امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل پاکستان بھارت کرکٹ بورڈ کے درمیان لفظوں کی جنگ اب سیاسی گلیاروں میں گونجنے لگی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے جے شاہ کے بیان پر شدید رعمل دیا ہے۔ اویسی کا کہنا ہے کہ جب آسٹریلیا میں پاکستان کے خلاف میچ کھیلا جا سکتا ہے تو پاکستان جا کر میچ کیوں نہیں کھیلا جا سکتا۔
اے آئی ایم آئی ایم ایم پی نے کہاکہ ‘آپ کل آسٹریلیا میں پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کیوں کھیل رہے ہیں؟ کھیلنا نہیں چاہتا تھا۔ نہیں ہم پاکستان نہیں جائیں گے، بلکہ اس کے ساتھ آسٹریلیا میں کھیلیں گے۔ یہ کیسی محبت ہے؟ اگر ایسا ہی ہے پاکستان کے ساتھ مت کھیلو۔ پاکستان کے ساتھ نہیں کھیلیں گے تو کیا ہوگا؟ ٹی وی کو ہزاروں کروڑ کا نقصان ہوگا؟ کیا اس کی اہمیت بھارت سے زیادہ ہے؟۔اسد الدین نے کہا، "اگر بھارت کو شکست ہوتی ہے تو لوگ اس میں مسلم رخ تلاش کرنے لگتے ہیں، کرکٹ محض ایک میچ ہے، اس میں مسلم رخ تلاش کیا جاتا ہے، جیت پر ساری واہ واہی لینے والے شکست پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر حجاب پر بھی کہا کہ’ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ ہمارے حجاب کے ساتھ، ہماری داڑھی کے ساتھ اور اب کرکٹ کے ساتھ، انہوں نے کہاکہ وہ نہیں جانتے کہ میچ کون جیتے گا، لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ بھارت جیتے اور ہمارے بچے جیسے محمد سمیع اور محمد سراج پاکستان کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کرے۔
در اصل گزشتہ دنوں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری جے شاہ نے کہا تھا کہ بھارتی ٹیم ایشیا کپ کھیلنے کے لیے پاکستان نہیں جائے گی۔ جس کے بعد سے آئے روز نئے بیانات جاری ہے۔ وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے بھی کہا کہ پاکستان جانے کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی۔










