امت نیوز ڈیسک//
بڈگام: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں بڈگام پولیس نے جمعہ کو 03 افراد کو گرفتار کرکے ہیومن اسمگلنگ کے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے ساتھ ہی 14 متاثرہ خواتین کو بچایا ہے۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ضلع میں ہیومن اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کے بارے میں اطلاع ملی جس پر کارروائی کرتے ہوئے، پولیس اسٹیشن بڈگام کی ایک پولیس ٹیم نے گاؤں دھولی پورہ میں ایک خاص مقام پر چھاپہ مارا اور 14 متاثرہ خواتین (بشمول کچھ نابالغوں) کو اس گروہ کے چنگل سے بچایا۔ زیادہ تر خواتین شمیم احمد بٹ ولد عبدالرحمان بھٹ ساکن دھولی پورہ پھارتن کے گھر سے بازیاب کی گئی جبکہ دوسری ملحقہ مقامات سے برآمد کی گئی۔
پولیس بیان میں مزید کہا ہے کہ اس معاملے میں شمیم احمد اور دیگر دو ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں شگفتہ زوجہ بشیر احمد وانی اور عصمت زوجہ شفیق احمد وانی دونوں ساکن دھولی پورہ پارتھن ہیں۔ اس ضمن میں ایک ایف آئی آر زیرِ نمبر 370/2022 جو قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت پولیس اسٹیشن بڈگام میں درج کی گئی ہے۔پولیس نے مزید بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ پتہ چلا ہے کہ گرفتار شدہ 03 ملزمان ملک کے مختلف مقامات سے لڑکیوں کو منگوانے اور ضلع بڈگام سمیت وادی کے دیگر حصوں میں ان کا استحصال کرکے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔دریں اثنا، بچائے گئے انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو ناری نکیتن بحالی مرکز چاڈورہ منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی باز آباد کاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ضلع بڈگام میں ہومن ٹریفکنگ کا گروہ پہلے سے سرگرم ہے جو ملک کی مختلف ریاستوں سے نابالغ اور بالغ خواتین کو شادی کا جھانسہ دیکر وادی میں لاتے ہیں اور بعد میں یہاں مختلف اضلاع میں منہ مانگی رقم کے عوض انہیں بیچتے ہیں۔ ان خواتین کی شادیاں ان کشمیری مردوں کے ساتھ کی جاتی ہیں جو گنجے، بوڑھے، ناتواں غریب، کم شکل والے، دوسری یا تیسری شادی والے ہوتے ہیں۔









