• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
مسلک اور مشرب کی بالادستی کی لڑائی کے بیچ ایمان و ایقان کی حفاظت کا مسئلہ

file photo

مسلک اور مشرب کی بالادستی کی لڑائی کے بیچ ایمان و ایقان کی حفاظت کا مسئلہ

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
30/09/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز دکھائی دئے جن میں اسکولوں کے اندر بچوں اور اساتذہ کو ہندو مذہب سے متعلق بھجن گاتے دیکھا گیا۔ اس سے قبل بھی اسکولوں میں کلچرل سرگرمیوں کے ضمن میں اساتذہ اور بچوں کو میری بلی کالی بلی،شیک شیک بنانا شیک اور نہ جانے کیسے کیسے پر مزاحیہ خاکے پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ثقافت کو اس سے کتنا فروغ ملا یہ ہم نہیں جانتے بلکہ حکام ہی جانتے ہوں گے لیکن ان کے ذریعے سینئر اساتذہ کو جوکر بنتے دیکھا جاسکتا ہے اور اس مقدس پیشے کے حوالے سے کسی تضحیک سے کم نہیں۔ بہرحال بھجن گاتے بچوں کی ویڈیوز آنے کے بعد کشمیر میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس علما نے اس کا نوٹس لیا۔ مجلس کے ایک اجلاس کے بعد بانڈی پورہ میں قائم دارالعلوم رحیمیہ کے مہتمم اور وادی کشمیر کے معروف دینی رہنمائ مفتی رحمت اللہ قاسمی میڈیا سے گویا ہوئے اور مسلمان بچوں سے ہندوانہ رسوم کو ادا کروانے کی اس مہم کی مذمت کی اور اسے بھارت کے آئین کی خلاف ورزی تک قرار دیا۔ اسکولوں میں بھجن گانے اور سُوریہ نمسکار بند کرانے کی مانگ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوگا اور مارننگ اسمبلی کے نام پر بچوں سے اسکولوں میں بھجن گانے اور سوریہ نمسکار کرانے کا عمل فوری طور بندکیا جانا چاہئے کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے مسلمانوں کے مذہبی جذبا ت مجروح ہورہے ہیں ۔اپنی میٹنگ میں ایم ایم یو نے الزام لگایا ہے کہ ایسی کوششیں وادی کی مسلم شناخت کو کمزور کرنے کے لئے کی جارہی ہیں جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔ مزید براں ایم ایم یو نے سرکار اور محکمہ تعلیم سے کہا ہے کہ ایسی کوششوں کو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ مسلمانوں کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہیں۔

جہاں عوامی حلقے ایم ایم یو کی اس بروقت مداخلت پر اظہار اطمینان کررہے ہیں وہیں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامیان جموں وکشمیر کو اس نہج تک پہنچانے کے لئے کون لوگ اور کیا عوامل ذمہ دار ہیں۔سوشل میڈیاپر نیز مساجد و خانقاہوں کے اندرجس بے ہنگم انداز میں ہمارے ملا اور مولوی جو کسی نہ کسی مذہبی جماعت، فرقے ، تنظیم کا مسلک سے منسلک ہوتے ہیں ،ایک دوسرے کے خلاف فتوی بازی، مناظروں ، طعن و تشنیع اور افتراق و انتشار کو عام کئے ہوئے ہیں کیا وہ ہمیں اس نہج تک پہنچانے کے لئے ذمہ دار نہیں ہے ۔ کون سا مذہب ،معاشرہ یا ادبی و اخلاقی سرگرمی نہیں ہے کہ جہاں لوگ مزاجوں میں تفاوت کی بنائ پر ایک دوسرے سے مختلف الخیال نہیں ہوتے ہیں لیکن کیا اختلاف رائے کو سر پھٹول کا ذریعہ بناکر ایک عظیم ترین مذہب کو تضحیک و توبیخ کا نشانہ بنانا جرم عظیم نہیں ہے ۔ دینی جماعتیں تو بزم باطل بزم خویش کے پندار میں محو اپنے آپ کو دین کا ٹھیکیدار بنابیٹھی ہیں ،کیا وہ اتحاد و اتفاق اور مشترکہ مقاصد کے لئے فروعی اختلاف کو درکنار کرنے کی اہمیت نہیں سمجھتے ۔

مہذب معاشروں میں ایک دوسرے کے خیالات اور جذبات کا احساس رکھتے ہوئے ،تہذیب ، شرافت، تحمل اور برداشت کے ساتھ اختلافِ رائے ، تعمیری تنقید اور علمی وادبی محاکمے کی گنجائش سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا۔ مسلمان جس پروردگار، اسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب مقدس قرآن مجید کے ماننے والے ہیں انہیں اختلاف رائے کو حلم و ہنر کے ساتھ برداشت کرنے کی جابجاتعلیمات دی گئی ہیں۔ اللہ تعالی نے تو اپنے کلام مقدس میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے تئیں عدم برداشت کو روکا ہے اور و جادلھم بالتی ھی احسنâاور ان کے ساتھ بحث و تمحیص احسن طریقے پر کیجئےá اور ولا تسبو الذین یدعون من دون اللہâاورجنہیں یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں انہیں گالی نہ دوá کا مژدئہ ربانی اسی حقیقت کا غماز ہے ۔لیکن صد افسوس کہ اللہ اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے برعکس خود لا الہ الی اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والے اسلامیان کشمیر نے مسالک کے فروعی مسائل پر اختلاف رائے کو اس قبیح حد تک پہنچایا ہے جہاں یہ اختلاف جنگ کی صورت اختیار کرچکاہے ۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جب اختلاف ِ رائے بغض و عناد، حسد و کینہ اورگروہی و مسلکی تعصب میں بدل جائے تو پھر یہ قوم و ملت کے جسد واحد میں رستے ہوئے ناسور کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔آج امت مسلمہ کی اکثریت کا حال یہی ہوچکا ہے اور اگر اس ناسور کی زد سے کوئی بچا ہے تو اسکی حیثیت خوردبینی اقلیت سے بڑھ کر نہیں رہی۔ علمائے سلف و خلف کے درمیان فروعات میں پائے جانے والے اختلاف ِ رائے کوانعام سمجھتے ہوئے اس کے ذریعے اجتہاد کی راہیں کھولی جاسکتی تھیں لیکن اس کے بجائے ہم نے اپنی صفوں کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی کو جگہ دی ہوئی ہے جس کایہ نتیجہ برآمد نکل رہاہے کہ کہیں عوامی سطح پر مختلف مسالک ومکاتب ِ فکر کے لوگ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں ، توکہیں ان میں طعن وتشنیع کی یک طرفہ یا دوطرفہ جنگ جاری ہے ۔ کہیں یہ باہم دگر خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں تو کہیںایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی فراق میں بدمست نظر آتے ہیں ۔ یہ اندوہ ناک صورت حال ہمیں کہاںسے کہاں پہنچارہی ہے ، اس بارے میں محض سوچنے سے ہی وحشت طاری ہوجاتی ہے ۔

سوشل میڈیا جس کوہم اُمت کی اندرونی صفوں کو مضبوط و مربوط کرنے نیز مسالک کے درمیان ایک صحت مند مباحثے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرسکتے تھے‘ کو بھی ہم ایک دوسرے کا گریباں پکڑنے اور اپنے آپ کوہی’’ حق‘‘ اور باقی سبھی مسالک کو’’باطل‘‘ قرار دینے کے لیے بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔مثبت اور تعمیری سوچ اختیار کرنے کے بجائے ہم تخریبی انداز اپنائے جارہے ہیں۔اس کاہلکا سا اندازہ سوشل میڈیا پر موجود رہنے والے ذی حس صارفین کو آج کل بخوبی ہورہا ہوگا۔گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں وکشمیر میں مسلکی منافرت اور باہمی رقابت کو ہوا دینے کی مسلسل اورمنظم کوششیں ہورہی ہیں۔کوشش کی جارہی ہے کشمیری مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف لاکھڑا اور آپس میں دست و گریباں کیا جائے ۔ المیہ یہ ہے کہ جہاں ہمیںدین پسندی، ملّی وحدت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے ان تمام سازشوں کو سمجھنے ،بے نقاب کرنے ، ناکام بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے تھا ، الٹا ہم ہی ان کا شکارہی ہوتے جارہے ہیں۔سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ امت کا شیرازہ بکھیرنے کا یہ کام دین کے وہ ٹھیکیدار کررہے ہیں جو بزعم باطل بذعم خویش کے مصداق کفر اور اسلام ، ایمان اور ایقان کی سرٹیفکیٹ بانٹنے پر مامور ہیں۔ ان نادانوں کو یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آتی کہ جس دین کے نام پر یہ لوگ اپنی روزی روٹی کمارہے ہیں اور اپنے لئے اور اپنے بھال بچوں کے لئے عیش و عشرت کا سامان بہم رکھتے ہیں وہ دین ہی آج خطرے میں ہے اور اگر خدانخوستہ یہ دین ہی نہیں رہا تو ان کی روزی روٹی کا بھی تیا پانچہ ہوکر رہے گا۔ دین کے یہ ٹھیکیدار مختلف مسلکی جماعتیں اور گروہ بناکر لا الہ الی اللہ کے حاملین کو کافر و جابر بنانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور اپنے مخالفین کو نیست و نابود کردینے کے لئے اغیار کا ہاتھ بٹانے تک سے باز نہیں آتے ۔ اس حمام میں یہ سبھی ٹھیکیدار ننگے ہیں ۔ انہیں تاریخ کی وہ تلخ داستانیں بھی یاد نہیں رہیں کہ کیسے اور کیونکر ایسے ہی مسلکی و مشربی اختلاف کے باعث امت مسلمہ سے دنیا کی سرداری چھن گئی تھی۔جہاں وہ تلخ حقیقت عیاں ہے کہ جس کا مذکورہ بالا سطور کے اندر ہم نے ذکر کیا ہے وہیں پر کچھ امید کی کرنیں بھی پھوٹتی دکھائی دے رہی ہیں جن سے مجروح دلوں کو کچھ راحت ملی ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر میں جب جب بھی مسلکی انتشار پھیلانے کا عمل ہوا ہے تب تب کچھ حق پرست اٹھے ہیں جنہوں نے اسے روکنے کی سعی کی۔ موصوف نے حنفی اہل حدیث، شیعہ سنی اتحاد حتی کہ دوسرے مذاہب کے تئیں رواداری برتنے کے لئے جو کاوشیں کیں وہ قال ذکر ہیں۔ ایم ایم یو کے مذکورہ بالا اجلاس میں مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب نے جو باتیں کی ہیں انہیں مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں روشنی کی کرن نہ کہا جائے تو واقعتاً ذیادتی ہوگی۔ موصوف ہوں یا کہ ان کے بڑے مفتی رحمت اللہ قاسمی، ان کے بارے میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سیاست اور سیاسی معاملات سے یہ کوسوں دور رہتے ہیں لیکن اب جبکہ معاملہ مسلمانوں کے ایمان و یقین پر حملے کا ہے تو ان کا جوش ایمانی واقعتاً مضمحل دلوں کی تسکین کا باعث بنا ہے ۔ موجودہ دور کواسلامیان کشمیر کے لئے سخت ترین ادوار میں شمار کرتے ہوئے مفتی نذیر قاسمی صاحب نے کہا کہ مذہبی جماعتیں فیصلہ کرلیں کہ کیا انہیں وادی کے اندر اسلام کو بچانا ہے کہ مٹادینے کی سازشوں پر چپ سادھے بیٹھنا ہے ۔بچانے کے لئے قربانیاں دینی پڑیں گی۔مفتی نذیر قاسمی صاحب نے تجویز دی کہ جملہ مذہبی جماعتیں اپنے خطبائ کو ایمان اور ارتداد کے ضمن میں نیز آج اسکولوں میں جو کچھ ہورہا ہے اس بارے میں اسلام کا موقف واضح کرنے کا مکلف بنائیں۔ انہوں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اجتماعیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثقافتی سرگرمیوں کے نام پر آنے والے ایسے تمام احکامات کو تسلیم نہ کریں جو کفر پر مشتمل ہوںاور واضح کردیں کہ یہ احکامات ملکی قوانین اور دستور کے بھی مخالف ہیں۔ان کا مذید کہنا تھا کہ دینی جماعتوں سے منسلک جو علمائ یا کارکن سوشل میڈیا پر ہیں انہیں دوسری سرگرمیوں اور معاملات پر بات کرنے کے بجائے انہی کفریہ معاملات پر گفتگو کرکے ان کی قباحت کو واضح کردیں اور کفر و ارتداد پھیلانے کی مہم جوئی کو روکنے کی سعی کریں۔ موصوف کی باتیں اور تجاویز اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ابھی تک وہ لوگ زندہ ہیں کہ جو اہلیان وادی کے ایمان کی حفاظت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

بہرحال علمائ، دانشوروں اور خطیبوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ ہائے اثر میں اپنے سامعین ، عقیدت مندوں اورمر یدوں کو یہ بتا دیں کہ علمی اختلاف سے نپٹنے کا کام علمائ کا ہے نہ کہ عام لوگوں کا۔اگر ہر ایرا غیر انتھو خیرا سرراہ اِن امور اور معاملات کو حل کرنے بیٹھ جائے اوروہ بھی اس ذہنیت کے ساتھ کہ صرف ’’ہم‘‘ ہی ٹھیک ہیں، دوسرے غلط ہیں تو کشمیر میں بھائی بھائی سے کٹ جائے گا ، ایک مسجد دوسری مسجد کے خلاف میدان جنگ بنے گی ، محلہ سے محلہ سے جدا ہوگا ، ایک برادری دوسری برادری سے بر سر پیکار ہوگی اور ہمارے ایمان پر کئے جانے والے حملے کامیاب ہوجائیں گے ۔عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ آج کے حالات کا مقابلہ نہ احتجاج سے ہوگا، نہ تیر و تفنگ سے اور نہ ہی سیاسی بیان بازیاں اس طوفان کو روک سکتی ہیں۔ اس طوفان کو روکنا ہے تو ہمیں اپنی صفوں کو ایک بنانا پڑے گا، اپنے فروعی اختلافات کو فراموش کرنا ہوگا اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بن کر کفر و ارتداد کے سیلاب کو روکنا ہوگا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ہندوستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن جنگ سے نہیں ڈرتے ہمیشہ دنیا کو امن کا پیغام دیا ،،کبھی ایک انچ بھی غیر ملکی زمین پر قبضہ نہیں کیا / راجناتھ سنگھ

Next Post

غلام نبی آزادکی ’ڈیموکریٹک آزاد پارٹی ‘ کیا آزاد ہے؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

موہن بھاگوت کے بیان پر آرایس ایس کی وضاحت

ہندو سماج کو تین بچے پیدا کرنے سے کسی نے نہیں روکا : موہن بھاگوت

26/01/2026
یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

26/01/2026
جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

26/01/2026
پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

26/01/2026
کشتواڑ کے سنگھ پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان تصادم

کشتواڑ کے جنگلات میں تازہ تصادم، فائرنگ کا تبادلہ جاری

26/01/2026
نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف کو اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے لوک سبھا امیدوار نامزد کیا

میاں الطاف کی بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت

25/01/2026
Next Post
غلام نبی آزادکی ’ڈیموکریٹک آزاد پارٹی ‘ کیا آزاد ہے؟

غلام نبی آزادکی ’ڈیموکریٹک آزاد پارٹی ‘ کیا آزاد ہے؟

بارہمول ،شوپیان میں جھڑپیں شروع

بارہمول ،شوپیان میں جھڑپیں شروع

تمام خواتین ‘شادی شدہ یا غیر شادی شدہ کو محفوظ اسقاط حمل کا حق ہے :سپریم کورٹ

تمام خواتین ‘شادی شدہ یا غیر شادی شدہ کو محفوظ اسقاط حمل کا حق ہے :سپریم کورٹ

کالجیم نے جسٹس علی محمد ماگرے کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی

کالجیم نے جسٹس علی محمد ماگرے کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی

بارہمولہ جھڑپ میں دو عسکریت پسند مارے گئے

بارہمولہ جھڑپ میں دو عسکریت پسند مارے گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »