جموں وکشمیر بھاجپا یونٹ کے صدر رویندررینا نے کہا کہ اگر انکی سرکار آئی تو وہ جنرل بس اڈے کو واپس بٹہ مالو منتقل کریں گے
حال ہی میں جموں وکشمیر بھاجپا یونٹ کے صدر رویندررینا نے کہا کہ اگر انکی سرکار آئی تو وہ جنرل بس اڈے کو واپس بٹہ مالو منتقل کریں گے ۔ انہوںنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ1999ءمیں وہ بٹہ مالو آئے تو وہاں لوگ خوش تھے او ر وہاں رونق ہوتی تھی تاہم آج وہاں پر آوارہ کتوں کا ڈیرہ ہے جسکو دیکھ کر میرا دل رویا ۔وہیں انہوں نے کہا کہ اگر بھاجپا کی سرکار آئی تو وہ اس بٹہ مالو بس اڈے کی رونق کو دوبارہ بحال کریں گے ۔اسکے بعد چئیرمین آف آل کشمیر ٹرانسپورٹ کنفیڈریشن کے صدر نے رویندر رینہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے شکر گزار ہوں گے اگر بس اڈے کو واپس بٹہ مالومنتقل کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ”یہ مسافروں کے لیے بھی راحت کی علامت ہو گی، کیونکہ انہیں پارمپورہ سے شہر کے دیگر مقامات کے لیے اضافی بسیں لینا پڑتی ہیں۔“اسی ضمن میں بھاجپا میڈیا سیل انچارج منظور بٹ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بس اڈے کو جلد بٹہ مالو منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پہلے ہی ٹرانسپورٹرز کا وفد وزیر داخلہ اور یوٹی بھاجپاصدر سے ملاقی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس اڈے کی منتقلی سے لوگوں کو کافی خسارے سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد بس اڈے کو واپس بٹہ مالو منتقل کیا جائے گا۔یادرہے2017ءمیں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے بیچ بٹہ مالوکے تاریخی بس اڈے کو پارمپورہ منتقل کیا گیا تھا تاہم تب کے بعد سے جہاں عام لوگوں کو بٹہ مالو یا لالچوک پہنچنے کےلئے کئی گاڑیاں بدلنی پڑتی ہیں وہیں کئی گھنٹے بھی لوگوں کے اس دوران ضائع ہوتے ہیں۔ دوسری طرف سے بٹہ مالو میں دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار تب سے ٹھپ پڑگیا ہے جب سے بس اڈے کو بٹہ مالو منتقل کیا گیا۔ دکانداروں مطالبہ ہے کہ اس بس اڈے کو واپس بٹہ مالو منتقل کیا جائے تاکہ انکا کاروبار واپس پٹری پر آسکے۔ ایک موٹر میکینک مشتاق احمدڈار نے کہا کہ یہاں ایک ہزار سے زائد دکانیں ہیں اور مختلف اضلاع سے لوگ آکر یہیں رُکتے تھے جن کی وجہ سے انکا کاروبار بھی ٹھیک چل رہا تھا لیکن جب سے بس اڈے کو منتقل کیا گیا تب سے وہ مشکلات سے دوچار ہیں۔خیال رہے بس اڈے کو واپس اپنی جگہ لانے کا معاملہ تب جاگ اُٹھا جب رواں سال اکتوبر میں ہی سرینگر ڈیولوپمنٹ اتھارٹی نے بس اڈے میں منی سیکریٹریٹ بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا۔واضح رہے2017 ءمیں جموںو کشمیر ہائی کورٹ نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے سرینگر شہر میں ٹریفک جام کو کم کرنے کےلئے بس اڈے کوپارمپورہ منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز کے ایک ماہ تک احتجاج کے بیچ اکتوبر2017ءمیں بس اڈہ منتقل کیا گیا۔اسکے بعد تب کی بھاجپا پی ڈی پی سرکار نے یہاں منی سیکرٹریٹ بنانے کا اعلان کیا۔2018ءمیںاس وقت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے والد مفتی محمد سعید کی برسی پر منی سیکریٹریٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔ سوکروڑ کی لاگت سے بننے والے منی سیکریٹریٹ کا مقصدپچاس محکمہ جات کو ایک چھت کے نیچے لانا تھا۔ لیکن یو ٹی انتظامیہ نے اب یہ منصوبہ واپس لیاہے۔سوال یہ کہ اس منصوبے پر پیسوں کی فضول خرچی کی ذمہ داری کون لے گا؟وہیں کاروباریوں کو ہوئے نقصان کی بھرپائی بھی کون کرے گا ۔
بس اڈے کو واپس اپنی جگہ لانے کا معاملہ تب جاگ اُٹھا جب رواں سال اکتوبر میں ہی سرینگر ڈیولوپمنٹ اتھارٹی نے بس اڈے میں منی سیکریٹریٹ بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا









