(لندن) عام طور درخت اگانے کے لئے شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے اور عالمی سطح پر ممالک شجرکاری کے لیے سرکاری سطح پر مہمات بھی چلاتے ہیں، مگر برطانیہ میں اس کے برعکس ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
اس حیران کن واقعے کی تفصیلات کے مطابق حکام نے ایک شہری کو اپنے گھر کے قریب ویران جگہ پر درخت لگانے پر جرمانے کا نوٹس بھیجا ہے۔ جرمانے کی مالیت 50 ہزار پاؤنڈ یا 60 ہزار امریکی ڈالر ہو سکتی ہے۔
لندن کے قریب رہائش پذیر 43 سالہ سائمن مارٹن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماحول کو خوبصورت اور پرفضا بنانے کے لیے اپنے گھر سے چند میٹر دور واقع ایک ویران جگہ پر کچھ درخت لگائے۔
برطانیہ کے مقامی میڈیا کی طرف سے گردش کرنے والی خبروں میں سائمن مارٹن نامی شخص کو اس لیے جرمانے کا سامنا ہے کیونکہ انہوں نے ایک ویران کھیل کے میدان کو زرعی فارم میں تبدیل کر دیا۔ ویلز کاؤنٹی میں واقع اس گراؤنڈ کو مقامی لوگ کھیل کی سرگرمیوں میں استعمال کرتے رہے ہیں مگر یہ ایک عرصے سے ویران ہے۔
مارٹن کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ پندرہ سال سے بند ہے اور اس میں گھاس اُگ چکی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اس میں درخت لگائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سوچا کہ اب لوگ اس گراؤنڈ کو کھیل کے استعمال نہیں کرتے تو میں نے اسے عوامی پارک بنانے کے لیے وہاں پر شجرکاری شروع کی۔
مارٹن نے 15سال قبل لاوارث اسٹیڈیم کو دوبارہ حاصل کرنے اور اسے ایک خوبصورت باغ میں تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے پودوں کی افزائش میں مدد کے لیے مٹی کی ایک اور تہہ بچھائی آئے اور زمین کے پلاٹ پر کاشت کاری شروع کی، لیکن وہ حیران رہ گئے کہ میونسپلٹی کونسل کے کارکنوں نے انہیں بتایا کہ اگر میں نے درختوں کا ڈھیر وہاں سے نہ ہٹایا تو انہیں بڑے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مارٹن نے تبصرہ کیا کہ میں تھوڑا بہت اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں اسے بہتر بنانا چاہتا ہوں۔
پریس رپورٹس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے افسران نے مارٹن کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں اس جگہ سے مٹی ہٹانے کا حکم دیا، لیکن مارٹن نے وضاحت کی کہ "ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ وہ مٹی خود اٹھا سکیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا: "یہ وہ مٹی ہے جسے کسی علاقے میں گھاس لگانے، درخت لگانے، کسی علاقے میں جنگلی حیات کو بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میں جیل نہیں جانا چاہتا اور میں 50,000 پاؤنڈ جرمانہ ادا نہیں کر سکتا، لیکن میں گراؤنڈ میں درخت لگانے کے اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔









