(کابل)افغان دارالحکومت میں تعلیمی ادارے پر خودکش حملے میں طلبہ سمیت 23 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہو گئے ۔
مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونیوالوں میں اکثریت طالبات کی ہے جوکہ یونیورسٹی میں داخلے کا ٹیسٹ دینے آئی تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بمبار نے کابل کے مغربی علاقے دشت برچی کو نشانہ بنایا جہاں اکثریت ہزارہ کمیونٹی کی ہے ۔ عینی شاہدین کے مطابق خود کش بمبار نے پہلے تعلیمی ادارے کے دونوں سکیورٹی گارڈز کو گولیاں مار کر ہلاک کیا، بعدازاں ہال میں داخل ہو کر دھماکا کر دیا ،طالبات ہال کی اگلی نشستوں پر بیٹھی ہونے کی وجہ سے دھماکے کی زد میں آئیں، لڑکے پچھلی نشستوں پر ہونے کی وجہ سے قدرے محفوظ رہے ، دھماکے کے وقت ہال میں طلبہ اور نگرانوں سمیت 600 کے لگ بھگ افراد تھے ۔ اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کے مطابق خود کش حملے میں 24 افرادہلاک ، 36 زخمی ہوئے ،متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔
تاہم طالبان سکیورٹی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ دھماکے میں 32افرا د ہلاک، 40 سے زائد زخمی ہوئے ۔ ترجمان طالبان ذبیج اللہ مجاہد نے اپنے ٹویٹ میں درسگاہ پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل معافی حرکت قرار دیا اور کہا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کی گرفتاری اور سزا کو یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں گے ۔ افغان میڈیا کے مطابق کسی گروپ نے خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پاکستان اور اقوام متحدہ نے خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔










