• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, فروری ۹, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
کشمیری پنڈتوں کی جبری بحالی ناممکن ہے!

کشمیری پنڈتوں کی جبری بحالی ناممکن ہے!

اشوک کمار پانڈ ے....

by امت ڈیسک
24/10/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

وطن واپسی بہت سارے لوگوں کے لیے ایک سہانا خواب،جبکہ زیادہ تر کشمیری پنڈتوں کے لیے یہ ایک ضرورت تھی۔ لیکن، خوف و خطر کا ماحول ازسر نو پنپ گیا اور بایں وجہ پنڈت سب ٹھیک ٹھاک ہے کے سرکاری دعووں کی تردید کررہے ہیں۔

رنجن نام کے ایک کشمیری پنڈت کو ،کشمیری تارکین وطن کی واپسی اور از سر نوبحالی پروگرام کے تحت وزیر اعظم پیکج سلسلے میں سرکاری ملازمت ملی۔90ءکی دہائی میں عسکریت پسندی کے بعد بے گھر ہونے والے کشمیری پنڈتوں کی بحالی کے لئے دردست لئے گئے اس پروگرام کی شروعات منموہن سنگھ حکومت نے کی تھی۔ رنجن دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے آبائی شہر واپس آیا، اور ظاہر ہے کہ اسے یہ جگہ کافی بدلی ہوئی ملی۔ لیکن اس کے پڑوسیوں نے اس کا تہہ دل سے استقبال کیا اور یوں اس نے نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیا۔

چونکہ رنجن کو سرکاری رہائش گاہ نہیں مل سکی، اس لیے وہ ایک مقامی مسلم خاندان سے کرائے پر لیے گئے ایک نجی گھر میں رہنے لگا۔ مفوضہ کام کے سلسلے وادی کے دور دراز علاقوں میں لمبے سفرکرنا اور ہر جگہ مقامی لوگوں کے ساتھ باقاعدہ بات‘ اس کی سرکاری ذمہ داریوں میںشامل ہے۔ اپنی جڑوں سے ایک طویل جدائی کے بعدواپسی کو اس نے پُرسکون اور اطمینان بخش پایا۔اگرچہ وہ شاذو نادر امتیازی سلوک محسوس کرتا لیکن اس نے کبھی اپنی جان یا اپنی سیکورٹی کے بارے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا۔ درحقیقت، وادی کے مسلم باشندوں کی پرانی نسل کے لیے اسکی واپسی کا احساس خوشگوار ہے کیونکہ” بٹ“ کے ہم مذہبوں کے ساتھ اس نسل کی کئی دلکش یادیں وابستہ ہیں اور نوے کی دہائی میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں یہ طبقہ اپنے آپ کو بھی قصور وار محسوس کرتا ہے۔

ذیلی اقلیت اور ٹارگٹ کلنگ

اپنی کتاب”کشمیر اور کشمیری پنڈت“پر کام کرتے ہوئے، میں سرینگر کے اندر اور باہر رہنے والے بے شمار کشمیری پنڈت خاندانوں سے ملا۔ تقریباً 5000 پنڈت ہیں جنہوں نے کبھی وادی نہیں چھوڑی، اور اتنی ہی تعداد وزیراعظم پیکیج کے تحت سرکاری ملازمتیں لینے کے لیے واپس آئی۔یہ لوگ یا تو حکومت کی طرف سے بنائے گئے کیمپوں میں واقع معمولی اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں یا پھرکرائے پر لئے گئے مکانات میںرہائش پذیر ہیں۔یہ بات حقیقت ہے کہ ایک غیر مرئی مائیکرو اقلیت کے طور پر رہنا اپنے ہمراہ مسائل کا ایک انبار لاتا ہے، لیکن نوے کی دہائی کے بعد سے حالیہ ایام تک ، انہیں کسی بھی خطرے کا کوئی احساس تک نہیں ہواتھا۔ یہاں تک کہ2021ءمیں راکیش پنڈتا اور اجے پنڈتا کے قتل کے بعد بھی یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ یہ واقعات محض منتخب نمائندوں پر دہشت گردانہ حملوں کا حصہ ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس قوم کے بہت سے مسلم نمائندوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، اور بایں ہمہ پنڈتوں نے عام طور پر ان واقعات کو نظر انداز کیا۔ لیکن حالیہ موسم گرما کے دوران ، اپنے دفتر پر راہول بٹ کے قتل نے اس تاثر کو یکسر بدل دیا۔راہول بٹ ایک عام سرکاری ملازم تھا جو اپنے خاندان کے ساتھ بڈگام کے قریب شیخ پورہ کیمپ میں رہتا تھا۔ اس ناخوشگوار دن ، چند لوگ اس کے دفتر پر ڈھونڈتے ہوئے آئے، اور اسے نزدیک سے گولی مار کر قتل کردیا۔ یہ اپنی نوعیت کا کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔امسال وادی میں گرمیوں کے مہینوں میں ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں، جن میں آف ڈیوٹی پولیس افسران اور کچھ عام شہری شامل ہیں۔ دلت ٹیچر رجنی بالا، راجستھان کے ایک بینک برانچ منیجر ، سرینگر میں دو غیر مسلم اساتذہ اور ایک مہاجر اینٹ بھٹہ مزدور بھی ان حملوں میںمارے گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے کئی قتل کھلے طور پرپنڈت برادری کو نشانہ بنانے کا عمل تھے۔

قدرتی طور پر، ان واقعات کے بعد وادی میں رہائش پذیر پنڈت خوف زدہ ہوگئے، اور جب کہ انتظامیہ بے حس تماشائی بنی رہی ، تو ان کے لیے اپنے آپ کو بچانے کا ایک ہی قابل عمل طریقہ باقی بچا اور وہ ہجرت کرنا تھا۔

پریشان کن بیانیہ اور غیر انسانی ہدایات

اس برس یعنی2022ءکے موسم گرما کے دوران وادی میں بڑے پیمانے پر سیاحوں کی آمد دیکھنے میں آئی، اور حکومت نے سب ٹھیک ٹھاک ہے کا من پسند بیانیہ استوار کرنے کے لیے اس کی بڑے پیمانے پر نمائش و تشہیرکی۔ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات نے حکومت کے سطحی دعوے کو زمین بوس کر دیا لیکن اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے اور حقیقت کو قبول کرنے کے بجائے حکمرانوں نے اس سے آنکھیں موند لیں اور چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی۔مشتعل پنڈتوں کو نظر انداز کر کے کیمپوں میں بند کر دیا گیا اور ان کی نقل مکانی کی کوششوں کو جبراًروک دیاگیا۔

رنجن کا دعویٰ ہے کہ سرکاری عہدیداروں نے خود قبول کیا کہ وادی میں ہر پنڈت کو تحفظ فراہم کرنا ناممکن ہے اور کشمیر میں جڑ پکڑنے والی اس نئی قسم کی عسکریت پسندی کو سمجھنے اور جڑ سے اکھاڑنے میں کم از کم دو سے تین سال لگیں گے۔ رنجن کا کہنا ہے کہ جب حکومت نوے کی دہائی میں عسکریت پسندی کی شروعات کے بعد سے اب تک کے30 برسوں میں وادی میں کوئی بھی محفوظ زون نہیں بنا سکی ہے تویہاں روکے گئے پنڈت دور دراز کے علاقوں میں محفوظ رہنے کی امید کیسے اور کیونکر کر سکتے ہیں جہاں سیکورٹی کی موجودگی نہیں کے برابر ہے؟ زندگی کے حق سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے ، رنجن نے موجودہ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ انکی برادری کو اپنے سیاسی کھیل اور عزائم کی تکمیل کے لئے ایک پیادے کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور ان کی حالت زار کو بدلنے کے بجائے اس سےسیاسی روٹیاں ہی سیک رہی ہے۔

پنڈت برادری کے جن طبقات نے زیادہ تر پی ایم پیکیج کے تحت ملازمتوں کے لیے درخواست دی ہے وہ یا تو غریب یا نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں سے ہیں جو اپنی بقا کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی واپسی کا فیصلہ رضاکارانہ نہیں تھا بلکہ مجموعی معاہدے ( پیکج ڈیل) کے ذریعے انہیں اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کا موقع ملا جسے وہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔تاریخی طور پر پنڈت برادری کے لئے سرکاری ملازمتیں ہمیشہ بقا اور فخر کا ذریعہ رہی ہیں، اور انہی روایات نیز ذات پات کی بندشوں نے اس کیمونٹی کو زراعت اور دستکاری جیسے جسمانی کام کرنے سے روکاہے۔ معروف کشمیری تاریخ دان پی این بزاز نے ایک دلچسپ رواج کے بارے میں لکھا ہے جس میںکشمیری پنڈت خاندانوں کے بڑے بوڑھے افراد نوزائیدہ بچوں کو بالغ ہونے پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی دعا دیتے ہیں۔یہی وجوہات ہیں کہ واپس آنے والے کشمیری پنڈت کیمپوں یا کرائے کے گھروں میں سکون سے رہتے تھے، اکثر سارا ہفتہ کام کرتے تھے اور اختتام ہفتہ یا چھٹیوں میں جموں واپس آتے تھے۔ تاہم، اس موسم گرما کے بعد، ان کے عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے وہ جموں یا ایسی دوسری جگہوں پر منتقلی کا مطالبہ کررہے ہیں جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

صرف نظرکی گئی ایک درخواست

وزیراعظم پیکج سے فائدہ اٹھانے والے کشمیری پنڈت امسال مئی کے مہینے سے وادی اور جموں میں احتجاج کر رہے ہیں اور وادی سے دور منتقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو میمورنڈم پیش کیا ہے، لیکن اس کا ابھی تک کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ رنجن کا کہنا ہے کہ حکومتی مشینری نے ان کی شکایات کا نوٹس لینے کے بجائے ان پر ہر طرح کا دباو ڈالنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر، انہیں دستاویز( بانڈز) پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے کام کی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ زمینی سطح پر ان کی تنخواہیں منظور نہ کرکے ان پر دباو کو مذید بڑھایا گیاتھا، جب کہ دوسری جانب میڈیا نے ان کے احتجاج کو بلیک لسٹ کر دیا۔

جو سیکورٹی خطرہ یہ لوگ محسوس کررہے ہیں وہ حقیقی اور کثیر جہتی ہے۔ حکومت نے واپس آنے والے تارکین وطن ملازمین کو محفوظ رہائش فراہم کرنے کے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا، جن میں سے70 فی صد کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔عسکری تنظیموں نے مکان مالکان خاص طور پر کشمیر کی اکثریتی برادری کو مبینہ دھمکیاں دی ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔اس دوران، کشمیری پنڈت ملازمین کی منتقلی کی فہرست (ٹرانسفر لسٹ ) فاش ہو گئی، جس سے ان کی زندگی اور بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ حال ہی میں، بائیو میٹرک حاضری کا نظام متعارف کرایا گیا ، اور صرف کام پر ریکارڈ شدہ حاضری کی بنیاد پر ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ رنجن کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے وہ مذیدغیر محفوظ ہو گئے، کیونکہ کام پر مقرر وقت پر آنے اور کام سے ایک مقرر وقت پر واپس لوٹنے کی وجہ سے تشدد پسندوں کو انہیں شناخت کرنا مذید آسان ہوگیا ہے۔

سب ٹھیک ٹھاک ہے‘کے دعووں کے بیچ ایک اور قتل

راہول بٹ کی ہلاکت کے بعد پی ایم پیکیج سے استفادہ کرنے والے زیادہ ترملازمین وادی چھوڑ چکے ہیں۔سندیپ (درخواست پر تبدیل شدہ نام) جو اب بھی شیخ پورہ کیمپ میں رہتا ہے، کا کہنا ہے کہ کرائے کے گھروں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ جموں منتقل ہو گئے ہیں۔ کیمپ کے صرف30فیصد باشندے اب بھی سرینگر میں رہتے ہیں لیکن یہ لوگ زبردست دباو میں ہیں۔ یہ لوگ بھی موجودہ تعلیمی سیشن کے بعد وادی چھوڑنا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو جموں کے اسکولوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم ان ملازمین کے لیے اولین فکر تھی۔ ابتدائی طور پر، کچھ اسکولوں نے آن لائن سیکھنے کی سہولیات فراہم کی تھیں، لیکن یہ سلسلہ اب بند ہو گیا ہے، جس سے ان کے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔سندیپ کیمپوں میں بندھوا مزدوروںکے مترادف زندگی گزارنے پر افسوس کا اظہار کررہا ہے۔ کیمپ کے رہائشیوں کو آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے۔ فوج ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے، اور وہ مستقل طور پرخطرہ محسوس کرتے ہیں۔اس کا ایک ہی سوال ہے: اگر خطرہ اتنا ہی واضح ہے تو حکومت ہمیں جموں کیوں نہیں منتقل کر سکتی؟

یہ سطور رقم کی جارہی تھیں کہ ایک اور کشمیری پنڈت ، پورن کرشن بٹ کے مارے جانے کی خبر آگئی ہے۔حملے کے وقت وہ جنوبی کشمیر کے چودھری گنڈ علاقے میں اپنی رہائش گاہ کے قریب تھے۔ (ادھیڑ عمر کا پورن کرشن گھر کے کام کاج نمٹانے تک ہی محدود تھا)۔ وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں، پورن کے رشتہ دار نے اس دعوے کی تصدیق کی کہ اس کے خاندان کو اسکی موت پر سوگ منانے سے منع کیا گیا تھا اور ان پر پورن کی آخری رسومات جلد از جلد انجام دینے کے لیے دباو ڈالا گیا تھا۔

ابھی چند ماہ قبل ہی عسکریت پسندوں نے ایک اور کشمیری پنڈت سنیل کمار کو شوپیاں میں سیب کے باغ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ فائرنگ سے اس کا بھائی پنٹو بھی زخمی ہوا۔ اس حملے کی ذمہ داری مبینہ طور پر البدر نامی تنظیم کی شاخ کشمیر فریڈم فائٹرز، نے قبول کی تھی۔ اس تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پنڈت برادران کو یوم آزادی کی تقریبات کے دوران” ترنگا ریلیوں“ میں شرکت کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاریک دیوالی، تاریک تر مستقبل

کچھ دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے وادی کا دورہ کیا اور دعویٰ کیا کہ کشمیر میں حالات مکمل طور پرمعمول کے مطابق ہیں اور عسکریت پسندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس دعوے کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماوں اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے افسران نے بار بار دہرایا ہے۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی نے ہمیشہ دفعہ 370 جس نے اس خطے کو خصوصی حیثیت عطا کر رکھی تھی کو مسئلہ کشمیر کی بنیادی وجہ گرداناہے، لہذا، ان لوگوں کی دلیل رہی ہے کہ اس دفعہ کو کالعدم کردینے سے وادی میں حالات معمول پر آجائیں گے۔لیکن اب، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تین سال سے زیادہ کے بعد، جب سابقہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا، اور اس کی انتظامیہ کو براہ راست مرکزی حکومت کے تحت لایا گیا تھا، صورت حال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ کشمیری پنڈت جنہوں نے نوے کی دہائی میں بھی وادی نہیں چھوڑی تھی آج وہ بھی زیر عتاب ہیںاور ہجرت پر مجبور ہیں۔بہت سے پنڈتوں نے اپنے خاندانوں کو جموں یا کہیں اور منتقل کر دیا ہے، اور کم از کم پانچ ایسے خاندان مستقل طور پر کشمیر چھوڑ چکے ہیں۔ پورن کرشن بٹ کا حالیہ قتل اس عمل کو دوبارہ شروع کرسکتا ہے۔
کشمیر میں رہائش پذیرپنڈت ایسوسی ایشن کے رہنما سنجے تکو ، جو خود اپنی بقاءکے خطرے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر آج جیسی صورتحال برقرار رہی تو ان کی برادری کے زیادہ تر افراد، وادی چھوڑ دیں گے۔ وزیر اعظم کے پیکج سے فائدہ اٹھانے والوں کو حکومت کی ساخت اور شناخت کو بہتر اورمنظم بنانے کی خاطرقربانی کا بھیڑ نہ بنایا جائے۔ مہاجر پنڈت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکنا اور انہیں وادی میں رہنے پر مجبور کرنا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے اور سیکورٹی کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، ان پر جبری بحالی کے لیے دباو ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نوے کی دہائی کے دوران بھی وادی سے بھاگنے والے پنڈتوں کو تنخواہوں سے محروم نہیں کیا گیا تھا اور ان کی مشکلات اور اذیتوں کا بھی انہیں اس وقت معاوضہ دیا گیا تھا۔ سنجے کے مطابق جہاں تک بحالی کا تعلق ہے، پنڈتوں کووادی کے مسلمان باشندوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے مسلمانوں نے ہمیشہ پنڈتوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن اب مکان مالکان اور مقامی باشندے بھی خود خطرے کی زد میں ہیں۔ جب تک اس مسئلے کو وسیع تر سیاق و سباق کو ذہن میں رکھتے ہوئے حل نہیں کیا جائے گا ، نیز جب تک مسئلہ کشمیر کا ایساسیاسی حل نہیں نکالا جاتا ہے کہ جس میںکشمیری عمل اور نتائج کے معاملات میں براہ راست شریک نہیں ہوں گے،لمبے چوڑے دعووں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مرکزی حکومت کا جموں وکشمیر کے حوالے سے موجودہ نقطہ نظر اور طریقہ کار اس مسئلے کو مذید بگاڑ کر رکھ دے گا، جس سے پنڈتوں کا کشمیر میں باقی رہنا ہی ناممکن ہو جائے گا۔

(اشوک کمار پانڈے کئی کتابوں کے مصنف اور سیاسی مبصر ہیں۔ مذکورہ مضمون ”نیوز کلک“ نامی پورٹل پر شائع ہوا تھااور قارئین کرام کی سہولیت کے لئے شاہد لطیف نے اس کا انگریزی سے اردو ترجمہ کیا ہے۔اس مضمون کے اندر ظاہر کئے گئے خیالات موصوف کے ذاتی ہیں۔)

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

دبئی ، ایک ارب درہم سے تیار کردہ کتابی شکل کی لائبریری

Next Post

ترک صدرطیب ایردوآن کی حجاب پہننے کے حق پرملک گیرریفرینڈم کرانے کی تجویز

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں امریکی اڈے نشانہ بنیں گے: ایرانی وزیر خارجہ

اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں امریکی اڈے نشانہ بنیں گے: ایرانی وزیر خارجہ

08/02/2026
جموں و کشمیر کے ڈوڈہ میں ایک سیاح پر حملہ کرنے کے الزام میں چار افراد گرفتار

جموں و کشمیر کے ڈوڈہ میں ایک سیاح پر حملہ کرنے کے الزام میں چار افراد گرفتار

08/02/2026
فاروق عبداللہ نے پاکستان میں مساجد کے اندر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی

فاروق عبداللہ نے پاکستان میں مساجد کے اندر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی

08/02/2026
اے آئی ایم ایس اے کا روس میں بھارتی میڈیکل طلبہ پر حملے کے معاملے پر وزیر اعظم سے مداخلت کا مطالبہ

اے آئی ایم ایس اے کا روس میں بھارتی میڈیکل طلبہ پر حملے کے معاملے پر وزیر اعظم سے مداخلت کا مطالبہ

08/02/2026
روس کے شہر اُوفا میں چار بھارتی طلبہ پر حملہ: بھارتی سفارتخانہ

روس کے شہر اُوفا میں چار بھارتی طلبہ پر حملہ: بھارتی سفارتخانہ

08/02/2026
سندھ دریا کا پانی پاکستان کو نہیں جائے گا: مرکزی وزیر جل شکتی

سندھ دریا کا پانی پاکستان کو نہیں جائے گا: مرکزی وزیر جل شکتی

08/02/2026
Next Post
ترک صدرطیب ایردوآن کی حجاب پہننے کے حق پرملک گیرریفرینڈم کرانے کی تجویز

ترک صدرطیب ایردوآن کی حجاب پہننے کے حق پرملک گیرریفرینڈم کرانے کی تجویز

ایران:معروف عالم اور مصنف علی تہرانی نہیں رہے

ایران:معروف عالم اور مصنف علی تہرانی نہیں رہے

پارمپورہ سرینگر میں آئی ای ڈی برآمد

پارمپورہ سرینگر میں آئی ای ڈی برآمد

بھارت نے کبھی جنگ کو پہلا آپشن نہیں سمجھا: مودی

بھارت نے کبھی جنگ کو پہلا آپشن نہیں سمجھا: مودی

رشی سونک کنزرویٹیوپارٹی کے سربراہ منتخب، پہلے ایشیائی نژاد برطانوی وزیراعظم ہوں گے

رشی سونک کنزرویٹیوپارٹی کے سربراہ منتخب، پہلے ایشیائی نژاد برطانوی وزیراعظم ہوں گے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »