کانگریس کو پچاس سال بعد خیر باد کہنے کے بعد غلام نبی آزاد نے آخر کار اپنی پارٹی کے نام کا اعلان کر دیا۔ جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران غلام نبی آزاد کے ہمراہ جی ایم سروری سمیت کئی لیڈران موجود تھے جہاں پارٹی پرچم کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔غلام نبی آزاد نے پارٹی کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا نام ’’ ڈیموکریٹک آزاد پارٹی ‘‘رکھا ہے ۔ وہیں انہوں نے پارٹی کا جھنڈا بھی دکھاتے ہوئے کہاکہ’’ سرسوں کا رنگ تنوع میں تخلیق اور اتحادکی نشاندہی کرتا ہے اور نیلا آزادی ، کھلی جگہ ،تخیل اور سمند رکی گہرائیوں سے آسمان کی بلندیوں تک کی نشاندہی کرتا ہے ‘‘۔وہیں انہوںنے کہا کہ میری نئی پارٹی کےلئے اردو، سنسکرت میں تقریباََ پندرہ سو نام ہمیںبھیجے گئے تھے۔’ہندوستانی‘ ہندی اور اردو کا مرکب ہے ۔ ہم چاہتے تھے کہ نام جمہوری ،پُرامن اورآزاد ہو۔
اس طرح سے جموںو کشمیر کی سیاست میں ا ب ایک اور پارٹی کا اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن اس بار جس پارٹی کا اضافہ ہوا ہے وہ کسی عام شخص کی نہیں بلکہ سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد کی پارٹی ہے ۔پچھلے تین سالوں میں سات چھوٹی بڑی پارٹیاں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے رجسٹر کی ہیں ان میں سے جموںو کشمیر پیپلز مومنٹ اور جموں وکشمیر اپنی پارٹی شامل ہیں ۔ جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کے تب بانی ڈاکٹر شاہ فیصل اب سیاست کو خیر باد کہہ کر اپنی ملازمت بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ وہیں اپنی پارٹی پر اپوزیشن جماعتیں بھاجپا کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگا رہے ہیں ۔کیوں کہ پارٹی کی تشکیل کے بعد ہی اس کے سربراہ سید محمدالطاف بخاری سمیت متعدد لیڈران وزیر اعظم مودی سے ملنے گئے تھے۔ دوسری طر ف سے پیپلز کانفرنس اور اپنی پارٹی، این سی اور پی ڈی پی و دیگر جماعتوں کے اتحاد گپکار الائنس پر تنقید کرتی نظر آرہی ہیں ۔تاہم ان جماعتوں کی جانب سے ڈی ڈی سی انتخابات میں خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ۔ وہیں اب غلام نبی آزاد کی پارٹی کو بھی کانگریس کے لیڈران بھاجپا کی بی ٹیم قرار دے رہے ہیں ۔
جموںوکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وقار رسول وانی نے ایک بیان میں کہا کہ غلام نبی آزاد کی پارٹی پوری طر ح سے بھاجپا سے منسلک ہے ۔غلام نبی آزاد کے کانگریس سے الگ ہونے کے بعد صرف وہ واحد لیڈر ہی کانگریس سے نہیںنکلے بلکہ پورے جموں وکشمیر یونٹ کو انہوں نے تتر بتر کر رکھ دیا ۔ جموں وکشمیر کانگریس کے متعدد سینئر لیڈران سمیت سینکڑوں کارکنان آزاد گروپ میں چلے گئے ہیں ۔غلام نبی آزاد کی الگ پارٹی کے بنائے جانے کے بعد جموںو کشمیر اورخاص طور پر خطہ چناب اور وادی کے کئی اضلاع میں اس کے اثرات ضرور اگلے اسمبلی چناو میں دیکھنے کو ملنے والے ہیں ۔
سیاسی تجزیہ نگار یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ وادی کشمیر میں مرکزکی جانب سے اپنی پارٹی اور پیپلز کانفرنس کو این سی پی ڈی پی کے متبادل کے طور سامنے لایا تھا ۔تاہم دونوں جماعتیں کوئی خاطر خواہ کارگردگی نہیں دکھا پائیں ۔وہیں اگر غلام نبی آزاد اس ایجنڈے کا حصہ ہوا تو اس میں بھاجپا کو ضرور کامیابی مل سکتی ہے ، کیوں کہ غلام نبی آزاد ایک سینئر لیڈر ہونے کے ساتھ بڑے تجربہ کار سیاسی لیڈرہیں ۔تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ اگر غلام نبی آزاد بھاجپا کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہ بھی ہوں لیکن وہ وادی کی مقامی سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں ۔ اور اگر غلام نبی آزاد کی پارٹی کی جانب سے اگلے اسمبلی چناومیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا تو بھاجپا اپنے ہندو وزیر اعلی بنانے کے منصو بے کو ترک بھی کر سکتی ہے اور جموں وکشمیر کو جموں خطے سے غلام نبی آزاد کی صورت میں مسلمان وزیراعلی مل سکتا ہے ۔اس سے جہاں بھاجپا کو ایک طرف سے وادی کی بڑی سیاسی جماعتیں این سی اور پی ڈی پی کو سائیڈ لائن کرنے میں مدد ملے گی وہیں غلام نبی آزاد کی وادی کے عوام میں اچھی امیج بھی پائی جا رہی ہے جس سے وہ دونوں صوبوں کے لوگوں کو جوڑے رکھ سکتے ہیں ۔اور وہیں آج تک جہاں اسمبلی میں کشمیر کی سیاسی جماعتوں کا دبدبہ رہا ہے وہ اب شفٹ ہو کر جموںسے ہوگا۔آزاد کی بھاجپا سے نزدیکیوں کے اشارے بھی مل رہے ہیں ۔ایک طرف جہاں انہوں نے تقاریر میں کہا کہ دفعہ370 کے بجائے سیاسی جماعتوں کو ترقی کو ایجنڈا بنانا چاہیے وہیں انہوںنے کئی بار نریندر مودی کی تعریف بھی کی ۔اب یہ دیکھنا ہو گیا کہ واقعی آزاد کی پارٹی آزادانہ طور پرکام کرے گی یا پھر واقعی ان کا کوئی خفیہ سمجھوتہ بھاجپا کے ساتھ ہوا ہے ۔









