• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جنوری ۲۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
جموں وکشمیر : نوجوان نسل میں اُردو کُتب بینی کا گھٹتا رحجان

فائل فوٹو

جموں وکشمیر : نوجوان نسل میں اُردو کُتب بینی کا گھٹتا رحجان

غازی سہیل خان

by امت ڈیسک
16/03/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

کتاب ایک انسان کی بہترین دوست ہے وہ چاہے دنیا کی کسی بھی زبان میں لکھی گئی ہو ۔لیکن رفتہ رفتہ نئی نسل جیسے جیسے جدید ٹیکنالوجی سے نزدیک ہوتی گئی ویسے ویسے کتاب اب نئی نسل کو دشمن لگنے لگی اور اس نسل نے انٹرنیٹ کو ہی اپنا دوست بلکہ چند نے تو شریک حیات کا درجہ عطا کر دیا ہے ۔جس کی وجہ سے عصر حاضر میں کتابوں اور لائبریوں کی جگہ انٹرنیٹ ،موبائل فون اور سوشل میڈیا نے لے لی ہے ۔عمومی طور بات کرنا تو دور کی بات ہے یہاں کی تعلیمی دانشگاہوں میں بھی مطالعہ کا ذوق نہیں اور نہ ہی اساتذہ کی طرف سے طلبہ کے لئے مطالعہ کی تڑپ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ایک ادبی محفل میں ایک پروفیسر صاحب نے مطالعہ کے گھٹتے رحجان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر یونیورسٹی جو کہ جموں وکشمیر کی سب سے بڑی دانش گاہ ہے‘ کے اطراف و اکناف میں لگ بھگ دو دورجن سے زائد ریستوارن اور دیگر کھانے پینے کی دکانیں موجود ہیں لیکن افسوس وہاں پر آپ ایک بھی کتابوں کی دکان نہیں پائیں گے، یعنی یہاں پڑھی لکھی نئی نسل ہوٹلوں میں کھانے پینے کو مطالعہ پر ترجیحی دیتے ہیں ۔معزز قارئین سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ کہ قومی سطح پر مطالعہ کے حوالے سے ہماری حالت کیا ہے ۔یہ تو مجموعی طور مطالعہ کی بات ہوئی، اب نئی نسل میں چند طلبہ اور نوجوان اگر پڑھتے بھی ہیں تو وہ انگریزی میں ہی پڑھنا پسند کرتے جس کی وضاحت میں کرنے جا رہا ہوں ۔ایک بات میں یہاں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم کسی زبان کے خلاف نہیں ہیں تاہم اپنی قومی ،مذہبی ،رابطے کی زبان کو چھوڑ کر کسی اور زبان ہی کو ترجیحی دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف سمجھتا ہوں ۔

گذشتہ دنوں ہمارا گُزر سرینگر کے گنجان ترین علاقے جسے کشمیر کا دل بھی کہتے ہیں یعنی لال چوک سے ہوا اور وہاں ریڑی پر ایک نوجوان کو کتابیں فروخت کرتے ہوئے دیکھا تو ہم نے اُن سے بات کرنی چاہی ۔ابتداً چند سوالات پوچھے جس کے جواب میں اُس کُتب فروش نوجوان کا کہنا تھا کہ ’’سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال سے نوجوان اب کتابیں کم ہی پڑھتے ہیں ۔‘‘ ابھی ہم بات جاری ہی رکھے ہوئے تھے کہ اس دوران میرے ایک ساتھی کی نظر جب اُس کے کتابوں کی ریڈی پر پڑی تو ہم یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ اس کی کتابوں کی ریڈی پر اُردو کی کوئی کتاب برائے فروخت نہیں تھی۔ میں من ہی من میں سوچنے لگا کہ جس ریاست کی سرکاری زبان اُردو ہے ،جہاں کی آبادی کا اسی فیصد سے زائد اسلامی لٹریچر کا خزانہ ہے ،جہاں اُردو رابطے کی زبان ہے، جہاں کی صحافت اُردو میں ہی ہوتی ہووہاں کے بازاروں میںاب اُردو کی کتابیں شاید نایاب ہونے جا رہی ہیں۔ اللہ نہ کرے!اس کی وجہ جاننے کے بعد موصوف کتب فروش نے کہا کہ دو سال قبل ہی میں نے اُردو کتابوں کو فروخت کرنابند کر دیا ہے کیوں کہ نوجوان اگر کوئی مجبوراً پڑھنا بھی چاہیے گا تو وہ انگریزی کتاب کو ہی ترجیح دیتا ہے ۔مزید کہا کہ لوگوں میں سرے سے ہی پڑھنے کا رحجان کم ہو گیا ہے، جب سے یہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کا استعمال زیادہ ہونے لگا ۔آج کل ہم مارکیٹ کے لحاظ سے بھی کافی کم قیمت میں کتابیں بیچتے ہیں کہیں ہم پچاس فیصد سے زائد بھی کتابوںمیں رعایت دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی لوگ پڑھنے کے لئے آمادہ نہیں ہو رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اس کتب فروش نے کہا کہ میرے خیال میں اب جموںو کشمیر کے اسکولوں میں اُردو کو کم ہی پڑھایا جا رہاہے بلکہ چند جگہوں پر جان بوجھ کر اس زبان کو نظر انداز ہی کیا جا رہا ہے، یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہم نے اُردو کتابیں فروخت کرنا بند کر دی ہیں ۔موصوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج سے پہلے محض پانچ سال ہم بہت زیادہ تعداد میں اُردو کی کتابیں بیچتے تھے اور لوگ پڑھتے بھی تھے لیکن اچانک معلوم نہیںنوجوان قارئین اُردو سے انگریزی کی اور شفٹ کیسے ہو گیے۔میری اپنی ذاتی رائے کے مطابق بھی آج کل کی نئی نسل اُردو زبان پر انگریزی کو ترجیح دیتی ہے ،اور اُردو اب زیادہ تر مذہبی طبقہ ہی پڑھنا پسند کرتا ہے۔ اس مذہبی طبقے میں بھی ایک ایسا گروہ ہے جو دیگر مسالک کے خلاف مواد جمع کرنے کے لئے اُردو کی قدیم مذہبی کتابوں کا سہارا لے کر اُن کو غلط ٹھرانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ،وہیں چند لوگ جو کہ اُردو سے وابستہ ہیں یا جو اس زبان کے ذریعے روزگار کماتے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کو اس زبان کو پڑھنے کی ترغیب نہیں دیتے۔ ایک بڑی وجہ میرے نزدیک یہ بھی ہے کہ ہر کسی حکومت نے آج تک اُردو دشمنی کا ہی ثبوت دیا اور اس زبان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر کے اس میٹھی اور پیاری زبان کو اس حال پر پہنچا دیا ہے ۔

اس سلسلے میں راقم نے چند تجزیہ نگاروں ،اسکالروں ،اور صحافیوں سے اُردو زبان سے نوجوان نسل کی دوری کے متعلق جاننے کی کوشش کی جن میں سے چند کی رائے کو میں یہاں پیش کرنا چاہوں گا ۔وادی کے مشہور ماہر تعلیم اور اسلامی اسکالر ڈاکٹر شکیل شفائی کا میرے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’’یہ بات مطلقاً صحیح نہیںکہ ہماری نوجوان نسل اُردو کی طرف راغب نہیں ہے، البتہ یہ بات صحیح ہے کہ اُن کی اکثریت انگریزی کو ترجیح دیتی ہے ۔اس کی میرے نزدیک چند وجوہات ہیں :انگریزی کے ساتھ (ایسا وہ سوچتے ہیں ) اُن کا روزگار وابستہ ہے ۔اُردو پڑھنے کی صورت میں وہ یہاں کی مخصوص تقلیدی نفسیات کے تحت سوچتے ہیں کہ ہمیں پڑھا لکھا تصور نہیں کیا جائے گا۔وہ انگریزی زبان کے ذریعے اپنے تعلیم یافتہ ہونے کا رعب قائم کرنا چاہتے ہیں ۔اُن کے خیال میں اُردو صرف شعر و شاعری کا نام ہے جس سے کچھ دیر کے لئے دل تو بہلایا جا سکتا ہے البتہ اس کو مستقل موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔معاصر مغربی تہذیب کے مظاہر سے اُردو کی تہذیب میل کھاتی نہیں دکھتی لہذا انہیں محسوس ہوتا ہے گویا وہ اُردو پڑھ کے کسی پرانی دنیا میں واپس چلے گئے ہیں ۔اُردو چونکہ صرف زبان کی حد تک پڑھائی جاتی ہے دوسرے علوم کی تدریس انگریزی میں ہوتی ہے لہذا انگریزی کی طرف ان کا مائل ہو جانا قرئن صواب ہے ۔
ایسے ہی ایک اور نوجوان صحافی اور اسکالر جاوید شاہین نے راقم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ دینی رحجان میں کمی کے باعث نوجوان طبقہ اس بات سے بے گانہ ہے کہ اُردو ہماری دینی علوم کی وارث ہے ،وہیں مسلم دشمن قوتوں نے اُردو کے دامن کو مزید تنگ کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس زبان کو مذید محدود کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ،ایک المیہ برصغیر میں یہ بھی ہے کہ انگریزی زبان کو فر فر بولنے والے کو دانشور تصور کیا جاتاہے یعنی یہ ذہانت ناپنے کا ایک آلہ تصور کیا جا رہا ہے ۔

