وادی کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام کے سویہ بگ علاقے میں رواں ہفتے ایک ایسا دلدوز، دردناک اور رونگٹے کھڑے کر دینے والاواقعہ پیش آیا جو شاید ہی کشمیر کی تاریخ میںکبھی پیش آیا ہو۔ یہ 7مارچ کا دن تھااوراس رات شب برات بھی تھی ،وادی کشمیر میں اس بابرکت شب کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ سویہ بگ علاقے میں 30 سالہ عارفہ جان نامی خاتون اسکے اہل خانہ کے بقول معمول کے مطابق اپنے کمپیوٹر کوچنگ سنٹر کی جانب نکلتی ہے۔لیکن اسکے بعد وہ اس رات واپس نہیں آئی۔لڑکی کی تلاش کے بعد اگلے روز لڑکی کے بھائی تنویر احمد خان مقامی پولیس چوکی میں گمشدگی کی رپورٹ درج کراتے ہیں۔اس کے بعد پولیس حرکت میں آکر لڑکی کی تلاش میں لگ جاتی ہے اور اس سلسلے میں کئی مشتبہ افراد کو بھی حراست میں پوچھ گچھ کے لئے لیا جاتا ہے،جن میں شبیر احمد وانی ولد عبدالعزیز وانی ساکنہ موہندپورہ اومپورہ بڈگام بھی شامل تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس نے پہلے تو پوچھ گچھ کے بعد شبیر کو گھر واپس جانے کی اجازت دی۔اور پھر جب دوسری بار پوچھ گچھ کے لیے بلایا ، 11مارچ کی رات کو دوران تفتیش شبیر احمد نے اس گھنونے جرم کو قبول کیا۔
یہ گھنونا جرم کوئی عام جرم نہیں بلکہ ایسا جرم تھا جو وادی میں اس سے قبل کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ اگلے روز یعنی 12مارچ کو ایس ایس پی بڈگام طاہر گیلانی نے پریس کانفرنس کے دوران رونگٹے کھڑے کر دینے والا انکشاف کیا۔موصوف ایس ایس پی نے بتایا کہ مجرم شبیر نے خاتون کو قتل کرنے کے بعد اس پر پردہ ڈالنے کےلیے اسکے جسم کے اعضاء تک کاٹ دئے۔ان کا مذید کہنا تھاکہ اس کے بعد شبیر نے خاتون کا سر تن سے جدا کیا، اسکے بعد بازو اور ٹانگیں الگ کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے مجرم کی نشاندہی پرتلاشی کے دوران مکان کے احاطے میں ٹانگیں ، بازو پانی کی ٹنکی میں سےاور باقی جسم سبدن ریلوےپل کے نیچے سے برآمد کیا۔تاہم ضلعی پولیس سربراہ کی جانب سے اس واقعہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس گھنونے جرم کو انجام دینے کے مقاصد ابھی تک نہیں بتائے گئے۔
اس واقعے نے سویہ بگ کے ساتھ ساتھ پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا۔واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے اور تادم تحریر سویہ بگ میں دکانیں پچھلے چار روز سے بند رہیں۔ دوسری طرف سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مقتولہ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ شبیر ایسا گھناونا جرم انجام دے سکتا ہے۔مقتولہ کے بھائی شوکت احمد کا کہنا تھا کہ شبیر مستری کا کام کرتا ہے اور وہ انکےہاں گزشتہ سال تک آتا جاتا رہتا تھا اور ایک سال تک اس نے بھی شبیر کےساتھ مستری کا کام کیا۔اس دوران شبیر مقتولہ خاتون کےلیے کسی لڑکے کا رشتہ لے کر آیا لیکن عارفہ(مقتولہ) نے اس رشتہ سے منع کر دیا۔بعدمیں گھروالوں نے عارفہ کارشتہ دوسری جگہ طےکیا اور رواں سال اگست میں شادی بھی ہونے والی تھی۔شوکت کا کہنا ہے جب ہم نے اسے رشتہ نہیں دیا تو وہی بات اسے کھٹکی ،جس کے بعد اس نے عارفہ کے گھر آنا بند کر دیا۔لیکن انکے مطابق انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔
شبیر احمد وانی کی عمر 50 سال کے قریب بتائی جارہی ہے، اسکے دو بیٹے ہیں اور دونوں طالب علم ہیں جبکہ اسکی بیوی کینسر کی مریض ہے اور اس نے اسے میکے چھوڑ دیا ہے۔
دریں اثنا ڈی سی بڈگام ایس ایف حمید اور ایس ایس پی بڈگام ظاہر گیلانی نے لواحقین کے گھرجا کر تعزیت کی اور ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا وعدہ دیا۔ادھر سیاسی جماعتوں سے وابستہ لیڈران نے بھی سویہ بگ جا کر لواحقین سے تعزیت کیا۔اس واقعہ کے بعد پوری وادی میں غم وغصہ پایا جارہا ہے اور لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس گھنونے جرم کو انجام دینے والے شخص کو پھانسی دی جائے تاکہ آنے والے وقتوں میں اس طرح کا کوئی جرم کرنے کا کوئی سوچ بھی نہ سکے۔
واضح رہے وادی کشمیر میں آئے روز اب ایسے واقعات سننے کو مل رہے ہیں۔ اس دردناک واقعہ سے کچھ روز قبل ہی بڈگام کے نصراللہ پورہ میں ایک سرکاری ملازم کو دوسرے شخص نے جسم میں چھری گھونپ کر موت کی ابدی نیند سلا دیا۔ایس ایس پی بڈگام نے کہا کہ دراصل دونوں افراد کے ایک ہی لڑکی سے تعلقات تھے جس پر ان میں آپسی جھگڑا ہوا اور بھیانک نتیجے پر ختم ہوا۔وہیں اسی دوران سرینگر شہر کے کرفالی محلہ نواب بازار سے اسی طرح کی دلخراش خبرموصول ہوئی ہے ۔مذکورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شادی شدہ شخص کو نوگام علاقے میں ایک روز قبل پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا۔











