امت نیوز ڈیسک //
سری نگر / / جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ (رکن پارلیمان) نے نمبر داروں کے انتخاب کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ان عہدوں پر اپنے منظور نظر افراد کو نامزد نہیں کر سکتی ہے۔
ان باتوں کا اظہار انہوں نے نمبر داروں کے ایک کیساتھ تبادلہ خیالات
کرتے ہوئے کیا۔ وفد نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ سے کہا کہ انتظامیہ نے نمبر داروں اور چوکیداروں کو بر طرف کر کے ایک مشکوک عمل کے ذریعے نئے نمبر دار اور چوکیدار منتخب کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ ایک مخصوصی سیاسی جماعت کے اشاروں پر عمل کر کے منظور نظر افراد ان عہدوں کیلئے نامزد کرنا چاہتی ہے اور اس سارے عمل کیلئے یہ بہانہ تراشا جارہا ہے کہ بعض نمبر دار انتظامیہ کیسا تھ تعاون نہیں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے اس سارے عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے دعوے اور اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن دوسری جانب جموں و کشمیر میں ہر روز کوئی نہ کوئی نیا طریقہ کار اختیار کر کے جمہوریت کو زمین بوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمبر دار اور چوکیدار کے عہدے نچلی سطح پر بہتر تال میل کے لحاظ سے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور عوام اور انتظامیہ کےدر میان ایک پل کا کام کرتے ہیں اور ایک افسر اپنی من مرضی کسی بھی منظور نظر فرد کو نامزد کر کے اسے نمبر دار بنانے کا اہل نہیں ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر کسی جگہ نمبر دار کے انتظامیہ کیساتھ تعاون نہ کرنے کی شکایت موصول ہو رہی ہیں تو وہاں پر ایک طریقہ کار اختیار کر کے تحقیقات کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ کسی ایک یا مٹھی بھر افراد کی غلطی کی سزا آپ تمام نمبرداروں کو نہیں دےسکتے ہیں۔
ان لوگوں نے سخت ترین حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھا اور اس طرح سے انہیں بے دخل کرنا بہت بڑی نا انصافی ہو گی۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے نمبر داروں اور چوکیداروں کے وفد کو یقین دلایا کہ
وہ متعلقہ حکام کیسا تھ یہ معاملہ اٹھا کر پوری کوشش کریں گے کہ انتظامیہ اس عمل سے اجتناب کرے۔









