امت نیوز ڈیسک //
سرینگر//وزیراعظم نریندر مودی نے عوامی مفاد میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کی تیزرفتار ترقی پر زور دیا ہے، تاکہ ڈیجیٹل نابرابری کو ختم کیا جاسکے۔ ا ±نہوں نے آج بالی میں G-20 سربراہ اجلاس کے دوسرے دن ”ڈیجیٹل کایا پلٹ“ کے موضوع پر تیسرے ورکنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔بھارت کی ٹیکنالوجی اور جدت طرازی نے پہلے ہی دنیا کو متاثر کیا ہے۔ تاہم وزیراعظم نے زور دیا کہ بھارت کے اختراعی نوجوانوں اور بڑھتی ہوئی ٹیک رسائی کی وجہ سے مستقبل موجودہ وقت سے زیادہ وسیع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے نوجوانوں نے ٹیک عالمگیریت اور ہنر کی عالمگیریت کو یقینی بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ “ہم دنیا کی بھلائی کے لئے اپنے ہنر کا استعمال کر رہے ہیں”۔وزیر اعظم نے بتایا کہ بھارت عالمی اختراعی اشاریئے میں 2015 میں 81 ویں مقام سے 40 ویں مقام پر آگیا ہے۔ 2021 سے بھارت میں یونی کارن اسٹارٹ اپس کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے، کیونکہ بھارت 81000 تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس کے ساتھ تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ کے طور پر ابھرا ہے۔ بھارت کے ہنر مندی کے پول نے سینکڑوں بین الاقوامی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ،کہ وہ بھارت میں تحقیق و ترقی کے اپنے مراکز قائم کریں۔بھارتی نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی رسائی کی وضاحت کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ملک میں رونما ہونے والے موبائل اور ڈیٹا انقلاب کے بارے میں بات کی۔ پچھلے 8 سالوں میں براڈ بینڈ کنکشن 60 ملین سے بڑھ کر 810 ملین تک پہنچ گئے۔ اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 150 ملین سے 750 ملین تک پہنچ گئی۔ انٹرنیٹ کی ترقی دیہی علاقوں میں شہری علاقوں کی بنسبت تیز ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ "ایک نئی آبادی کو انفارمیشن سپر ہائی وے سے جوڑا جا رہا ہے۔” انہوں نے بھارت میں ٹکنالوجی کو جمہوری بنانے پر بھی زور دیا۔ بھارت نے یہ بھی دکھایا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی ٹچ کیسے دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بھارت میں، ٹیکنالوجی مساوات اور بااختیار بنانے کی طاقت ہے۔” انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم آیوشمان بھارت کی مثال دی، جو تقریباً 200 ملین خاندانوں یعنی 600 ملین لوگوں کے لیے تحفظ فراہم کرتی ہے اور کووڈ ٹیکہ کاری مہم، دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم ہے،جو کہ ٹیک پلیٹ فارمز پر چلائی جاتی ہے۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے کی مثالیں بھی دیں، جیسے اوپن کورسز کے سب سے بڑے آن لائن ذخیروں میں سے ایک جہاں 10 ملین سے زیادہ کامیاب آن لائن اور مفت سرٹیفیکیشن ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے ڈیٹا کی سب سے کم شرح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غریب طلباءکو وباءکے دوران آن لائن کلاسز میں شرکت کرنے میں مدد ملی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت، ہر انسان کی زندگی کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فائدوں سے مستفید کرنے کی غرض سے G-20 ساجھے داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال بھارت کی G-20 کی صدارت کے دوران ترقی کیلئے ڈیٹا ایک کلیدی عنصر ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ یہ G-20 کے رہنماو ¿ں کی ذمہ داری ہے کہ ڈیجیٹل کایا پلٹ کے فائدے، لوگوں کے ایک چھوٹے حصے تک محدود نہ رہنے پائیں۔ مودی نے عالمی رہنماو ¿ں سے کہا کہ وہ اگلے دس برسوں کے دوران ہر انسان کی زندگی میں ڈیجیٹل تبدیلی لانے کا عہد کریں، تاکہ دنیا کا کوئی شخص، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فائدوں سے محروم نہ رہنے پائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی صحیح معنی میں سبھی کی شمولیت والی اور عام ہوجائے گی، ا ±سی وقت یہ فائدے حاصل کئے جاسکےں گے۔ انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل کایا پلٹ، ہمارے دور کی سب سے نمایاں تبدیلی ہے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے مناسب استعمال کی بدولت، غربت اور آب و ہوا کی تبدیلی کے خلاف دہائیوں پرانی عالمی لڑائی کئی گنا شدت اختیار کرے گی۔ بھارت میں ڈیجیٹل کایا پلٹ سے متعلق پہل قدمیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت کے تجربہ سے ظاہر ہوا ہے کہ سبھی کی شمولیت والے نظام کے ساتھ سماجی و اقتصادی لحاظ سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔










