یکم جولائی 2021ءکو جموں وکشمیر انتظامیہ کے ایک حکم کے مطابق 150 برس قدیم دربار مو کی روایت کو بیک جنبش قلم ختم کردیا گیا۔اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا تھا کہ چونکہ انتظامیہ نے ای۔آفس فارمیٹ میں منتقلی مکمل کر لی ہے، اس لیے سرکاری دفاتر کے دربار موو کی مشق کو جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یکم جولائی 2021ءکو جموں وکشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے ایک فرمان جاری کیا جس کے مطابق یہاں 150 برس قدیم دربار مو کی روایت کو بیک جنبش قلم ختم کردیا گیا۔سرینگر اور جموں کے جڑواں دارالحکومتوں کے درمیان چھ ماہ کی بنیادوں پر کی جانے والی اس تبدیلی جسے عرف عام میں” دربار موو“کہا جاتا ہے کے سرکاری عمل کو الوداع کہتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت نے اس عمل اور اس کے لئے جموں سے سرینگر اور سرینگر سے جموں منتقل ہونے والے سرکاری ملازمین کو دی گئی رہائش گاہوں کی سہولیت کو منسوخ کردیا۔اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے20 جون کو کہا تھا کہ چونکہ انتظامیہ نے ای۔آفس فارمیٹ میں منتقلی مکمل کر لی ہے، اس لیے سرکاری دفاتر کے دربار موو کی مشق کو جاری رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ دربار موو عمل کو ختم کرنے کے فیصلے سے سرکاری خزانے کو ہر سال 200کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ اور یہ کہ جموں اور سرینگر دونوں مقامات پر اب سرکاری دفاتر معمول کے مطابق کام کریں گے۔
اس اعلان کے کچھ ہی روز بعد اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئیں لیکن اصل فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ دراصل دربار موو کے اس عمل کو ختم کرنے کی کوشش پہلے بھی کی گئی تھی جب 1980ءکی دہائی میںڈاکٹر فاروق عبداللہ اس وقت کی ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے، ان کی حکومت نے سول سیکرٹریٹ اور دیگر دفاتر کو مستقل طور پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ کچھ دفاتر سرینگر اور کچھ جموں میں مستقلاً رکھے جائین، لیکن جموں میں لوگ اس فیصلے پر مشتعل ہو گئے۔ جموں میں45دنوں تک مکمل بندھ رکھا گیا اور ایک ایجی ٹیشن چلائی گئی جس کے بعد بالآخر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔اب جب کہ یہ فیصلہ بی جے پی حکومت نے لیا ہے اس پر اگرچہ جموں میں احتجاج ہوا ہے لیکن کوئی ایسی ایجی ٹیشن نہیں چلائی گئی جو حکومت وقت کو اس فیصلے کے بدلنے پر مجبور کرسکتی۔
یو ٹی انتظامیہ کے حالیہ فیصلے سے متعلق تھوڑی سی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلہ کوئی اچانک لیا گیا فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم سوچ اور اپروچ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی شروعات ایک عدد پٹیشن سے کی گئی جو ریاستی ہائی کورٹ میں سال2020ءمیں دائر کی گئی تھی۔اسوقت کی چیف جسٹس جموں کشمیر ہائی کورٹ گیتا متل اور جسٹس رجنیش اوسوال پر مشتمل بنچ نے کئی وجوہات درج کیں کہ سول سکریٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر کو سابقہ ریاست کے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان منتقل کرنے کے عمل کو کیوں بند نہیں کیا جانا چاہئے۔ ڈویڑن بنچ نے 2020 میںعذرا اسماعیل کی طرف سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کے جواب میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دربار کا اقدام اوراس کے نتیجے میں ایک غیر موثر اور غیر ضروری سرگرمی پر بہت زیادہ وقت، کوششوں اور توانائی کا ضیاع ہورہا ہے۔اگرچہ ڈویڑن بینچ نے انتظامیہ کو کوئی حکم جاری کرنے سے گریز کیا لیکن ایسی باتیں اور ریمارکس دئے جس سے وہ اس اقدام سے اپنی بیزاری ظاہر کررہے تھے۔ اس کے بعد جب 2021ءاپریل میں دربار کو جموں سے سرینگر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہونا تھا اور جنرل ڈیپارٹمنٹ کے حتمی احکامات کے بعد سارے کاغذات اور دستاویزات صندوقوں میں سیل بند کئے جاچکے تھے ،اچانک وبائی مرض کووڈ کا سہارا لیتے ہوئے انتظامیہ نے جموں سے سرینگر دربار کی منتقلی کو موخر کردینے کا حکم جاری کردیا۔
اس اچانک فیصلے نے جہاں جموں میںمسکراہٹیں بکھیر دیں وہیں پروادی کشمیر میں2019ءمیں اچانک دفعہ370 کی منسوخی کے عمل کی یادیں دوبارہ تازہ ہوگئیں اور لوگ اس حکم کو جموں کے واحد اور مستقل دارالخلافہ مقرر کرنے کا پیش خیمہ قرار دینے لگے۔ ایک مقامی لکھاری ،مبصر اور سماجی کارکن نے اس بارے میں لکھا کہ کووڈ کے عالمی وباءکے چلتے اکتوبر کے آخرمیں جب دربار کو جموں منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اور پھر جب اپریل میں اس کو واپس سرینگر منتقل کئے جانے کے احکامات آچکے تھے تب تک اسے دفاتر کی معمول کی نقل و حرکت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، اس کے معاً بعد جب لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر نے سرکاری طور پر دربار کو جموں سے گرمائی دارالحکومت سرینگر منتقل کرنے کو موخر کرنے کا اعلان کیا، کشمیر میں کئی لوگوں نے اس اقدام پر سوال اُٹھایا ہے۔دربار موو کو موخر کرنے کے لئے یونین ٹیریٹری انتظامیہ نے جو دعویٰ کیا ہے کہ کووڈ میں اچانک اضافے کی وجہ سے دربار منتقلی کا اقدام روک دیا گیا ہے اور یہ کہ اگلے نوٹس تک موسم گرما کے اجلاس کے لیے بہت سے دفاتر جموں سے سرینگر منتقل نہیں کیے جائیں گے۔اس کو وادی کشمیر کے رہائشی، جو ابھی تک دفعہ370کی اچانک غیر منسوخی کو ہضم نہیں کرپائے ہیں‘ مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ مذکورہ لکھاری کے مطابق کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت جموں کو ایک علیحدہ ریاست بنانے اور وادی کشمیر کو یو ٹی کے طور پر جاری رکھنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔سرینگر میں مقیم ایک مقامی تاجر کاحوالہ دیتے ہوئے یہ صاحب لکھتے ہیں کہ پچھلے سال اکتوبر میں دربارکیوں منتقل کیا گیا تھا، اور زیادہ تر دفاتر، خاص طور پر سول سیکرٹریٹ سرینگر میں بند اور نومبر کے پہلے ہفتے میں جموں میں کھولے گئے؟ اس دوران بھی کووڈا پنے عروج پر تھا۔ اس طرح کی کارروائیوں سے کشمیری معاشرے میں اُلجھن پیدا ہوتی ہے، جس کے بعد یہ شبہ ہوتا ہے کہ یا تو حکومت ہند جموں کوجموں وکشمیر کا دارالحکومت قرار دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، یا پھر جموں کو ایک الگ ریاست میں تبدیل کر دیا جائے گا اور کشمیر ایک یونین ٹیریٹری ہی رہے گا۔
جب نیشنل کانفرنس سرکار نے 1980ءکی دہائی میں اس عمل کو ختم کی کوشش کی تھی تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموی عوام کے احتجاج کو مہمیز دے کر اسے جموں مخالف فیصلہ قرار دیا تھا لیکن اب یہی جماعت اس فیصلے کو جموں وکشمیر کی ترقی و تعمیر کا ضامن قرار دے رہی ہے۔
دربار موو کی روایت اور تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ عمل کوئی150 سال پرانا ہے جو1872ءسے شروع ہوا تھا جب کشمیر کا صوبہ، جسے اس وقت” ریاست کشمیر “کہا جاتا تھا، وادی کشمیر، جموں کی پہاڑیوں اور میدانی علاقوں، پونچھ، میرپور، لداخ کے وسیع علاقے پر محیط تھا۔ گلگت، بلتستان اور اکسائی چن پر مشتمل تھا۔ کشمیر کے دوسرے ڈوگرہ حکمران، مہاراجہ رنبیر سنگھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے پورے دربار کو سرکاری طور پر جموں اور سرینگر کے درمیان منتقل کرنے کی مشق اسی سال شروع کی تھی۔ ان کے والد مہاراجہ گلاب سنگھ کے بارے میں بھی جانا جاتا ہے کہ وہ کبھی کبھار اپنے انتظامی دفتر یا دربار کو سردیوں میں جموں اور گرمیوں میں کبھی کبھار سرینگر منتقل کر دیتے تھے۔دربار منتقلی کے اس سلسلے کا پتہ400 سال سے زیادہ پہلے مغل بادشاہ جہانگیر کے دور میں بھی لگایا جا سکتا ہے۔1605ءمیں اپنے والد اکبر کی وفات کے بعد تخت پر چڑھنے کے بعد، جہانگیر نے کئی بار کشمیر کا دورہ کیا۔ پہاڑوں اور وادیوں سے ان کی محبت کی وجہ سے وادی¿ کشمیر ان کی پسندیدہ منزل بن گئی اور تقریباً ہر سال گرمیوں میں وہ عارضی طور پر اپنے پورے دربار کے ساتھ کشمیر چلا آتا تھا۔ ان کی پیاری بیوی نور جہاں ہمیشہ ان کے ساتھ کشمیر آجاتی۔کہا جاتا ہے کہ1627ءمیں بادشاہ جہانگیر کی وفات بھی ایک ایسی ہی منتقلی کے دوران مغل روڑ پر ہوئی تھی اور آج بھی راجوری اور پونچھ شاہراہ پر چنگس کے مقام پر بادشاہ جہانگیر کے اندرونی اعضاءدفن ہیں۔ جہانگیر کے مسلسل دوروں کی وجہ سے کشمیر عملی طور پر اس کی مغلیہ سلطنت کا دارالحکومت بن گیا۔ اس نظیر کو بعد میں انگریزوں اور ڈوگرہ حکمرانوں نے اپنایا۔مثال کے طور پر، 1863ءمیں، ہندوستان کے وائسرائے، جان لارنس نے موسم گرما کے دوران برطانوی راج کے دارالحکومت کو شملہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ شملہ کو ہندوستانی کمانڈر انچیف، اس وقت ہندوستانی فوج کے سربراہ کے ساتھ ساتھ نوآبادیاتی حکومت کے بہت سے محکموں کا موسم گرما کا ہیڈکوارٹر بھی بنایا گیا تھا۔1947ءمیں ریاست سے شخصی راج کے خاتمے کے بعد، شیخ محمد عبداللہ کو کشمیر کی ایمرجنسی حکومت کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیااور اس کے بعد وہ1948کے اوائل میں جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) کے وزیر اعظم بنے۔ شیخ عبداللہ نے دربار کی روایتی تبدیلی کو نہیں روکا اور یہ عمل سال2021ءتک یوں ہی جاری رہا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس عمل کو بدلنے کے پیچھے کیا حکمت عملی کارفرما ہے۔ اگر غور کیا جائے تو اس عمل کا کشمیریوں کو خیر مقدم کرنا ہی بنتا ہے کیونکہ موسم سرما کی سختیوں کے دوران دربار منتقلی کا یہ عمل کہیں نہ کہیں کشمیریوں کے لئے ابتری ہی کا باعث بنا رہا ہے۔ اگر دفاتر اور بیوروکریسی سرما کے دنوں میں کشمیر میں مقیم رہے گی تو اکثر کشمیریوں کو لگتا ہے کہ بجلی کی سپلائی اور راستوں کو کھولنے وغیرہ کا عمل بہتر ہوجائے گا۔ نیز بہت سارے کاموں کے لئے جموں جانا ایک دشوار عمل ہے جس سے انہیں نجات ملے گی۔ لیکن اس کے برعکس کشمیری اس حکم سے متنفر نظر آرہے ہیں جس کی بنیادی وجہ مبصرین کے مطابق دہلی اور ان کے نمائندہ ایل جی پر ان کے اعتماد کا فقدان ہے۔ کشمیری ایسے ہر عمل کے پیچھے کشمیر کے تئیں بھید بھاﺅ اور ضد ہی دیکھتے ہیں کیونکہ بدقسمتی سے ماضی قریب کے اکثر حکومتی فیصلے ایسے ہی ثابت ہوئے ہیں۔ رہی بات جموں کی تو یہاں 2021ءسے ہی اس نئے حکم نامے کے خلاف دبی دبی سی ہی سہی لیکن کچھ آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ بادی النظر میں دربار موو کے خاتمے کے اس فیصلے کا سب سے ذیادہ برا اثر جموں والوں پر ہی پڑنے کا احتمال ہے۔ جموں کی اکثریت تجارت کے شعبے سے وابستہ ہے اور دربار موو کے چھے مہینے ان کے کےلئے کاروبار کے مہینے ہوا کرتے تھے۔ اسی لئے جب2021ءمیں یہ فیصلہ آیا تو کشمیر میں کوئی احتجاج نہیں ہوا لیکن جموں میں تاجر سڑکوں پر اُتر آئے اور اپنا احتجاج درج کیا۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کاروباری طبقے پر حکومت کے مظالم اور خطے میں تاجروں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کے لیے22ستمبر کو جموں بندکی کال دی۔یہ پہلا موقع تھا کہ جب جموں کی تاجر برادری نے5اگست 2019ءکے بعد سے اپنی عدم اطمینان کا اظہار کیا ، جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکز نے ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا اور اس کی خودمختاری اور تحفظات کی ضمانت منسوخ کی ہے۔ جموں کے تاجروں کی نمائندہ تنظیم نے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے متعدد جموں مخالف اقدامات کی فہرست دی: اس سال کے شروع میں شراب کی دکانوں کی ای نیلامی، جس نے مقامی دکانداروں کو پریشانی میں ڈال دیا،100 ریلائنس اسٹور کھولنے کی تجویز جس کے خلاف چھوٹے تاجر مقابلہ کرنا مشکل ہے اور کان کنی کے معاہدوں کوبیرونی لوگوںکے لیے مختص کرنا، جس سے ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی کا نقصان ہوا۔شکایات کی فہرست میں 150سال پرانی ”دربار موو“روایت کا خاتمہ بھی تھا۔ جموں میں کاروباری برادری کے لیے اس عمل کو منسوخ کرنے کا مطلب زیادہ نقصان ہے۔ جموں کے ایک ٹریڈ یونین لیڈر مسٹر اعجاز کاظمی کی مانیں تو جموں کے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز نے اس درخواست پر فیصلے کے خلاف کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دربار مووکی بدولت جموں کو معاشی طور پر بڑا فروغ ملا ہے ، ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے درمیان ایک رشتہ بھی استوارکرنے میں بھی اس مشق نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔کاظمی کا کہنا ہے کہ ہم یہ احتجاج دربار موو کے پرانے رواج کو روکنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف کر رہے ہیں۔ ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ عوام کے بہترین مفاد میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
بہرحال پرانی روایات کو تبدیل کرنے کے جہاں مفید اثرات بھی ہوسکتے ہیں وہیں پر کئی برے اثرات بھی مرتب ہوا کرتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب نیشنل کانفرنس سرکار نے 1980ءکی دہائی میں اس عمل کو ختم کی کوشش کی تھی تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموی عوام کے احتجاج کو مہمیز دے کر اسے جموں مخالف فیصلہ قرار دیا تھا لیکن اب یہی جماعت اس فیصلے کو جموں وکشمیر کی ترقی و تعمیر کا ضامن قرار دے رہی ہے۔ فاروق عبداللہ نے جب مذکورہ فیصلہ کیا تھا تو جموں کے جملہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ گفت و شنید کے ذریعے اس کا حل نکالنے کی سعی کی تھی لیکن جموں کے نمائندگان نے ایک نہ سنی اور فاروق عبداللہ سرکار کو اس وقت فیصلہ بدلنا پڑا تھا۔ بادی النظر میں آج بھی اس فیصلے کا زیادہ برا اثر جموں پر ہی پڑنے کا اندیشہ ہے اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس ضمن میں افہام و تفہیم کی بھی کہیں سے کوئی کوشش ہوتی نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔جموں وکشمیر میں ہر معاملے کی طرح اس معاملے پر بھی وہی سنسان جنگل کی خاموشی کا غلبہ ہے اور کوئی نہیں بتاسکتا کہ کیا دربار منتقلی کا مسئلہ حتمی طور پر حل ہوچکا ہے کہ نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ سلجھا نہیں بلکہ اور مسائل کی ہی مانند مذید اُلجھ چکا ہے اور اس پر آنے والے ماہ و سال میں مذید سیاست گرماسکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جموں کے تاجر اور کشمیر میں اس سے متاثر ہونے والے طبقات کیسے اپنے مطالبات منوانے کی سعی کرتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھناپڑے گا کہ کیا جموں کے باسی ہر مسئلے کی طرح اس مسئلے کو بھی کشمیر بمقابلہ جموں کی عینک لگاکر دیکھتے رہیں گے کہ رویوں میں کچھ تبدیلی آجائے گی۔ مشترکہ مفادات کی خاطر دونوں اطراف کے لوگوں کو مل بیٹھ کر آگے کی راہیں طے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ پرانا مقولہ ہے کہ”اتفاق میں ہی طاقت ہے۔“
جموں وکشمیر میں ہر معاملے کی طرح دربار موو معاملے پر بھی وہی سنسان جنگل کی خاموشی کا غلبہ ہے اور کوئی نہیں بتاسکتا کہ کیا دربار منتقلی کا مسئلہ حتمی طور پر حل ہوچکا ہے کہ نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ سلجھا نہیں بلکہ اور مسائل کی ہی مانند مذید اُلجھ چکا ہے اور اس پر آنے والے ماہ و سال میں مذید سیاست گرماسکتی ہے۔











