سوشل میڈیا پرجو سب سے بڑا عفریت ہمارے سماجی تانے بانے کو بکھیرکر رکھ رہا ہے وہ اس پر مذہب کے نام پر آنے والے نئے قسم کے مولوی ،امام ، پیر ،فقیر ،مبلغین، مواعظین ،مفتیان اور اصلی و نقلی مفکرین کا ہے ۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ سوشل میڈیا ایک بے لگام گھوڑا ہے بلکہ ایک ’سماجی ایٹمی بم‘ ہے جس نے اپنے نام کے برعکس سماج کو تتر بتر کردینے، انسان کو نکما ،ناکارہ اور بدتہذیب بنانے میں وہ وہ سنگ میل عبور کروائے ہیں جن کو ماضی قریب تک سوچنا بھی محال تھا۔ یہ سچ ہے کہ سوشل میڈیا نے خبروں کی ترسیل و اشاعت کو آسان اور تیز تر بناکر فی الواقع اس دنیا کو ایک عالمی گائوں میں بدل دیا ہے، سوشل میڈیا مظلوموں اور مقہوروں کی آواز بن رہا ہے اور جہاںجہاں مین اسٹریم میڈیا حکومتی ترغیب، تحریص یا ترہیب کا شکار ہوکر عوامی آواز کو اٹھانے کے بجائے دبانے کا کام کرتا ہے وہاں دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ہی دبی ہوئی سسکیوں، آہوں ،چنگاریوں اور آوازوں کو اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن ان مثبت حقیقتوں کےباوصف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے معاشرتی اقدار، سماجی تانے بانے اور جھوٹ و سچ کی تمیز جیسی اعلیٰ قدروں کا گویا جنازہ نکال دیا ہے۔ہٹلر کے میڈیائی وزیر گوبلز نے کہا تھا کہ جھوٹی خبر کو بار بار دہرانے سے وہ سچ بن جاتی ہے اور یہ بات بعید از حق نہیں کہ اگر اس کو سوشل میڈیا کا ہتھیار مل گیاہوتا تو وہ جھوٹی خبر کو بار بار دہرانے کے بجائےیک بارگی سچے جھوٹے ،اصلی و جعلی میڈیا اکاؤنٹز پر پوسٹ یا ٹویٹ کرنے کا ہی مشورہ دیتا۔
سوشل میڈیا پرجو سب سے بڑا عفریت ہمارے سماجی تانے بانے کو بکھیرکر رکھ رہا ہے وہ اس پر مذہب کے نام پر آنے والے نئے قسم کے مولوی ،امام ، پیر ،فقیر ،مبلغین، مواعظین ،مفتیان اور اصلی و نقلی مفکرین کا ہے ۔ خاص طور پر جب سے یو ٹیوب اور دوسرے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر مواد ڈالنے اورزیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ کر روپیہ کمانے کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے تب سے یہ مواعظین، مبلغین اور مولوی حضرات برساتی مینڈکوں کی طرح پیدا ہورہے ہیں اور ان کی اتنی زیادہ بھرمار ہوگئی ہے کہ جہاں انسان کی انگلیوں کے پود موبائل فو ن یا کمپوٹر کی بورڈ سے سہواً یا عمداً ٹکراگئے ان میں سے کسی کا چہرہ یا چیخ و پکاربصارتوں یا سماعتوں کو چیرتی پھاڑتی نظر آجاتی ہے۔اگرچہ یہ عفریت زیادہ تر جنوب ایشائی خطے میں ہی زیادہ طاقتور ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہاں لڑنے جھگڑنے کےلئے مواد باہر سے ہی آتا ہے یا درآمد ہوتا ہے۔
مہذب معاشروں میں کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کی تذلیل یا مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کیلئے اظہار رائے کی آزادی کا نام دے ۔یہ طے ہے کہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت عروج پر ہے اس لئے بہت سنبھل کر اور نپے تلے انداز میں الفاظوں کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا نے انسانیت کی جو دُرگت بنائی ہے اورہرا یرا غیرا سیاسی و مذہبی معاملات میں مفکر اور دانشور بننے سے معاشرے میں بے چینی و عدم برداشت کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دین کو سمجھنے کا خود ساختہ نظام اور طریقہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے اذہان و قلوب کو مائوف و مجروح کررہا ہے۔ حال ہی میں کشمیر کے اندر ایک واعظ جو کہ اپنے آپ کو صوفی اور درویش بھی کہلواتے پھرتے ہیںنے منبر رسول ﷺ پر ساز و سنتور کو چھڑھادیا اور پاک منبر پر قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کے بجائےموسیقی کے سات سروں سے اپنے سامعین کو واقف کرانے بیٹھ گئے۔ ان صاحب نے جو کیا سو کیا لیکن حد یہ ہے کہ سامنے بیٹھے کسی متنفس نے انہیں روکنے یا سمجھانے کی سعی نہیں کی بلکہ اس کی ویڈیو گرافی کرکے اسے سوشل میڈیا کی چینلوں کے ذریعے مشتہر کردیا گیا۔ حیرانگی توتب ہوئی جب ان نام نہاد خطیب صاحب کے طرفدار بھی سوشل میڈیا پر آکر ان کے اس قبیح فعل کو نہ صرف دفاع کرنے لگ گئے بلکہ اسے عین حق اور مطابق قرآن قرار دینے سے بھی گریزاں نہ ہوئے۔جب سوشل میڈیا پر ان صاحب کے متعلق مذید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ حضرت سوشل میڈیا پر خاصے معروف ہیں اور جابجا ان کے ویڈیو اور آڈیو کلپ اس پر موجود ہیں۔ کہیں اپنے مرید مردوزن کو لاٹھیوں اور جوتوں سے ہانکتے، تو کبھی منبر رسولؐ پر کسی مسخرے کی طرح ادھر سے اُدھر دوڑ لگانے کے بیسیوں کلپ ملاحظہ کرنے کے بعد قریب تھا کہ اسے مجنون اور دیوانہ قرار دے کر نظر انداز کردیا جاتا لیکن اسی سوشل میڈیا پر کسی صحافی کا لیا گیا ان کا انٹرویو دیکھنےکے بعد پتہ چلا کہ موصوف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیںجس کے بعد عام گمان یہی ہے کہ موصوف کسی خاص ایجنڈے پر گامزن ہوکر مسلمانوں کو انتشار زدہ کرنے کاکام سرانجام دے رہے ہیں! یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صرف یہی موصوف نہیں ہیں کہ جو سوشل میڈیا پرہمارے لئے عذاب بنے ہوئے ہیں اور بھی بے شمار مولوی اور مفتیان کرام ہیں جو اپنے اپنے مال تجارت کو فروغ و ترقی دینے کےلئے جوانوں سے لے کر بزرگوں تک کے دماغوں پر حاوی ہورہے ہیں۔ کوئی نعمانی، کوئی چستی، کوئی قادری، کوئی رضوی،کوئی عمری تو کوئی سلفی کا لبادہ اوڑھے یہ کام کرہا ہے۔ ایک دوسرے کو کافر، فاسق، فاجر، بدعتی، گناہگار اور نہ جانے جانے کیا کیا بنانے کےلئے یہ سبھی جی توڑ محنت کرتے پھرتے ہیں۔ طریقہ واردات سب کا ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی مضحکہ خیز، سنسنی خیزیا چٹخارے دار خبر ڈال دو۔ اس پر بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع کردو۔ پھر اس پر اپنی جانب سے ایک عدد فتویٰ داغ دو، ایک عدد خطبہ نہ سہی کوئی (ریل) کلپ ہی ڈال دو جس کے بیک گرائونڈ میں کچھ میوزک نما تال بھی دھیمے دھیمے انداز میں چل رہی ہو اور اپنے آپ کو مکمل طور پر صحیح اور باقی سبھی دوسروں کو مکمل طور پر غلط اور یوں باطل قرار دو۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بقول ایک لکھاری ان میٹرک فیل مولوی و مفتیان کرام کے پیچھے پیچھے چلنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ ان میں سے کوئی سنگیت کے سات سر منبر رسول ﷺ پر بیان کرے تو واہ واہی، کوئی ٹائیگر کا بچہ گود لے کر اپنی تنہائی کا مداوا کرنے کی گہار لگائے تو ’’سبحان اللہ‘‘ کے نعرئہ مستانہ، کوئی دوسرے مسلک پر تضحیک کا تیر چلائے تو تالیاں اور کوئی اپنے مخالف کو کافر و فاسق قرار دیتا پھرے تو شاباشیاں ۔ کوئی روکنے والا نہیں کوئی ٹوکنے والا باقی نہیں رہا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرمان نبویﷺ کے مصداق ہم سبھی’ گونگے شیطان‘ بن بیٹھے ہیں۔ ہمیں اپنے آنے والے کل کی فکر ہے نہ آج کی تباہی کا کوئی غم۔بس چند اوباش قسم کے نیم ملائوں کےہاتھوں اپنا دین و ایمان سونپ کر مطمئن و مامون بیٹھے ہوئے ہیں۔اقبال ؒ نے گویا اسی صورت حال کا ادارک کرتے ہوئے کہا تھا ؎
وائے!ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
تہذیب کا دامن ہاتھ میں تھامےاور شرافت کے دائرے اپنے آپ کو محدود و مربوط رکھ کر اختلافِ رائے کوئی بری بات نہیں ۔بلکہ اُلٹا یہ تو زندگی کی علامت ہے۔ لیکن جب یہی اختلاف ِ رائےضد و عناد، بغض و حسد اورگروہی تعصب تا روپ دھار کر ایک قوی ہیکل دیو کی صورت میں سامنے آبیٹھے تو اسے رحمت نہیں بلکہ اُمت کے جسد واحد میں رستے ہوئے ناسور اور سب سے بڑی زحمت ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔بقول ایک دانشور ’’حق یہ ہے کہ آج ایک چھوٹے سے طبقے کو چھوڑ کر بہ حیثیت مجموعی اُمت کا یہی حال ہوچکا ہے۔علمائے دین کے درمیان فروعات میں اختلاف ِ رائے کورحمت سمجھتے ہوئے اس کے ذریعے اجتہاد کی راہیں کھولنے کے بجائے ہم نے اپنی صفوں اور طبیعتوںمیں ضد اور ہٹ دھرمی کو جگہ دی ہوئی ہے، اس کایہ نتیجہ برآمد ہورہا ہے کہ عوامی سطح پر مختلف مسالک ومکاتب ِ فکر کے لوگ کہیںایک دوسرے سے بدظن ہیں ، کہیں ان میں طعن وتشنیع کی یک طرفہ یا دوطرفہ جنگ جاری ہے ، کہیں یہ باہم دگر خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ یہ حضرات ایک دوسرے کی عزت ریزی اور پگڑیاں اچھالنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نفرت اور عداوت کی اس حد تک آبیاری کی جارہی ہے کہ اب دین کی بنیادوں سے نابلد لوگ بھی زبان کے چٹخاروں میں اپنے مخالف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کفرتک کے فتوے صادر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں پوری اُمت عدم برداشت اور دشمنی ورقابت کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ یہ غم ناک صورت حال ہمیں کہاں لے جارہی ہے، اس بارے میں سوچنے سے ہی وحشت طاری ہوجاتی ہے۔‘‘
تہذیب کا دامن ہاتھ میں تھامےاور شرافت کے دائرے اپنے آپ کو محدود و مربوط رکھ کر اختلافِ رائے کوئی بری بات نہیں ۔بلکہ اُلٹا یہ تو زندگی کی علامت ہے۔ لیکن جب یہی اختلاف ِ رائےضد و عناد، بغض و حسد اورگروہی تعصب تا روپ دھار کر ایک قوی ہیکل دیو کی صورت میں سامنے آبیٹھے تو اسے رحمت نہیں بلکہ اُمت کے جسد واحد میں رستے ہوئے ناسور اور سب سے بڑی زحمت ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔
ایک اور مسئلہ دین کی خود ساختہ سمجھ بوجھ کا دعویٰ بھی ہے۔ آجکل سوشل میڈیا پر کئی ان پڑھ اور بے شمار پڑھے لکھے نیم مولوی یا پورے مولانا قرآن و حدیث کو اس کے ایک بنیادی ماخذ یعنی صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی سوچ اور سمجھ کے مطابق سمجھنے کے بجائے اپنی عقل و دانش کے گھوڑے دوڑاکر نت نئی تاویلات اور تشریحات کرنے لگ بیٹھے ہیں۔ ظاہر ہے سوشل میڈیا ان کےلئے بھی ایک آسان سہولت کار بن گیا ہے جہاں پر اپنے خیالات اور تشریحات ڈال کر یہ لوگ پہلے سے ہی منتشر اُمت کو مذید انتشار و افتراق کا شکار بنادینے میں منہمک ہوجاتے ہیں۔ یوں ایک دین کامل جو کل عالم کےلئے رحمت و رافت بن کر آیا تھا ، ان نام نہاد مصلحین کے ہاتھوں میں پہنچ کر عوام الناس کےلئے انتشارکے سوا کچھ نہیں رہتا۔ سوشل میڈیا جس کوہم اُمت کی اندرونی صفوں میں استحکام پیدا کرنے، مسالک اور مذاہب کے درمیان بات چیت اور گفت و شنید کی گنجائش نکالنے کے لیےبہترطور پراستعمال کرسکتے تھے لیکن شومئی تقدیر کہ ہم نےموجودہ زمانے کی اس انقلابی ایجاد کو بھی ایک دوسرے کا گریباں پکڑنے اور اپنے آپ کوہی’’ حق‘‘ اور باقی سبھی مسالک کو ’’باطل‘‘ قرار دینے کے لیے بے دریغ استعمال کیا ہے اور کررہے ہیں۔صحیح و موزوں دین اور سوچ اختیار کرنے کے بجائے ہم دین کی من پسند تشریح اورایک دوسرے کے تئیں جیو دو اور جینے دو کے بجائے تخریب و تنقیص کا انداز اپنائےجارہے ہیں۔اس کا اندازہ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والے ذی ہوش صارفین کو آج کل بخوبی ہورہا ہوگا۔
گزشتہ کئی برس سے بالعموم اور پچھلے کچھ عرصے سے بالخصوص جموں وکشمیر میں مسلکی منافرت اور باہمی رقابت کو ہوا دینے کی’ مسلسل اورمنظم‘ کوششیں ہورہی ہیں۔ مختلف فکر اور سوچ کے حامل کشمیری مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف لاکھڑا کرنے اورانہیں آپس میں دست و گریباں کرانے کی گھناؤنی سازشیں رچارہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جہاں ہمیںدین پسندی، ملّی وحدت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے ان تمام سازشوں کو سمجھنے ،بے نقاب کرنے ، ناکام بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے تھا ، اُلٹا ہم ہی ان کا شکارہی ہوتے جارہے ہیں۔آخر کب ہم لوگ سمجھیں گے اور کب ہماری عقل ہوش کے ناخن لے گی۔ کہتے ہیں کہ تاریخ کے اوراق ہمیں حال کے احوال اور مستقبل کے اطوار کو سنبھلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔کیا ہمیں اپنی تاریخ کے وہ سیاہ اوراق یاد نہیں کہ جب ہم نے مسلک کی لڑائی کے چلتے تاتاریوں کو شہر ’رے ‘ پر قابض ہونے اور بلالحاظ مسلک و مشرب سبھی مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کی ازخود دعوت دی تھی ۔ کیا ہم وہ دن بھول گئے کہ جب مسلک کے اختلاف کو انتشار میں بدلنے کی وجہ سے ہی ہم پر چنگیز خانی قوتوں کا قہر ٹوٹ پڑا تھا جس نے بغداد و سمرقندکے ملائووں کی کج بحثی کے چلتے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی۔کیا ہم بھول گئے ہیں کہ مسلک کے ہی جھمیلے میں پڑ کر کس طرح سے قرامطہ نے کعبہ مکرم پر چڑھائی کرکے حجر اسود تک کو اُکھاڑ لیا تھا اور کس طرح سے مصر کے مسلم فاطمیوں نےعیسائی صلیبی فوجیوں کی مدد کرنے کےلئے فاتح بیت المقدس صلاح الدین ایوبی کا راستہ روکنے کی جسارت کی تھی۔
آخر ہماری عقل و دانش پر کون سا پردہ پڑا ہوا ہے جس نے ہماری ساری سمجھ بوجھ کی طاقت کو ہی مائوف کردیا ہے۔ہم کیوں کر اپنی تاریخ سے کچھ سبق حاصل نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا پر مچی موجودہ ہڑبھونگ اور آئے روز نئے مولویوں کی آمد و رفت ،ان کے نت نئے فتوے، ڈرامے اور محفلیںایک طرف اور دوسری جانب یہاں مسلکوں یا سیاسی سماجی ناموں پر موجود مذہبی انجمنوں ،ان سے وابستہ علمائے کرام، مشائخ اور مولانا حضرات اور ان کی انتظامیہ کا اس رستے ناسور پر قابو پانے کی عدم توجہی یا نیم دلانہ توجہ ،ہمیں کیا بتاتی ہے۔ کیا ہماری مذہبی جماعتیں اور انکے مستند و معتبر علمائے کرام سوشل میڈیا پر موجود اس غلاظت سے واقف نہیں ہیں۔ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ الحمد للہ یہ معتبر علمائے کرام اور دینی جماعتیںبھی سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ ان دو نمبریوں کو قابو کرنے میں ناکام ہیں۔ کہیں اسکی وجہ یہ تو نہیں کہ یہ معتبر علمائے کرام اور دینی جماعتیں ان سے خائف یا پھر ان کا وقتی فائدہ اٹھانے کی فراق میں رہتے ہوں۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کشمیر کی دینی جماعتیں بظاہر و باہر سوشل میڈیا پر موجود گندگی سے خوش نہیں ہیں۔ ہم نے حالیہ ایام میں بھی کچھ مستند علمائے کرام کو اس مسئلے کو ایڈریس کرتے دیکھا لیکن اس ناسور پر مکمل قابو پانے کے ضمن میں ابھی تک ہم اجتماعی طور ناکام نظر آتے ہیں۔ غالباً اس معاملے میں بھی ہماری صفوں کے اندر عدم اتحاد ہے جو ہمیں ایک ساتھ مل کراس ’کار ملا فی سبیل اللہ فساد‘ کو جڑ سے اکھاڑنےکے ضمن میں مانع بن رہا ہے۔ کشمیر کے علمائے حق کو مسلک ،مشرب اور مذہب کے سارے اختلاف سے بالاتر ہوکر ان سوشل میڈیائی خطبائے سو پر قابو پانے کی جستجو کرنا پڑے گی وگرنہ بقول اقبال ؔؒ ؎
ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں
کشمیر کی دینی جماعتیں بظاہر و باہر سوشل میڈیا پر موجود گندگی سے خوش نہیں ہیں۔ ہم نے حالیہ ایام میں بھی کچھ مستند علمائے کرام کو اس مسئلے کو ایڈریس کرتے دیکھا لیکن اس ناسور پر مکمل قابو پانے کے ضمن میں ابھی تک ہم اجتماعی طور ناکام نظر آتے ہیں۔