اسی طرح کا ایک سوال میں نے نوجوان محقق ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر سے جب پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’’میں سرے سے اس خیال کے ہی مخالف ہوں ،کیوں اُردو پڑھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ،کالج اور یونیورسٹی میں طلباء کی تعداد دیکھیں ۔۔۔یہ الگ بات ہے کہ سنجیدگی کم نفوس میں دکھتی ہے لیکن یہی معاملہ انگریزی پڑھنے والوں کے ہاں بھی ہے ۔‘‘

میرے استادِ محترم ڈاکٹر الطاف انجم کا کہنا تھا کہ ’’اُردو سے لگائو رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔اگر طلبہ کسی وجہ سے انگریزی کی طرف مائل ہوتے بھی ہیں لیکن عمر کے کسی پڑائو پر انہیں اُردو کی طرف رجوع کرنے کی خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے ۔اس کی وجہ ظاہر ہے جس کے لئے ہم سب اُردو کا معاملہ ہر سطح پر اُٹھاتے ہیں ۔‘‘

ایک اور محب اُردو عاصم رسول کا کہنا تھا کہ’’موجودہ تعلیمی نظام کو کچھ اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ تعلیم کا مقصد محض حصول ِ روزگار بن گیا ہے ۔ظاہر ہے اس وقت انگریزی زبان کا غلغلہ ہے ،انگریزی زبان و تہذیب پوری دنیا میں غالب تہذیب کے طور پر راج تاج کر رہی ہے ۔نیز عالمی سطح پر غالب تہذیب و زبان مقامی تہذیبوں و زبانوں کو دائرہ حصار میں لینا ،اپنا نا قابل تنسیخ حق جانتی ہے ۔اسی چیز کا مشاہدہ ہم اپنی سر کی آنکھوںسے کر رہئے ہیں ۔انگریزی میں طوطے کی رٹ میں دو چار الفاظ بولنے والا اعلیٰ تعلیم یافتہ یا قابل گردانا جاتا ہے اور اُردو زبان کو وسیلہ اظہار کرنے والے کو ہمارے سماج میں وہ اعتبار و اعتماد حاصل نہیں ہو پاتا ،یہی وہ ذہنی غلامی اور مرعوبیت ہے جس کی یہ سب کرشمہ سازی ہے ۔اس ماحول میں ہماری نوجوان نسل اپنی دینی اور ’’سرکاری‘‘زبان سے اغماض برت کر انگریزی کی طرف میلان نہ دکھائے تو اور کس چیز کی اُمید کی جا سکتی ہے ۔؟‘‘

یہ بات بھی واضح رہے کہ جموںو کشمیر کی سرکاری زبان اُردو ہے اور دفعہ 370کی منسوخی کے بعد اور بھی چند زبانوں کو یہاں سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ چند تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ بھی ایک طرح کی اُردو کے خلاف سازش ہی رچی گئی ہے ۔علاوہ ازیں آج بھی جموں وکشمیر میں سب سے زیادہ اخبارات اُردو زبان میں ہی چھپتے ہیں وہیں یہاں کے جو انگریزی کے چند بڑے مؤقر اخبارات ہیں۔ اُن کے جو نیوز پوٹلز ہیںاُن میں بھی رپورٹنگ کے دوران اُردو زبان ہی استعمال کی جاتی ہے ۔لیکن اس کے باوجود بھی یہاں کے صحافتی ادارے اور اُردو کے ذریعے روزگار کمانے والے لوگ اُردو زبان کی اہمیت و افادیت کو نوجوان نسل تک پہنچانے میں ناکام رہیں ہیں، وہیں انتظامیہ بھی اس حوالے سے سرد مہری کا مظاہرہ کرتی نظر آرہی ہے ۔اب ایسے میں اُردو زبان و ادب اور صحافت کا مستقبل کیا ہوگا وہ مجھے معلوم نہیں۔۔۔۔ تاہم میں اتنا کہوں گا کہ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اُردو زبان و ادب سے نا آشنا رکھا تو ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں ۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

سویہ بگ بڈگام دردناک واقعہ ؛ جہاں انسانیت کا جنازہ نکلا۔۔۔

Next Post

سویہ بگ بڈگام کی عارفہ کا بہیمانہ قتل؛ کیا پیرواری کی فضائے روحانی مسموم ہوچکی ہےیا ابھی تک اس کے بچنے کی کوئی امیدباقی ہے؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

برفباری سے راحت بھی، مشکلات بھی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

23/01/2026
امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

امریکہ نے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی اختیار کر لی، ہیڈ کوارٹر سے اپنا جھنڈا بھی ہٹا دیا

23/01/2026
وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

وادی میں بجلی کا لوڈ 100 میگاواٹ سے بھی کم، آندھی کے باعث 33 کے وی فیڈرز شدید متاثر

23/01/2026
خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

خراب موسم کے باعث پیر پنجال کے دونوں اضلاع میں اسکول بند

23/01/2026
جموں-سرینگر نیشنل ہائی وے بند، شدید برف باری اور بارش کی وجہ سے پروازیں متاثر

جموں-سرینگر نیشنل ہائی وے بند، شدید برف باری اور بارش کی وجہ سے پروازیں متاثر

23/01/2026
جموں و کشمیر میں تیز ہواؤں نے تباہی مچا دی، بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات

جموں و کشمیر میں تیز ہواؤں نے تباہی مچا دی، بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات

23/01/2026
Next Post
سویہ بگ بڈگام کی عارفہ کا بہیمانہ قتل؛ کیا پیرواری کی فضائے روحانی مسموم ہوچکی ہےیا ابھی تک اس کے بچنے کی کوئی امیدباقی ہے؟

سویہ بگ بڈگام کی عارفہ کا بہیمانہ قتل؛ کیا پیرواری کی فضائے روحانی مسموم ہوچکی ہےیا ابھی تک اس کے بچنے کی کوئی امیدباقی ہے؟

سرینگر میں فرضی ڈائریکٹر پی ایم او گرفتار

سرینگر میں فرضی ڈائریکٹر پی ایم او گرفتار

بڈگام میں 55 سالہ خاتون پر آوارہ کتوں کا حملہ، زخمی حالت میں اسپتال منتقل

بڈگام میں 55 سالہ خاتون پر آوارہ کتوں کا حملہ، زخمی حالت میں اسپتال منتقل

مصرمیں گدھوں کو ذبح کرکے ان کے جگرنکالے جانے کے واقعے پرخوف و ہراس

مصرمیں گدھوں کو ذبح کرکے ان کے جگرنکالے جانے کے واقعے پرخوف و ہراس

عسکریت پسندوں کی مدد فراہم کرنے والے شخض کی جائداد ضبط

عسکریت پسندوں کی مدد فراہم کرنے والے شخض کی جائداد ضبط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »