• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
اتوار, جنوری ۲۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
فاروق عبداللہ کا نیشنل کانفرنس کی صدارت چھوڑنے کا اعلان: قیادت کی منتقلی کا منصوبہ یا پس پردہ کچھ اور ہے۔۔۔۔

فاروق عبداللہ کا نیشنل کانفرنس کی صدارت چھوڑنے کا اعلان: قیادت کی منتقلی کا منصوبہ یا پس پردہ کچھ اور ہے۔۔۔۔

شاہد لطیف....

by امت ڈیسک
25/11/2022
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

فاروق عبداللہ کا یہ کہنا کہ وہ پی اے جی ڈی کی قیادت کرتے رہیں گے،نیز راہول گاندھی کے بھارت جوڑو یاترا کا بھی حصہ بنیں گے بھی، انتہائی معنی خیز ہے!

18 نومبر2022 عیسوی کو نیشنل کانفرنس کے ایک ترجمان نے علی الصبح ایک بیان جاری کیا جس میں انکشاف کیا گیا کہ ڈاکٹر فارق عبداللہ نے اپنے ساتھیوں کو این سی کے صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پارٹی میں سینئر ساتھیوں کی بہترین کوششوں کے باوجود ڈاکٹر صاحب اس بات پر بضد تھے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کریں گے۔ اس اچانک اعلان نے سب کو حیران کر دیا۔دریں اثنا میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر کو پارٹی آئین کے مطابق پارٹی صدر کے انتخاب کا کام سونپا گیا ہے، جو کہ5دسمبر کو مکمل ہو جائے گا، اس وقت تک ڈاکٹر فاروق عبداللہ ہی پارٹی صدر کے طور پر اپنا کام جاری رکھیں گے۔ڈاکٹر عبداللہ نے استعفیٰ سے متعلق این سی کے بیان پر ردعمل میں کہا، ”میں اب بھی انتخابات تک پارٹی سربراہ ہوں اور جب تک کوئی اور اس عہدے کی ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہوتا“۔تاہم اس ڈرامے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پارٹی کے اگلے صدر ہونے کا امکان نہیں ہے اور پارٹی نئے چہرے کی تلاش میں ہے۔

ڈاکٹرفاروق5 اگست 2019ءکے بعد جموں و کشمیر میں مرکز کے اقدامات کی مخالفت کرنے والے کلیدی چہروں میں سے ایک کے طور پر اُبھرے ہیں۔ وہ پیپلز الائنس فار دی گپکار ڈیکلریشن(پی اے جی ڈی) کے چیئرمین بھی ہیں، جو محبوبہ مفتی سمیت جموں و کشمیر کی چار جماعتوں کا اتحاد ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ریاست جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ،سابق مرکزی وزیر، موجودہ بھارتی پارلیمان کے ممبراور جموں وکشمیر میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی اے جی ڈی کے سربراہ فاروق عبداللہ ایک ہمہ گیر اور سرگرم شخصیت ہیں۔ سیاست کا میدان اگرچہ ان کااصل میدان ہے جس کے رموز و اوقاف کو وہ خوب جانتے ہیں لیکن ان کی تہہ داراور سحر انگیز شخصیت کا ہمہ جہتی پہلو اتنا وسیع ہے کہ وہ بالی وڈ کے گانے گاکر، بھگوان رام کے بھجن اور کبھی کبھار سر اور تال کی لے پر تھرک تھرک کر ناچنے سے لے کر جذباتی ہوکر آنسو بہانے تک ،سب کچھ کرسکتے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کی مانیں تو خواجہ عبدالغنی لون ،سید علی گیلانی اور مفتی محمد سعیدکے اس دار فانی سے کوچ کرجانے کے بعداگر کشمیر میں کوئی ہمہ گیر سیاسی قائد بچا ہے تو وہ فاروق عبداللہ ہی ہیں۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ جموںو کشمیر میں سیاست کی بات جب بھی ہوگی تو اس میں اس متنازعہ شخصیت کا ضرور ذکر ہوگا۔ اپنی سیاست ممنوعہ لبریشن فرنٹ کے مصلوب لیڈر محمد مقبول بٹ کے ساتھ وعد و وعید اور” چون دیش میون دیش،کاشر دیش کاشر دیش“ سے شروع کرنے کے بعد ریاست کی زمام اقتدار سنبھالنے اور90ءکی دہائی کہ جب دنیا بھر میں بھارت کی ریاست پر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر دباﺅ بڑھ چکاتھا ،جینوا ، اقوام متحدہ اور دوسرے فورمز پر جاجاکر ریاست ہند کی ترجمانی کرنے تک ، فاروق عبداللہ کی سیاسی زندگی نے بہت سارے اُتار و چڑھاﺅ دیکھے ہیں۔انہیں خبروں میں رہنا بھی آتا ہے اور خبریں بنانے کا ہنر بھی وہ خوب جانتے ہیں۔منہ پھٹ ہیں اس لئے اکثر بہت ساروں کو ناراض بھی کرلیتے ہیں۔ 5اگست2019 عیسوی کے بعد جب حکومت ہند نے ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگاکر انہیں پابند سلاسل کیا تو بہت ساروں نے اس کو ان کے لئے مکافات عمل قرار دیا کیونکہ ماضی میں انہوں نے اسی قانون کو مزاحمت کاروںکے کچلنے کے لئے بے دریغ استعمال کیا تھا۔
2019ءمیں معروف صحافی راج دیپ سر ڈیسائی نے81سالہ فاروق عبداللہ سے مملکت ِ ہند کو خطرہ؟ عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا جس کا خلاصہ تھا کہ1987ءمیں فاروق عبداللہ اور راجیو گاندھی کے اتحاد نے الیکشن دھاندلی کرکے محمد یوسف کو سید صلاح الدین اور ان کے الیکشن ایجنٹ کو کمانڈر یاسین ملک بنایا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک وہ جموںو کشمیر میں سب سے بڑے رعب اور دبدبے والے بھارت نواز بنے رہے۔وہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ بی جے پی سے لیکر کانگریس کی مرکزی حکمرانی میں اہم بھارتی حکومتی کابینہ کا حصہ بنے لیکن یکایک 2019عیسوی میں جب مرکز نے جموں وکشمیر کی ریاست کو توڑ کر اسے حاصل خصوصی درجہ کو منسوخ کیا ،فاروق عبداللہ سمیت دوسرے لیڈران قوم دشمن ،امن و امان کے لئے خطرہ، جموں وکشمیر میں کرپشن کہانی کے مرکزی کردار، خاندانی حکمرانی کے گنہگار قرار دے دئے گئے اور پبلک سیفٹی ایکٹ عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں ہیں، جو ایسا قانون ہے کہ مملکت کو کسی بھی فرد کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہونے پر دو سال تک محروس رکھنے کی اجازت دیتا ہے،کے تحت قید میں ڈال دئے گئے ہیں۔ راج دیپ سردیسائی نے سوالیہ انداز میں لکھا تھاکہ آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد کی صورتحال میں کیا نریندر مودی حکومت نے ایسی سیاسی راہ اختیار کرلی ہے جس میں ”قوم پرست“ فاروق عبداللہ اور ”دہشت گرد۔ علیحدگی پسند“ صلاح الدین دونوں کو مملکت کے ”دشمن“ کے طور پر دیکھا جارہا ہے؛ ایک کو سرینگر کی گپکار روڈ پر واقع ان کے بنگلہ میں قید کردیا گیا، اور دوسرا اپنے محفوظ پاکستانی مکان میں آزاد ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جو وادی کی پیچیدہ صورتحال کے پس منظر میں مطابقت رکھتا ہے، جہاں قوم پرستی اور علیحدگی پسندی کے درمیان خطوں کو سخت گیر مملکتی کارروائی نے دھندلا کردیا ہے، جو ہر کشمیری سیاستدان کو شک آور اورشورش پسند کے طور پر برتاو کررہی ہے۔اگرچہ یہ مضمون 2019ءمیں شائع ہوا تھا اور تب سے آج تک حالات میں بڑی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں ہیں لیکن اگر کچھ نہیں بدلا ہے تووہ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور ان کے خاندانوں کے بارے میںحکمران جماعت بی جے پی کا نظریہ اور کشمیر کے زمینی حقائق و حالات ہیں۔ آج بھی فاروق عبداللہ، بی جے پی کی نظر میں معتوب و گناہ گار ہیں اور بی جے پی سے وابستہ کئی لوگ ان سے اتنے متنفر نظر آتے ہیں کہ آئے روز انہیں جیل میں ڈالنے، ان کا سب سے بڑا کرپٹ ہونے وغیرہ کے بیانات داغتے رہتے ہیں۔

2019ءمیں کچھ ماہ جیل میں رکھنے کے بعد جب فاروق عبداللہ کو رہا کیا گیا تھا اور انہوں نے دفعہ370 اور35 اے کی بحالی کےلئے گپکار الائنس جسے مرکزی حکومت کے بڑے چھوٹے ان دنوں میں گپکار گینگ کا نام دیتے تھے کی بنیاد رکھی تو معاً بعد ان پر کرکٹ ایسوی سیشن کے فنڈز میں خرد برد کے2012ءکے کیس کو نئی مہمیز دی گئی۔انفورسمنٹ ڈائیرکٹوریٹ کی جانب سے انہیں بلانے اور ان کی پوچھ تاچھ کرنے کا سلسلہ تیز تر کیا گیا۔ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نشین محبوبہ مفتی کی بزرگ والدہ اور بھائی کو بھی ای ڈی کسی اورکیس میں پوچھ تاچھ کے لئے بلاتی رہی ہے۔ فاروق عبداللہ کے فرزند اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ای ڈی کی کارروائی کو سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے بارہا کہا کہ ان کے والد کے نام ای ڈی کا سمن پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن تشکیل دینے کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاملہ انتقام گیری اور ترہیب کا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کرکٹ اسکینڈل کیس کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کررہی ہے جس نے 16 جولائی2018ءکو کیس میں چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) سرینگر کی عدالت میں فائل کی تھی۔ چارج شیٹ میں ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، سابق جنرل سکریٹری محمد سلیم خان ، سابق خزانچی احسان احمد مرزا اور جموں وکشمیر بینک منیجر بشیر احمد کے نام شامل کئے گئے تھے۔ سی بی آئی نے چارج شیٹ میںفاروق عبداللہ کو چھوڑ کر باقی ملزمان کی موجودگی میں دائر کی تھی۔ سی بی آئی نے کیس کے سلسلے میں فاروق عبداللہ کا بیان جنوری2018ءمیں ریکارڈ کیا تھا۔فاروق عبداللہ نے ستمبر 2015ءمیں کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا: میں خوش ہوں کہ کیس کی تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ سی بی آئی کیس کی تحقیقات کو تیزی سے اپنے اختتام تک لے جائے گی۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے حوالے سے سامنے آنے والے اسکینڈل کو 3ستمبر 2015ءکو سی بی آئی کے حوالے کر دیا تھا۔ اس سے قبل اس اسکینڈل کی تحقیقات جموں وکشمیر پولیس کی خصوصی تحقیقات ٹیم (ایس آئی ٹی) کررہی تھی۔یہ اسکینڈل 2002ءسے2011ءتک بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی طرف سے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کو ریاست میں کرکٹ کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے فراہم کئے گئے 113کروڑ 67لاکھ روپے سے متعلق ہے۔ اس رقم میں سے مبینہ طور پر 40کروڑ روپے کا خرد برد کیا گیا تھا۔اسی بیچ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے فاروق عبداللہ کی12کروڑ روپے مالیت کی جائیداد بھی ضبط کرلیں تھیںجس میں ان کی تین رہائشی عمارتیں، سرینگر میں واقع ایک تجارتی عمارت اورچار زمینیں شامل ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے عائد کئے گئے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ہمیشہ سچ پر قائم رہیں گے، چاہے کتنی ہی فرضی کہانیاں گھڑ لی جائیں، سچائی سے ہیرا پھیری کی جائے اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کی جائے۔ پارٹی لیڈران نے نئی دہلی کو سیاسی انتقام گیری کی روش کو ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے فرضی اور نام نہاد کیس ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں اور موجودہ من گھڑت اور فرضی کیس بھی جھوٹ اور فریب ثابت ہونگے۔این سی کے لیڈروں نے کہا کہ بھاجپا جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کی جدوجہد کو کمزور کرنے کے لئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو سیاسی انتقام گیری کے تحت نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ ایسے حربوں سے ہمارے عزم و استقلال میں ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑ ے گا اور نیشنل کانفرنس ہر حال میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کی ترجمان کرتی رہے گی۔ خود فاروق عبداللہ بھی ماضی میں ایسے ہی حالات کے اندر محبوبہ مفتی کی والدہ اور بھائی کو پوچھ تاچھ کے لئے طلب کرنے کی کاروائی کو کشمیریوں کو ڈراکر تقسیم کردینے کی چال سے تعبیر کرتے رہے ہیں۔وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس ترہیب سے وہ یا پی اے جی ڈی ممبران نہیں ڈریں گے اور نہ صرف یہ سیاسی اتحاد جاری رہے گا بلکہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے جدوجہد بھی جاری رکھی جائے گی۔ بہرحال یہ کیس اپنی جگہ موجود ہیں اور کسی ننگی تلوار کی مانند ان لیڈران کے سروں پر مسلط ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جب بھی مرکزی حکومت چاہئے گی یہ تلوار ان سروں پر گراسکتی ہے!

حال ہی میں حکمران جماعت بی جے پی کے ایل لیڈر سنیل شرما نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ فاروق عبداللہ عنقریب جیل میں ہوں گے۔ اس بیان کو نیشنل کانفرنس نے موصوف کی ذہنی اختراع سے تعبیر کرتے ہوئے اسے انتقام گیری کی بدترین مثال قرار دیا۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن، ای ڈی، سی بی آئی اور ملک کے دیگر ادارے خودمختار تھے اور لیکن بھاجپا نے ان اداروں کو حاصل منڈیٹ پر سوالیہ نشان لگا دیاہے۔ڈار نے کہا کہ حکمران جماعت کیخلاف اختلافِ رائے رکھنے والے سیاسی لیڈر ان کیخلاف ان ایجنسیوں کا استعمال کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب بھاجپا لیڈران’وہی مدعی وہی منصف‘ کے مترادف خود ہی فیصلے بھی سنانے بیٹھنے ہیں اور حزب ِ اختلاف کے لیڈران کو جیلوں میں ڈالنے کی اعلانات بھی کررہے ہیں۔پارٹی کے ترجمان نے کہاکہ ملک کی ایجنسیوں کو بھاجپا لیڈران کے ایسے بیانات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہئے کیونکہ ایسے بیانات تحقیقاتی ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے آئینی اداروں کے رول کو مشکوک بنادیتے ہیں۔ڈار نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی کی جدوجہد میں سرگرمِ عمل ہے اور بھاجپا لیڈران کے ایسے بیانات سے نیشنل کانفرنس کے عزم ، استقلال اور اداروں میں ذرا برابر بھی فرق آنے والے نہیں ہیں۔این سی ترجمان نے کہا کہ بھاجپا لیڈران آئے روز اس بات کے دعوے کررہے ہیں کہ بھاجپا آئندہ انتخابات میں جیت حاصل کرکے اپنے بل بولتے پر جموں وکشمیرمیں حکومت بنائے گی، اگر بھاجپا کے ان دعوو¿ں میں تھوڑی سی بھی حقیقت ہوتی تو یہاں اسمبلی انتخابات کب کے منعقد ہوئے ہوتے۔ڈار نے کہا کہ جموں وکشمیر کو گذشتہ 4 سال سے جمہوریت سے محروم رکھا گیا ہے اور یہاں اسمبلی انتخابات کا انعقاد اس لئے نہیں ہورہاہے کیونکہ من مرضی حد بندی اور نشستوں کی ہیراپھیری کے باوجود بھی بھاجپا کو کہیں سے بھی جیت کی کرن نظر نہیں آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ اب غیر مقامی شہریوں کو یہاں ووٹ ڈالنے کا اہل بنانے کے نئے حربے اپنانے کی بھی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔

نیشنل کانفرنس ترجمان کا ردعمل میں دیا گیا بیان اور پھر فاروق عبداللہ کے پارٹی قیادت کو چھوڑنے کا فیصلہ مدنظر رکھ کر کئی سیاسی مبصرین اس استفعے کو فاروق عبداللہ کی ممکنہ گرفتاری سے جوڑ رہے ہیں۔ ان مبصرین کا ماننا ہے کہ فاروق عبداللہ نے پی اے جی ڈی اتحاد کو قائم رکھنے اور دفعہ370 کی بحالی کی جدوجہد کو ترک نہ کرنے کا عزم دکھا کر بی جے پی حکومت کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی لئے وہ جانتے ہیں کہ ردعمل میں انہیں ممکنہ طور پر جیل بھی جانا پڑسکتا ہے۔اسی بات کے پیش نظر وہ پہلے ہی پارٹی قیادت کا مسئلہ حل کرکے اسے نوجوان عمر عبداللہ کے ہاتھ میں تھمادینا چاہتے ہیں۔ اس رائے کے عین مخالف کچھ دوسرے مبصرین کا ماننا ہے کہ پارٹی قیادت سے مستفعی ہونے کا اعلان دراصل ایک معمول کی سیاسی مشق ہے۔ان مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے لئے علیل و بزرگ فاروق عبداللہ کو گرفتار کرنا بہت بڑا فیصلہ ہوگا جس سے وہ ہر ممکن طور پر بچنے کی کوشش کرے گی۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ کا حالیہ فیصلہ دراصل ان کی جانب سے نیشنل کانفرنس کی قیادت کے بجائے جموںوکشمیر کے قائد بننے کی چاہت کا نتیجہ ہے۔ ان مبصرین کے نزدیک فاروق عبداللہ پی اے جی ڈی کے سربراہ بن کر جموںو کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق دلانے کی جدوجہد کی کوششوں کو ایک قائد بن کر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔کشمیریوں کا قومی قائد بننے کےلئے ضروری ہے کہ وہ ایک جماعت یعنی نیشنل کانفرنس کی قیادت کے بجائے پی اے جی ڈی اتحاد کی قیادت کریں۔ مبصرین کے اس گروہ کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آل انڈیا کانگریس پارٹی کے قائد راہول گاندھی کی” بھارت جوڑو یاترا“ کا بھی حصہ بنیں گے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ پارٹی قائد کے بجائے قومی قائد بننا چاہتے ہیں۔ یہ سیاسی پنڈت حالیہ ایام میں فاروق عبداللہ کے جواپر لال نہرو کی تعریف کرنے اورانہیں ایک عظیم لیڈر قرار دینے کو بھی معنی خیز سمجھتے ہیں۔ ان سیاسی دانشوروں کاکہنا ہے کہ ایک طرف سے راہول گاندھی بھارت جوڑو یاترا کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھارہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ گویا بھارت کی اصل اور بنیادی ریاستی مشینری بھی اس کام میں ان کی معاون ہے اور دوسری جانب کشمیر سے فاروق عبداللہ کے بیانات اور اقدامات ہیں جو اس سارے عمل کے مماثل اور معاون ہیں،اسلئے فاروق عبداللہ کے پارٹی قیادت چھوڑنے کے اعلان کو سطحی اور عام بیان یا اقدام سے تعبیر کرنا قطعاً مناسب نہیں ہوگا۔ بہرحال یہ وقت ہے کہ جو سیاسی پنڈتوں اور مبصرین کی اس ضمن میں مختلف آرا کو صحیح یا غلط ثابت کردے گا۔اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ آنے والے وقت میں پتہ چل جائے گا، آئے ! تب تک سب انتظار کریں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں کشمیر میں الیکشن کے لئے ابھی وقت درکار : مظفر حسین بیگ

Next Post

سوپور ٹرانسپورٹرز احتجاج پر کیوں ؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف کو اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے لوک سبھا امیدوار نامزد کیا

میاں الطاف کی بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت

25/01/2026
نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

25/01/2026
آپ نے جموں و کشمیر کو تقسیم کیا، ہم لداخ کے دوبارہ الحاق کا بھی مطالبہ کرتے ہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بی جے پی پر حملہ

آپ نے جموں و کشمیر کو تقسیم کیا، ہم لداخ کے دوبارہ الحاق کا بھی مطالبہ کرتے ہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بی جے پی پر حملہ

25/01/2026
ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

25/01/2026
وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم  وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

24/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کھیلے گا ٹی20 ورلڈ کپ

24/01/2026
Next Post
سوپور ٹرانسپورٹرز احتجاج پر کیوں ؟

سوپور ٹرانسپورٹرز احتجاج پر کیوں ؟

بجلی کا شدید بحران

بجلی کا شدید بحران

شیلانگ میں پھر تشدد، پولیس کی گاڑیاں نذر آتش

شیلانگ میں پھر تشدد، پولیس کی گاڑیاں نذر آتش

انڈونیشیا میں 2 دن سے ملبے تلے دبے بچے کو زندہ نکال لیاگیا

انڈونیشیا میں 2 دن سے ملبے تلے دبے بچے کو زندہ نکال لیاگیا

پنچائتی ممبران کو دھمکی کا معاملہ : حزب سربراہ کے خلاف چارج شیٹ دائر

پنچائتی ممبران کو دھمکی کا معاملہ : حزب سربراہ کے خلاف چارج شیٹ دائر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »