جموں وکشمیر میں اگر چہ اسمبلی چناؤ نہیں ہو رہے تاہم دوسری طرف سے ایل جی انتظامیہ کی جانب سے اب لمبردار اور چوکیدار کے انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔جموں و کشمیر کے کہیں حلقوں میں ان پر فائز بزرگ افراد کو تبدیل کرنے اور خالی آسامیوں کو پُر کیا جا رہا ہے۔اور اب اس کے لیے بھی 60 سال ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر کی گئی ہے ۔دراصل 12 جنوری کو محکمہ ریونیو کے افسران کے ساتھ میٹنگ میں جموں و کشمیر کےچیف سیکرٹری ارون کمار مہتا نے 26 جنوری سے پہلے ہی لمبردار اور چوکیدار کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کی ہدایت دی۔چیف سیکرٹری نے میٹنگ میں تمام اضلاع کی انتظامیہ کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ ان لوگوں کی نشاندہی کریں جن کی کارکردگی خاطر خواہ نہیں ہے اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق ان کی جگہ نوجوان اور پرجوش افراد کو شامل کریں۔ اجلاس میں کمشنر سیکرٹری ریونیوکے علاوہ ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور کئی دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ کچھ افسران نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی۔ ڈاکٹر مہتا نے کہا کہ لمبردار اور چوکیدار کے عہدے نچلی سطح پر بہتر تال میل کے لحاظ سے بہت اہم ہیں اور عام لوگوں کے خاطرمیں انہیں خالی نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے انہیں عوام اور انتظامیہ کے درمیان ایک کڑی قرار دیا اس لیے دیہی آبادی کو بااختیار بنانے کا آلہ ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ نمبرداروں اور چوکیداروں کی تمام خالی آسامیوں کو اس ماہ کی 26 تاریخ سے پہلے پُر کیا جائے۔چیف سیکریٹری نے ضلعی انتظامیہ کو مزید تاکید کی کہ وہ ان کے ساتھ قریبی تال میل کےساتھ کام کریں تاکہ دیہاتوں سے معلومات کا مطلوبہ بہاؤ فوری اور پریشانی سے پاک ہو۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ ان تمام بنیادی فیلڈ ورکرز کا ایک واٹس ایپ گروپ بنائیں تاکہ وہ اپنی تجاویز اور شکایات براہ راست انتظامیہ تک پہنچا سکیں۔
دوسری طرف سے ان چناؤ میں جہاں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا جا رہا ہے تاہم وادی میں بے روزگاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان چناو میں جہاں چند ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے‘ میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں نے بھی پچھلے دنوں منعقدہ امتحان میں حصہ لیا ہے۔ضلع بارہمولہ کے کئی تحصیلوں میں دئے گئے امتحانات میں پی ایچ ڈی اور ماسٹرز ڈگری یافتہ نوجوانوں نے بھی شریک کی۔اطلاعات کے مطابق بونیار اور اوڑی میں 54خالی نشستوں کےلیے 150 فارم جمع ہوئے جن میں ایک پی ایچ ڈی اور کئی ماسٹرز ڈگری یافتہ بھی تھے۔حکام کے مطابق ان نشستوں کےلیے کم از کم دسویں جماعت پاس ہونے کےساتھ کوئی کیس امیدوار کے خلاف درج نہیں ہونا چاہیے۔وہیں امیدوارسماج میں اچھا رتبہ اور سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والا نہیں ہونا چاہیے۔بونیار سے تعلق رکھنے والے مقامی شخص الطاف احمد ڈار انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اس فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ” حکومت کی جانب سے یہ اچھا قدم لیا گیا ہے کیوں کہ اس سے قبل ایک ہی گھر کی کئی پیڑھیاں اس عہدے پر براجمان رہتی تھیں اور اس عہدے کو اپنے اغراض و مقاصد کےلیے استعمال کیا جا تا تھا۔“







