، جبکہ 188.89 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے اثاثے ضبط کرکے نارکو دہشت گردی کی مالی شہ رگ پر ضرب لگائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ قانون شکنی کرنے والا کوئی بھی شخص رعایت کا مستحق نہیں ہوگا۔ اسی پالیسی کے تحت متعدد افراد کے ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی، سینکڑوں پاسپورٹ معطل کرنے کی سفارش کی گئی اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی فارمیسیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
نشے کے شکار نوجوانوں کی بحالی پر خصوصی توجہ
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت صرف منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ نشے کے شکار نوجوانوں کی بحالی کو بھی اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں افراد علاج اور بحالی کے عمل سے گزر کر دوبارہ معمول کی زندگی اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی ’’بحالی و سماجی و معاشی انضمام اسکیم 2026‘‘ نافذ کی جائے گی، جس کا آغاز جموں اور کشمیر ڈویژن کے دو حساس اضلاع سے ہوگا۔ تین سالہ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں طبی علاج اور نفسیاتی مشاورت، دوسرے مرحلے میں تعلیم اور روزگار، جبکہ تیسرے مرحلے میں سماجی بحالی اور دوبارہ نشے سے بچاؤ پر توجہ دی جائے گی۔
عوامی تعاون کے بغیر کامیابی ممکن نہیں
منوج سنہا نے عوام، والدین، اساتذہ، علماء، سماجی کارکنوں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف اس جنگ کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں منشیات کی سرگرمی نظر آئے تو فوری اطلاع دی جائے، جبکہ نشے میں مبتلا افراد کو نفرت نہیں بلکہ علاج اور بحالی کی طرف لایا جائے۔
انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اپنی صلاحیتوں، خوابوں اور مستقبل کو منشیات فروشوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنائیں بلکہ اپنی توانائیاں ریاست اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کریں۔
تقریب کے دوران محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے’’نشہ مکت جموں و کشمیر‘‘ مہم کی کامیابیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم پیش کی گئی، جبکہ جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے فنکاروں نے منشیات کے تباہ کن اثرات کو اُجاگر کرنے کے لیے ایک مختصر مگر مؤثر ڈرامہ پیش کیا۔ جموں و کشمیر پولیس اور انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی مہم کی پیش رفت، بحالی پروگراموں اور عوامی شمولیت سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشنز دیں۔
اس موقع پر جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سیدہ درخشاں اندرابی، چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات، اسپیشل ڈی جی کوآرڈینیشن سید جاوید مجتبیٰ گیلانی، پرنسپل سیکریٹری داخلہ چندرکر بھارتی، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مندیپ کمار بھنڈاری، کمشنر سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ، ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل، ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، عوامی نمائندے، تعلیمی اداروں کے سربراہان، اعلیٰ سول و پولیس افسران، سماجی و مذہبی تنظیموں کے نمائندے، ممتاز شہری اور جموں و کشمیر بھر سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بالمشافہ اور ورچوئل ذرائع سے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے خلاف مہم میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اعزازات سے نوازا، جبکہ محکمہ اطلاعات کی جانب سے مرتب کردہ خصوصی ’’کافی ٹیبل بک‘‘ کی بھی رونمائی کی، جس میں ’’نشہ مکت جموں و کشمیر‘‘ مہم کی سرگرمیوں، عوامی شمولیت اور حاصل شدہ نتائج کو تصویری اور دستاویزی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
حرف آخِر:
منشیات کے خلاف حکومتی مہم کے ابتدائی نتائج یقیناً حوصلہ افزا دکھائی دیتے ہیں، تاہم اصل کامیابی صرف گرفتاریوں اور ضبطیوں سے نہیں بلکہ اس بات سے مشروط ہوگی کہ آیا نوجوان نسل کو مستقل روزگار، معیاری تعلیم، کھیلوں اور مثبت سماجی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک منشیات کی طلب پیدا کرنے والے سماجی و معاشی عوامل کا مؤثر علاج نہیں کیا جاتا، صرف قانون نافذ کرنے والے اقدامات دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔ اس لیے بحالی، آگاہی، روزگار اور سخت قانونی کارروائی ‘یہ چاروں ستون ہی ایک حقیقی’’منشیات سے پاک جموں و کشمیر‘‘ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔






