موسم سرما کے کھیلو انڈیا گیمز کا تیسرا سیزن ضلع بارہمولہ کے مشہور و معروف سیاحتی مقام گلمرگ میںپانچ روز تک جاری رہنے کے بعد 14 فروری کواختتام پذیر ہوا ۔نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر نے ان کھیلوں کا افتتاح کیا۔ان پانچ روزہ کھیلوں میں ملک بھر سے ڈیڑھ ہزار سے زیادہ کھلاڑیوں نے موسم سرما کے 9 مختلف کھیل مقابلوں میں حصہ لیا۔ وہیں جموں و کشمیر نےاس بار بھی بہت سارے میڈل حاصل کیے۔ اختتامی تقریب کی صدارت وزیر مملکت برائے یوتھ امور و کھیل نسیت پرمانک نے کی۔ اُن کے ہمراہ کئی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقعے پر جہاں کھلاڑی بہت خوش نظر آرہے تھے۔وہیں اسٹیج پر شاندار موسقی نے بھی شائقین کا دل جیت لیا۔ وزیر مملکت نے بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں میڈل نقسیم کیے۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے نسیت پرمانک نے کہا کہ’’یہ صرف سرمائی کھیلوں کی شکل میں نہیں منایا گیا بلکہ سب کے تعاون سے اس سے یہاں تہوار کے طور پر منایا گیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ’’ آج جموں و کشمیر نے نئی شکل لی ہے۔ یہاں کے نوجوان اب کسی سے پیچھے نہیں ہے اور سب کھیل مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سب کا ساتھ سب کے وکاس کے لیے یہاں کھیل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اسکئیر عارف خان نے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے برس یہاں اس سے بھی بڑا ایونٹ منعقد کیا جائے گا۔ وزیر مملکت کے ہمراہ نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری پریم کمار جھا؛نوجوانوں کے خدمات اور کھیل اور سیاحت کے سیکریٹری سرمد حفیظ؛ جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل کے سیکریٹری نزہت گل؛ گلمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او کے علاوہ میجر جنرل آر کے سنگھ اور سرمائی کھیلوں کے صدر رؤف ترمبو، لائن محکموں کے افسران، کھلاڑی اور سیاح موجود تھے۔سرمد حفیظ نے اس موقع پر تیسرے کھیلو انڈیا سرمائی کھیل کو اعزاز سے نوازنے کے لئے مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور پانچ دنوں کے پروگرام کو گلمرگ کی حیرت انگیز سرزمین پر برف کا ایک جشن قرار دیا اور کہا کہ گلمرگ ملک کے سرمائی کھیلوں کی راجدھانی ہے۔شکریے کی تجویش پیش کرتے ہوئے نزہت گل نے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ گورنر کو اس انعقاد میں ان کی حمایت کے لئے شکریہ ادا کیا اور تقریب کے مہمان خصوصی کے علاوہ متعلقہ محکموں کے افسران کا اس قومی انعقاد کو کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے اور اس کے اختتام میں ان کے تعاون کے لئے شکریہ ادا کیا۔
واضح رہےاس سے قبل 10 فروری کو مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکرنے گلمرگ میں کھیلو انڈیا کا افتتاح کیا۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ وادی کشمیر پہلے پتھر بازی کے لئے جانی جاتی تھی لیکن آج سپورٹس سرگرمیوں کے لئے مشہور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار نے جموں و کشمیر کی صورتحال کو صرف تین برسوں میں تبدیل کر دیا جو پہلے 75 برسوں کے دوران بھی نہیں ہوئی تھی۔ٹھاکر کے مطابق کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں میں حصہ لینے والے ملک بھر سے کھلاڑی نہ صرف جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کریں گے بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سیاحت کو بھی فروغ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کا آغاز ملک بھر میں ایک پیغام دیتا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ اس ایونٹ کو دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے ہیں، جس سے ایک ناقابل فراموش تجربہ فراہم کرنے کی امید ہے۔اس موقع پر ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ گلمرگ موسم سرما کے کھیلوں کے لیے بہترین مرکز بننے جا رہا ہے اور کوششیں جاری ہیں اور جلد ہی’’ہم مشن کو حاصل کریں‘‘شروع کریں گے۔انہوں نے کہا جموں و کشمیر پورے ملک میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرفہرست ہے کیونکہ ’ہمارے پاس ہر گاؤں میں اسٹیڈیم اور کھیل کے میدان موجودہیں۔‘ایل جی سنہانےکہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔میگاایونٹ کے انعقاد میں کوششیں کرنے پر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے، ایل جی نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک قابل فخر تحریک ہے۔
گلمرگ میں منعقدہ کھیلو انڈیا ایونٹ میں26سونے کے تمغے،25 چاندی اور 25 کانسے کے تمغےجیت کر جموں و کشمیر نے تمغے کی فہرست میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔اس کے بعد مہاراشٹر نے 13سونے، 8چاندی اور 6کانسے کے تمغے جیتے۔ ہماچل پردیش نے 10 سونے، 14چاندی اور 7کانسے کے تمغوں کے ساتھ تیسرا مقام حاصل کیا، جبکہ فوج نے 10 سونے،10سلور اور 9کانسے کے تمغے حاصل کئے۔









